urdu_poetry_ghazal
  • Save

درج ذیل غزل کو اگر اپنی اصلاح ذہن میں رکھ کر پڑھا جائے تو پڑھنے میں مزا آئے گا۔ آخر میں غزل کی مختصر تشریح پیش کی جا رہی ہے۔

urdu ghazal poetry
  • Save
شاعر: محمد اطیب اسلم

شاعر کہتا ہے کہ مجھے خواہش ہے کہ خدا مجھے دیکھنے والی نظر عطا فرمائے جو ظاہر کی بجائے باطن کو پہچان سکے کہ جسے اہلِ علم نے ”دلِ بینا” سے تعبیر کیا ہے یعنی ‘آنکھ رکھنے والا دِل’ ۔جب ہمیں ایسا دل عطا ہو جائے گا تو ہم خدائے ذوالجلال کے کرم سے وہ چیزیں دیکھ سکیں گے جو عام انسان نہیں دیکھ سکتا۔ جیسا کہ حدیثِ قدسی کا مفہوم ہے کہ مومن اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔

حق کہ راستے میں سچے لوگوں کو ہمیشہ ہی مشکلات ، آزمائشوں اور نفرتوں کا سامنا رہا ہے چنانچہ شاعر کہتا ہے کہ جب وہ راہِ حق کو پہچان لے تو نفرتوں سے گھبرانے کی بجائے اسے انکی عادت ہو جائے اور وہ کسی پریشانی اورگھبراہٹ کا شکار نہ ہو

طمع، لالچ، ہوس،شہرت اورطاقت کی بھوک انسان کو انسانیت کے درجے سے گرا کر حیوانیت کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے چنانچہ شاعر ایسی ہر طرح کی نفسانی خواہشات سے پناہ چاہتا ہے جو انسان کے باطن کو پراگندہ کرتی ہیں۔

اہلِ علم فرماتے ہیں کہ انسان جہاں سے ٹوٹ جاتا ہے وہیں سے اللہ کا نور اُسکے اندر داخل ہوتا ہے۔وہی ذات جس نے اس مٹی کے پُتلے کو تخلیق کیا، اسکے کرچی کرچی ہوتے وجود کو سمیٹ لیتی ہےاور مضبوط لوگوں کو نفرتیں تو کچھ نہیں کہتیں البتہ محبتیں ضرور توڑ جاتی ہیں۔ شاعر چاہتا ہے کہ اسکا ٹوٹنا اسکے لیے معرفتِ الٰہی کا سبب بن جائے۔

باطن کی روشنی جسے عطا ہوتی ہے، اہلِ علم لوگ اُسے دور اندیش تصور کرتے ہیں کیونکہ اسکی آنکھ وہ کچھ دیکھ سکتی جو عام انسانوں کے بس سے باہر ہوتا ہے، شاعر ایسی ہی دور اندیش نظر کا متمنی ہے۔

خدا کی ذات انسان کو اسکی پسندیدہ چیزوں کے نزدیک کر کے بھی آزماتی ہے اور ان سے دور کر کے بھی۔اور حالتِ غم دو دھاری تلوار کی مانند ہے، یا تو انسان اس میں رب سے جڑ جاتا ہے یا پھر شیطان سے۔ شاعر چاہتا ہے کہ اُسے دنیاوی اور فانی چیزوں کا غم غمزدہ نہ کرے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شاعر کا کمزور دل شیطان کے جھانسے میں آجائے۔

شاعر چاہتا ہے کہ اسکے نیک مقاصد میں برکت اور شدت ہو ، اسکا دل انہی نیک مقاصد کی طرف لگا رہے تاکہ اس دنیا میں جہاں ہر شخص خواہشات کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے ، اسے اپنی پرہیزگاری اور پارسائی کی سچی فکر نصیب ہو سکے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

4 تبصرے “غزل: میں چاہتا ہوں مجھے خوشبوئیں سنائی دیں

اپنا تبصرہ بھیجیں