"urdu novel" - "urdu poetry"
  • Save

 بھاگتے بھاگتے اُسکے پائوں شل ہو چکے تھے، کپڑوں پر جا بجا گرد کے نشانات تھے اور    قمیض کسی حد تک گریبان سے پھٹی ہوئی تھی ، یوں معلوم ہوتا تھا جیسے  گریبان کھینچنے کی کوشش میں   یہ حال ہوا ہو ، زرد ہوتے چہرے پر پریشانی اور تھکن کے آثار نمایاں تھے ، کلائی اور کہنی کے درمیان سے رستا خون بازو کو رنگین کرتا ہوا نیچے کی طرف  بہہ رہا تھا ، پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ اُس نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ،  اُسکی نظر بل کھاتی پگڈنڈیوں  اور  دور دور تک پھیلی ہوئی کیکر کی کانٹے دار گھنی جھاڑیوں سے الجھ کر کسی انسان کی موجودگی  سے بے خبر، ناکام لوٹ آئی تھی۔ وہ رُکا  اور  تھکے ہوئے اعصاب کو  آرام دینے کی غرض سے اپنی پھولی ہوئی سانس درست کرنے لگا۔ اس  جنگل نما ویرانے کا  اختتام ہونے کو تھا  اور سامنے اُس پتلی سی سڑک کا منظر اُبھرنے لگا تھا جو اُسکے قیاس کے مطابق خیر آباد نامی قصبے کی طرف جاتی تھی۔  تھکن سے چور جسم کو سنبھالتے ہوئے اُس نے قصبے کی طرف جانے والی سڑک پر قدم جمائے ہی تھے کہ یکایک فضا کسی گاڑی کے ٹائروں کی چرچراہٹ سے گونج اُٹھی۔ کسی ممکنہ  خطرے کے پیشِ نظر اُس نے پیچھے مُڑ کر دیکھنا چاہا لیکن  مُڑتے ہی اس کی آنکھوں کے آگے چھایا اندھیرا مزید گہرا ہوتا چلا گیا ، اس نے سر جھٹک کر اندھیرا دور کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود، وہ بے ہوش ہو چکا تھا۔

لگ بھگ چار گھنٹوں بعد اُسے ہوش آیا تو اُس نے خود کو ایک  آرام دہ بستر پر پایا،  چند فاصلے پر موجود ڈاکٹر اسکے ہوش میں آنے پر  تقریباً دوڑتا ہوا اُس تک پہنچا اور مسکراتے ہوئے بولا:

مبارک ہو سر!  اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ آپکو ہوش آگیا۔ اگر آیان صاحب  بروقت آپکو ہسپتال نہ لاتے ۔ تو  آپکی  زندگی خطرے میں پڑ سکتی تھی

:حیرت سے منہ کھولے وہ بمشکل بولا
 

“آیان صاحب کون ہیں؟ کیا آپ مجھے اُ ن سے ملوا سکتے ہیں ، میں انکا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔”

ضرور، وہ کچھ دیر تک آتے ہیں تو خود ہی آپ سے مل لیں  گے۔ آیان صاحب یہاں کی   ‘بلڈ ڈونیشن سوسائٹی ‘کے صدر ہیں، جب بھی ہسپتال میں کسی کو خون کی ضرورت پڑتی ہے، اس سوسائٹی  سے جڑے لوگ صدقہ کے طور پر  خون کا عطیہ دے دیتے ہیں۔ آپکو خون کا عطیہ خود آیان صاحب نے دیا ، کیونکہ آپکا بلڈ گروپ   بہت نایاب ہے، آپکا ایچ بی لیول 7 گرام سے بھی نیچے گر چکا تھا ، آیان صاحب نہ ہوتے تو شائد خون  ملنا بہت مشکل ہو جاتا ۔ خدا کے بعد آپکو انکا شکر گزار ہونا چاہیے۔” 

ڈاکٹر نے  سرنج میں انجکشن بھرتے ہوئے کہا۔

اُس نے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا، پوچھتا بھی کیسے ؟ مختلف سوالات اور سوچوں کی ڈوبتی  ابھرتی لہروں کے درمیان  نجانے کب اسکا ذہن نیند کی پرسکون وادیوں میں اتر گیا ، خواب آور انجکشن اپنا اثر دکھا چکا تھا۔

آنکھ کھلی تو سورج    کی کرنیں واپسی کا سفر شروع کر چکی تھیں ،کھڑکی سے آتی خُنک ہوائوں نے اسکا استقبال کیا، غالباً شام کا  وقت تھا  ۔ اب وہ  طبیعت میں کافی بہتری محسوس کر رہا تھا ،گردن گھما کر دیکھا تو ایک خوش پوش نوجوان  اسکے بیڈ کے ساتھ کرسی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ آنکھیں چار ہوتے ہی نوجوان نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے بات شروع کی 
 

  ” میرا نام آیان احمد ہے ۔ آپ بالکل سڑک کے درمیان میں چلے جارہے تھے، جب میں گاڑی میں وہاں سے گزرا۔ یہ تو شکر ہے میں نے بروقت بریک لگا لی ، ورنہ آپ اس وقت  زمینی  ہسپتال کی بجائے شائد  کسی آسمانی ہسپتال میں ہوتے۔”

اسکا لہجہ اور مسکراہٹ بتا رہی تھی کہ اپنی شخصیت کی طرح وہ خود بھی ایک خوش مزاج شخص ہے۔

قدرے بے اعتنائی سے اُس نے  آیان کا بڑھا ہوا ہاتھ تھامتے ہوئے  سنجیدگی سے کہا

” آپ  نازی ہیں یا لاشاری؟

اُسکے سوال پر چہرے پہ حیرانگی سجائے آیان کی طرف دیکھتے ہوئے وہ مزید گویا ہوا
 

  ” دراصل میرا تعلق نازی قبیلے سے ہے ، ہم کسی لاشاری کا احسان نہیں لیتے ، ان سے ہماری بہت پرانی دشمنی ہے”۔

اوہ اچھا! آپ بے فکر رہیں، میں بھی نازی ہی ہوں۔ آپ جتنے دِن بھی یہاں قیام کرنا چاہیں بے  فکر ہو کر کرسکتے ہیں

آیان نے سنجیدگی  مگر نرمی سے جواب دیتے  ہوئے کہا۔

آیان کی بات سُن کر اُس نے یوں سکون کا سانس لیا جیسے بہت بڑا بوجھ سر سے اتر گیا ہو۔
“نہیں، شکریہ، مجھے اپنے گائوں پہنچنا ہے ، میرے گھر والے میر ا انتظار کر رہے ہونگے۔

” میں آپکو روک تو نہیں سکتا ، لیکن اگر دوبارہ کبھی خیر آباد کا چکر لگے تو ملنے ضرور آئیے گا۔

آیان نے ایک کاغذ پر اپنا ایڈریس لکھ کر اُسے تھماتے ہوئے کہا۔

اور ہاں! آپ نے اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں”۔ اچانک جیسے آیان کو  یاد آیا۔

میرا نام  فریاد علی ہے”۔ اُس نے  چہرے اور لہجے کی سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا۔”
اب مجھے اجازت دیں،  بہت دیر ہو چکی ہے”۔”
اتنا کہہ کر اُس نے ہاتھ ملایا  ، ایڈریس  والا کاغذ تہہ کر کے جیب میں ڈالااور مزید کچھ کہے بغیر باہر کی جانب چل دیا۔

تقریباً تین سال بعد وہ ایک بار پھر خیر آباد میں موجود تھا۔ اس دفعہ وہ کسی کام سے آیا تھا لیکن پہنچتے ہی یکدم اسے اپنے محسن آیان احمد کا خیال آگیا۔ کسی غیبی طاقت کے زیرِ اثر ٹھیک پندرہ منٹ بعد  وہ آیان کے درج کردہ پتے پر پہنچ چکا تھا ۔
“محلہ چاند نگر گلی نمبر 3 پہنچ کر کسی سے بھی پوچھ  لینا ،وہ آپکو میر ے گھر تک پہنچا دے گا”۔   اسکے  دماغ میں آیان کا بولا ہوا فقرہ گونجا۔

   سہ پہر کا وقت تھا اور کوئی ذی روح محلے میں نظر نہیں آرہا تھا۔  چند لمحوں بعد وہ   گلی میں موجود  اکلوتی کریانے کی دوکان پر موجود تھا۔

“مجھے آیان احمد سے ملنا ہے ، کیا آپ مجھے انکے گھر تک رہنمائی کر سکتے ہیں؟”۔
فریاد علی نے ادھیڑ عمر دوکاندار سےبغیر کسی تمہید کے مخاطب ہوتے ہوئے کہا۔  

“کون آیان احمد؟ میاں کوئی حسب نسب یا نشانی بتائو   گے تو پتا چلے گا۔
” دوکاندار نے جواب دیا۔

    یہ سنتے ہی اُسکے ماتھے پر سوچ کی لکیریں نمودار ہوئیں، پھر جیسے  اُسے کچھ یاد آگیا ہو۔
  “جی ہاں! وہ یہاں کی بلڈ ڈونیشن سوسائٹی کے صدر ہیں، جو ضرورت مندوں کو خون کا عطیہ دینے کا کام کرتی ہے” ۔
فریاد علی نے اس دفعہ پرسکون لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا۔

“تو یوں کہو نا، لاشاریوں کے گھر جانا ہے۔ یہاں سے تیسرا دروازہ ہے ، وہ نیلے رنگ کا”۔
دوکاندار نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

 “لاشاری؟ ” اسکے ذہن میں دھماکے سے ہونے لگے ۔ “لیکن میں تو نازی ہوں اور آیان  نے تو خود کو نازی ظاہر کیا تھا”۔
 اسکا ذہن  لفظ “لاشاری” پر اٹک کر سوچوں کے مختلف تانے بانے بُننے لگا۔دوکان سے نکلا توقدم من من کے ہو چکے تھے۔ اسکی انا  اُسے واپس جانے پر مجبور کر رہی تھی ، ذہن عجیب و غریب خیالات کی آماجگاہ بنتا جا رہا تھا۔ بالآخر کچھ دیر شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد وہ آیان کے گھر کے دروازے پر موجود تھا۔ وہ اس گتھی کو سلجھائے بغیر واپس جانے کا ارادہ ملتوی کر چکا تھا۔

دھڑکتے دِل کے ساتھ اس نے گھنٹی پر ہاتھ رکھ دیا۔ کچھ ہی دیر بعد آیان اپنی روائتی خوش مزاجی کے ساتھ اسکے سامنے   کھڑا مسکرا رہا تھا۔

“اگر میں غلط نہیں تو میری ملاقات فریاد صاحب سے ہورہی ہے۔میں آپکو بھولا نہیں لیکن امید نہیں تھی کہ یوں اچانک آپ ہمارے غریب خانے پر قدم رنجہ فرمائیں گے۔ آئیے تشریف لائیے”۔
آیان بیٹھک کا دروازہ کھولتے ہوئے نہایت شگفتگی سے بولا۔

“آپ نازی نہیں ہیں، لاشاری ہیں۔آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟”
فریاد  اندر داخل ہوتے ہی سوالیہ انداز میں آیان سے مخاطب ہوا۔

آیان نے چپ چاپ کونے میں پڑی  کُرسی کھینچی اور   براجمان ہوتے ہوئے فریاد سے مخاطب ہوا:

” فریاد صاحب، جب آپ کو میں نے زخمی  حالت میں اہسپتال پہنچایا تو میں نے یہ نہیں سوچا تھا کہ آپ نازی ہیں یا لاشاری ،  میں نے آپ کیلئے خون کی بوتل کا انتظام کرتے ہوئے بھی آپکے نازی یا لاشاری ہونے کے بارے میں نہیں سوچا، اگر میں یہ سوچتا تو شائد آپ آج صیحیح سلامت میرے سامنے موجود نہ ہوتے” ۔
اتنا کہہ کر آیان نے ایک گہرا سانس بھرا اور بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

“فر ہاد صاحب، آپ ساری زندگی نفرتیں بانٹ کر اور دشمنیاں پال کر شائد اپنی انا کی تسکین تو کر لیں گے ، لیکن کبھی دائمی سکون اور خوشی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ میں خود ایک انجنئیرنگ فرم میں ملازم ہوں، میرا بلڈ ڈونیشن سوسائٹی تشکیل کرنے کا مقصد خدمتِ خلق تو ہے ہی ، لیکن شائد اس میں کسی حد تک میری خود غرضی بھی شامل ہے کیو    نکہ دوسروں کی مدد کرنے سے مجھے سکون ملتا ہے اور میں اس سکون کی خاطر قبیلے، قوم اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر مدد کے بہانے تلاش کرتا ہوں۔ آپکے سامنے  خود کو اُس وقت لاشاری ظاہر کر کے میں آپ کو آپکی نظروں میں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔”

وہ بولتا جا رہا تھا لیکن فریاد علی کو محسوس ہو رہا تھا کہ شائد اسکے اندر کچھ ٹوٹ رہا ہے۔ اُس نے خود کو کرچی کرچی ہو کر بکھرتے محسوس کیا، وہ کتنا کم ظرف تھا- اُس نے ایک خالص انسان کے خلوص کو اپنی کم ظرفی کے پیمانے میں تولنے کی کتنی گھٹیا کوشش کی تھی ۔

“فریاد صاحب ۔۔۔” آیان کی آواز سن کر وہ یکدم جیسے کسی طلسم سے باہر آگیا ہو۔

“آپ پر ایک خون کی بوتل کا قرض ہے اور میں چاہوں گا کہ آپ یہ قرض کسی ضرورت مند کو خون کا عطیہ دے کر اُتاریں، مجھے یقین ہے کہ آپ جیسا خوددار انسان قرض کی ذمہ داری سے بخوبی واقفیت رکھتا ہو گا اور مجھے یہ بھی یقین ہے کہ آپ  کسی کی مدد کرنے سے پہلے اُسکے نازی یا لاشاری  ہونے کے بارے میں نہیں پوچھیں گے۔”

آیان سے مل کر وہ باہر نکلا تو ایک مختلف انسان بن چکا تھا۔  اب وہ نازی یا لاشاری نہیں رہا تھا ، اسکے اندر کا انسان جاگ چکا تھا۔ ایک خون کی بوتل اُسے زندگی کے کتنے قیمتی سبق سمجھا گئی تھی ، رِشتے بھی تو بوتل میں بند  بوندوں کی طرح ہی ہوتے ہیں، جو محبت بن کر قطرہ قطرہ ٹپکتے رہیں تو کسی بھی رشتہ دار ، عزیز کی زندگی میں خوشگوار موڑ لا سکتے ہیں لیکن   نہ جانے ہم ہر ایک کو مکمل اور ہر قسم کی خامی سے پاک کیوں چاہتے ہیں  ؟ہم انسانوں کو بطورِ انسان خطا کا پُتلا تسلیم کیوں نہیں کر لیتے ؟  چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہم نسل در نسل دشمنی کی وجہ بنا دیتے ہیں  ،  شائد ہم سب میں بھی اُس ایک خون کی بوتل کی کمی ہے جو ہمارے اندر موجود نفرت کے جرثوموں کو مار کر محبت کی تعمیر  کر سکے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

ایک خون کی بوتل” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں