urdu-ghazal-poetry-pakistan-love-ishq-heart
  • Save

ہر شعر کا ایک پس منظر ہوتا ہے۔ مندرجہ ذیل غزل کو حب الوطنی اور روحانیت کے تناظر میں پڑھا جائے تو پڑھنے میں مزہ آئے گا۔ غزل کے آخر میں اسکی مختصر تشریح پیش کی گئی ہے۔

شفق کی سُرخی میرے خون کی لالی میں ڈھلے
زندگی اپنی جو ڈھلے ، سبز ہلالی میں ڈھلے

میرے جذبوں کی تڑپ، میرے خیالوں کی لہر
اِک نیا بحر بنے ، بحرِ مثالی میں ڈھلے

میری آسوں کی زمیں، میری اُمیدوں کا فلک
جب کبھی شام ڈھلے، سحرِ اُجالی میں ڈھلے

میں نے چاہا کہ انہی ظلم کے گہواروں میں
کوئی شاعر جو اُٹھے،  شہر کے حالی میں ڈھلے

تخیل میرے رِشتے ہیں، تصور میری ذاتیں
جب میری ذات بنے، ذاتِ خیالی میں ڈھلے

میری ہستی میں مِلا کر، میری مستی کا جنوں
جب میری خاک ڈھلے، خاکِ نرالی میں ڈھلے

اردو غزل اردو شاعری urdu poetry pakistan patriotic
  • Save
اردو غزل از محمد اطیب اسلم

جِس طرح اُفق پر موجود شفق کی سُرخی دیکھنے میں آنکھوں کو بھلی لگتی ہے اور آسمان کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے ، اسی طرح میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے وطن پر قربان ہو جائوں اور میرا خون شفق کی سُرخی کی مانند میری ارضِ پاک کی خوبصورتی میں اضافے کا باعث بنے۔میری شدید خواہش ہے کہ جب بھی میری زندگی کی شام ہو، میرا وجود سبز ہلالی پرچم میں لپٹا ہوا ہو۔

میرے جذبات جو میرے وطن کی اور وطن کے باسیوں کی ترقی کیلئے تڑپتے ہیں، میرے خیالات جو ہر پل اداس چہروں اور مسکراہٹوں کے درمیان منڈلاتے رہتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ یہ خیالات مِل کر ایک ایسا بحر، ایک ایسا دریا بنا دیں جو ہماری قوم کی نفرتوں کا دھارا موڑ کر اسے الفت کے پانیوں سے ملا دے۔

میں چاہتا ہوں کہ میری نیک امیدیں زندہ رہیں اور میرے خواب کرچی کرچی ہو کر ٹوٹنے کی بجائے اس قوم کے مستقبل میں اپنی تعبیر دیکھیں، میں چاہتا ہوں کہ میرے خواب اندھیروں میں دب کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ اُن اجالوں کا باعث بنیں جو سدا قائم رہنے والے ہوں

میری قوم کے شاعر تسکینِ نفس اور روائتی ہوس بھری عاشقی معشوقی کے قصوں کی بجائےاپنے اندر اقبال اور حالی جیسی تڑپ پیدا کریں اور قوم کی اصلاح کیلئے اپنا کردار ادا کریں

میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اور میری قوم ذات پات ، قبیلوں، قوم پرستی اور انا کی جنگ سے باہر نکلیں اور جب میری قوم کے وجود کی تکمیل ہو تو یہ خیالی چیزیں ڈھل چکی ہوں

خاکی فطرت انسان کی ہستی میں جب عشق اور جنون پیدا ہوتا ہے تو وہ آگ سے زندہ گزر جاتا ہے اور تین سو تیرہ کی تعداد کے ساتھ ایک ہزار پر فوقیت رکھتا ہے ، میں یہ چاہتا ہوں کہ مجھ خاکسار کی فطرت میں وہ جنوں پیدا ہو جو میری خاک کو افضل اور منفرد بنا دے

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں