urdu poetry love poetry
  • Save

محبت کے دعوے بہت ہو چکے ہیں
اور جذبوں کے لاوے بہت ہو چکے ہیں

کہیں دوریوں کا یہ آغاز نہ ہو
ادب کے تقاضے بہت ہو چکے ہیں

کفن کی، دفن کی ضرورت نہیں ہے
کہ زندہ جنازے بہت ہو چکے ہیں

مجھے کوئی تھپکی ، دلاسہ دلا دو
کہ آنسو پیازے بہت ہو چکے ہیں

دِلوں کہ زخم بھی ہیں محوِ سر و تال
موسیقی، سازے بہت ہو چکے ہیں

اے دِل حوصلہ ، رات تاریک ہے
اور راز و  نیازے بہت ہو چکے ہیں

urdu poetry love by muhammad ateeb aslam
  • Save
از محمد اطیب اسلم

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں