urdupoint urdu blog pakistan
  • Save

 اگر آپ “پاکستانی ” نام کے قوم نما  ریوڑ میں شامل ہیں اور ایک عام پاکستانی معاشرے میں پلے بڑھے ہیں، آپ  کسی حد تک تعلیم یافتہ ہیں تو آ پ کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف دوسروں کو روند کر پیسہ کمانا ہے  ،اگر آپ ان پڑھ ہیں تو آُپکے لیے ہرقسم کا منافع جائز ہے ، آپ کے نزدیک صلہ رحمی ، رواداری،  آدابِ معاشرت  اور اخلاقیات محض کتابی باتیں ہیں تو مبارک ہو !نسلیں تباہ کرنے کے مشن میں آپ بھی تقریباً ٪99 لو گوں میں شامل ہیں۔

نسلِ نو کی تعمیر ، توجہ ، اجتماعیت اور مجموعی  غیرت کا تقاضا کرتی ہے لیکن آپ ہم چونکہ “ماڈرن ایج ” کے رنگ میں رنگ کر بے غیرت ہو چکے ہیں چنانچہ قومی ترقی میں حصہ ڈالنا تو ہمیں گوارہ نہیں، چلیں نسلیں برباد کرتے ہیں۔ رہن سہن اور اطوار پرانے ہو چکے ہیں ، یہاں سے شروع کرتے ہیں۔ چلیں   نئے فیشن ڈیزائن کرتے ہیں، پھٹی جینز ، تنگ ٹائٹس  اور حیا باختہ  ملبوسات  کا سہارا لے کر بے حیائی کو عام کرتے ہیں،  اپنی ہوس کی تسکین کے لیے  معاشرے کی بہنوں ، بیٹیوں کو نیلام کرتے ہیں،   اپنی دوکان چمکانے کیلئے  تہذیب و تمدن  ،ثقافت اور مذہبی اقدار کا خون کرتے ہیں ، فرقہ واریت ، صوبائیت ، کرپشن ، ناانصافی  ، بچوں کے ساتھ زیادتیاں اور نفرتوں کو عام کرتےہیں، آئیں نسلیں برباد کرتے ہیں۔

چلیں سیاست سیاست کھیلتے ہیں، آپ   انصاف انصاف چیخیں ، ہم چھٹی والے دن بھی عدالتوں سے ضمانتیں لے لیں گے ، آپ ہسپتال پر حملے کی خبریں سُن کر ماتم کریں ، ہم کالے کوٹ والے،  جشن  اور پارٹیاں منعقد کروائیں گے، کیا کہا؟ آپ پاکستان کی بات کرتے ہیں ؟ ارے چھوڑیے پاکستان کو ، آئیں نسلیں برباد کرتے ہیں ۔ چلیں تعلیم کی بات کرتے ہیں ، دنیا بھر میں سب سے زیادہ نیوز چینلز  رکھنے والا ملک ، لیکن   کسی میڈیا چینل پر بھی سائنسی ،  علمی ، فکری اور ادبی موضوع پر کوئی ایک بھی پروگرام نہیں ، کہیں نوجوان نسل کی رہنمائی کیلئے ، ملک میں تعلیم کو بہتر بنانے پر کوئی ٹاک شو نہیں ، ہاں سیاست کی بک بک اور نام نہاد  لنڈے کے دانشوروں کی غٹر غوں آ پکو ہر چینل پر ملے گی۔ کوئی اِصلاحی پروگرام نہیں ، مارننگ شوز میں آدھا کلو سفید پائوڈر منہ پر مل کر  انار کلی بازار کے تنگ پاجامے پہن کر    جسمانی نشیب و فراز  پر دعوتِ نظارہ دیتی ہوئی ‘پروگرام ہوسٹ’ کیا خاک نوجوانوں کی تربیت کا باعث بنے گی۔  چلیں چھوڑیے! آپ کو  اور ہمیں ، اس سے کیا ؟ چلیں ‘ٹِک ٹاک ‘  پر وقت گزاری شروع کرتے ہیں ، آئیں نسلیں برباد کرتے ہیں۔

سارا سارا دِ ن سوشل میڈیا پر کتے کی طرح دم ہلاتے ، ادھر ادھر منہ مارتے ، کبھی کسی کی پروفائل پر، کبھی کسی کی پوسٹ پر،زہر اگلتے ، اپنی سیاہ کاریوں کو ڈھانپتے  اور دوسروں کی خامیوں کو اُچھالتے  ، دو ٹکے کے فیس بُکی دانشور  جب معاشرے کی دگرگوں حالت اور قومی پستی کا رونا روتے ہیں ، زہر لگتے ہیں۔ لیکن انکا یہ رونا بھی سطحی اور منافقانہ ہوتا ہے کیونکہ جب عمل کرنے کی ، معاشرے، سوسائٹی  کیلئے کچھ کر دکھانے کی بات آتی ہے تو انکا نفس پھر ہلکا سا ٹہوکا دے کر ضمیر کو سُلا دیتا ہے ” کیا دیا تجھے اِس ملک نے ؟  کتابی باتیں چھوڑو ، آئو نسلیں برباد کرتے ہیں۔”

چلیں مذہب کی بات کرتے ہیں ، تیری مسجد ، میری مسجد ، سنی کی مسجد ، وہابی کی محفل ، دیوبندیوں کا محلہ ، پیلی پگڑی ، سفید پگڑی ، سبز پگڑی، مصطفوی ، مصطفائی ؛ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم لازماً خود کو دوسروں سے الگ ظاہر کریں ؟ کیا  اس نشانی کے بغیر روزِ محشر ہم  بطورِ مسلمان نہیں پہچانے جائیں گے ؟مزید آگے بڑھتے ہیں ، مہاجر کارڈ کھیلتے ہیں ، اس سے بھی آگے چلتے ہیں ؛ہم پشتون ، تم پنجابی ، ہم بلوچی ، وہ پٹھان ، ہم سندھی ، وہ پنجابی کے نعرے لگاتے ہیں،  سکولوں کو عصبیت اور انتشار کے فروغ کے اڈے بناتے ہیں ، چلیں اپنا اپنا حصہ ڈالیں کیونکہ ہم سب مِل کر نسلیں برباد کرنے چلے ہیں ۔ اور کوئی مثبت کام تو ہم مل کر نہیں کر سکتے ، ہم مل کر شعور اور آگاہی تو نہیں دے سکتے ، چلیں آئیں! نسلیں برباد کرتے ہیں۔

اگر آپ خوش قسمتی سے نسلیں برباد کرنے والوں میں نہیں تو لازماً نسلوں کی تعمیر کرنے والوں  میں سے ہونگے ۔ اس سے پہلے کہ آپ لنڈے کی دانشوری کا شکار ہو کر دِل چھوٹا کر بیٹھیں ، اپنے حصے کے پھول نہ سہی تو کچھ کونپلیں ضرور کھلا کر جائیے گا تاکہ نئی نسل کی کچھ نہ کچھ  آبیاری    ہوتی رہے  کہ بقول شاعرِ مشرق “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی” ، کوشش کریں کہ اپنے حصے کی نمی اس مٹی کو دے جائیں کیونکہ اس ملک نے ہمیں بچپن دیا، جوانی دی ،  سانس لینے کیلئے آزاد فضائیں دیں  لیکن ہم نے اس ملک کو کیا دیا؟ ضروری نہیں کہ آپ نے سرحد پر کھڑے فوجی کی طرح جان ہی دینی ہے  ، آپ اس دھرتی کا احسان یہاں کے باشندوں کو عزت، خلوص، محبت اور پیار دے کر بھی اتار سکتے ہیں۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں