critical analysis of society issues pakistan
  • Save

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شخص نہایت خوبصورت شیروانی زیب تن کر کے سفر پر نکلا۔ اتفاقاً راستے میں اُسے ڈاکوئوں کے ایک گروہ نے گھیر لیا اور مال و اسباب کے ساتھ ساتھ اسکی شیروانی بھی قیمتی ہونے کی بناء پر اتروا لی۔محض زیر جامہ میں ملبوس لٹا پٹا مسافر کسی طرح گرتا پڑتا نزدیکی گا ئوں پہنچنے میں کامیاب ہوا۔گائوں والوں نے اسکی روداد سننے پر اُسے اپنے نقصان کے ازالے اور ڈاکوئوں کی سرکوبی کیلئے کوتوال کے پاس جانے کا مشورہ دیا لیکن مسافر کے جواب نے وہاں موجود سب لوگوں کو حیران ہونے پر مجبور کر دیا۔

“مسافر بولا: بھائیو! خدا کا شکر ہے کہ وہ شیروانی میری نہیں تھی،وہ تو میں نے کسی دوست سے ادھار لی تھی، جو گیا دوست کا گیا مجھے فکر مند ہونے کی کیا ضرورت۔ وقت آئےگا تو دیکھا جا ئے گا۔”

مسافر تو یہ بات کر کے وہاں سے چلتا بنا لیکن ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ اس مسافر کی مانند موجود ہیں، گلی ، محلے، گائوں، شہر یا ملک کی عزت کا اُن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا چنانچہ جب کبھی انکے گائوں ، نگر وغیرہ کی عزت پر حرف آئے یہ لوگ بجائے اُس پر کوئی آواز بلند کرنے کے ، بزدلوں کی مانند بِل میں چھپے یہ سوچ کر خود کو تسلی دیے رہتے ہیں کہ جب ہم پر بیتے گی تو دیکھا جائے گا۔

ایسے بزدلوں کا اگر ہمسایہ بھی مصیبت میں ہو تو بھی مدد کو نہیں آئیں گے، مدد تو دور کی بات، انہیں تو غلط کو غلط کہتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے۔ پہلے لوگ صاف دل اور صاف گو ہوا کرتے تھے چنانچہ وہ کسی بھی برائی کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے تھے ، آج جبکہ زیادہ تر لوگ دل کے میلے اور خودغرض ہیں چنانچہ وہ کسی دوسرے پر ہونے والی ناانصافی یا زیادتی پر تنقید کیا خاک کریں گے۔

مولانا جلال الدین رومیؒ ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بزدل شخص کی کسی بدمعاش نے بے عزتی کی۔ بزدل شخص کی کمر میں خنجر بندھا تھا۔ اُس نے پوچھا، یہ کس لئے باندھ رکھا ہے۔کہا اس شخص کا پیٹ پھاڑنے کیلئے جو میری بے عزتی کرے۔ بدمعاش بولا: الحمدللہ کہ میں نے تیرے ساتھ ایسا نہیں کیا۔

ہم میں سے بھی بہت سے نام نہاد حق پرستوں نے حق گوئی اور حقیقیت شناسی کے خنجر اپنی اپنی کمر میں اُڑس رکھے ہیں لیکن مجال ہے جو کبھی یہ حق گوئی اپنے ذاتی مقصد کے سوا کہیں بیان ہو جائے۔

کچھ لوگ حد سے زیادہ نرم دل اور رحم دل واقع ہوئے ہیں لیکن حیرت ہے کہ انکا رحم صرف اور صرف ظلم و زیادتی کرنے والے کیلئے ہوتا ہے۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر آج حکومتِ پاکستان زنا کی سزا سنگساری مقرر کر دے، جیسا کہ شریعت میں ہے، تو ایسے لنڈے کے ہمدردوں کی چیخیں آسمان کو چھوتی محسوس ہونگی،کہ ہائے ہائے کیا ظالم حکومت ہے اور انکے بین کی آوازیں زمین کو لرزاتی محسوس ہونگی۔

مولانا مودودی ؒ ارشار فرماتے ہیں کہ ” اہلِ ایمان کی بہترین صفات میں سے ہے کہ وہ ظالموں اور جباروں کیلئے نرم چارہ نہیں ہوتے انکی نرم خوئی اور عفودرگزر کی عادت کمزوری کی بناء پر نہیں ہوتی۔ انہیں بھکشوئوں اور راہبوں کی طرح مسکین بن کر رہنا نہیں سکھایا گیا ہوتا۔ انکی شرافت کا تقاضایہ ہے کہ جب غالب ہوں تو مغلوب کے قصور معاف کر دیں، اور جب کسی زبردست یا کمزور آدمی سے کوئی خطا سرزد ہو جائےتو اس سے چشم پوشی کریں، لیکن جب کوئی طاقتور اپنی طاقت کے زعم میں دست درازی کرےتو ڈٹ کر کھڑے ہو جائیں اور اسکے دانت کھٹے کر دیں۔ مومن کبھی ظالم سے نہیں دبتااور متکبر کے آگے نہیں جھکتا۔ اس قسم کے لوگوں کیلئے وہ لوہے کا چنا ہوتا ہےجسے چبانے کی کوشش کرنے والا اپنا ہی جبڑا توڑ لیتا ہے۔”

اسی طرح ایک اور موقع پر فرمایاکہ ” تنقید ہی وہ چیز ہےجو ہر خرابی کی بروقت نشاندہی کرتی اور اسکی اصلاح کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جس طرح نجاست و طہارت کی حس مٹ جانےاور صفائی کی کوشش بند ہوجانے سےایک بستی کا سارا ماحول گندا ہو جاتا ہے اور اسکی فضا ہر قسم کے امراض کیلئے سازگار ہوجاتی ہے ٹھیک اسی طرح تنقیدی نگاہ سے خرابیوں کو دیکھنے والی آنکھیں، بیان کرنے والی زبانیں اورسننے والے کان اگر بند ہو جائیں تو جس قوم میں یہ حالت پیدا ہوگی، وہ خرابیوں کی آماجگاہ بن کر رہے گی اور پھر اسکی اصلاح کسی طرح نہ ہو سکے گی۔”

حدیثِ مبارکہ ہےکہ ” تم میں سے کوئی شخص جب کسی برائی کو دیکھے تو اسے ہاتھ سے روکے، اسکی سکت نہ رکھتا ہو، تو اسے زبان سے روکے اور اگر اسکی بھی سکت نہ رکھتا ہو تو اسے ( برائی کو) دل سے برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔ ”

تنقید معاشرتی اصلاح میں جُزوِ لازم کا مقام رکھتی ہےلیکن اس بات کا خیال رہے کہ تنقید برائے تعمیر کی جائے نہ کہ اس سے کسی کی دل آزاری یا عزت اچھالنا مقصود ہو۔ چنانچہ اسی لیے اہلِ علم فرماتے ہیں کہ تنہائی میں کی جانے والی نصیحت زیادہ اثر رکھتی ہے۔ خدائے ذوالجلال ہمیں حق اور سچ کی راہ پر جمے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں