urdu_poetry_urdu_articles_expressurdu
  • Save

میرے لفظوں کا تسلسل ، میرے جذبوں کی روانی
کبھی بے پناہ شدت ، کبھی دشت سی ویرانی

ہر انسان جذبات کے ساتھ ہی اِس دنیا میں آتا ہے ، یہی جذبات   لفظ ‘انسان ‘ کی تعریف کو مکمل کرتے ہیں ۔ جذبات  سے عاری مخلوقات صرف فرشتے اور شیطان ہیں ، اسی لیے اپنے اپنے جذبات کے مطابق ہم انسان بھی  فرشتہ صفت یا شیطان صفت کا روپ دھار لیتے ہیں۔ الفاظ کا جذبات سے بڑا گہرا تعلق ہے ، کبھی جذبات کو بیان کرنے کیلیے الفاظ ناکافی ہو جاتے ہیں تو کبھی اَن کہے الفاظ ،جذبات کے روپ میں ظاہر ہو جاتے ہیں۔ جب تک بچہ  اپنی زبان  میں بات کرنا نہیں سیکھتا، اسکے جذبات ، اسکی عادات، مسکراہٹوں اور قہقہوں  کے ذریعے بیان ہوتے رہتے ہیں۔ کہتے ہیں، جذبوں کی کوئی زبان نہیں ہوتی،  جذبوں کو سمجھنے کیلیے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دِل ہی کافی ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ لفظوں کا استعمال جذبات کے بیان کو کافی حد تک آسان بنا دیتا ہے۔

دنیا میں ہزاروں ، لاکھوں زبانیں بولی جاتی ہیں، جِن کے ذریعے انسان ایک دوسرے سے محبت، نفرت ، ہمدردی، غمی، خوشی ، حسد ، تکبر، رواداری  کے جذبات کا تبادلہ کرتے ہیں، لیکن  کوئی بھی زبان ایسی نہیں  جِس میں الفاظ کی مدد سے جذبے کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ مثلاً کسی کو دُکھ ہوا تو کتنا دکھ ہوا، کسی کو خوشی ہوئی تو کتنی خوشی ہوئی ، کسی کو دوسرے سے نفرت ہے تو کتنی نفرت ہے، محبت ہے تو اس محبت کو ماپنے کا پیمانہ کیا ہے ، ہم انسان کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائیں ، جذبات کی شدت کو بیان کرنے کا پیمانہ کبھی ایجاد نہیں کر سکتے۔

یوں تو   شدتِ جذبات کی ترجمانی کیلیے مختلف محاورات اور الفاظ  وقت کے ساتھ ساتھ زبانوں کی زینت بنتے رہے مگر   جذبات کی شدت ناپنے کا  تصدیق شدہ پیمانہ وہی پُرانا ہے ، جو کسی کے اعمال و اطوار سے ناپا جاتا ہے ۔ ماں کی محبت کا عمل یہ ہے کہ خود بھوکی رہ لے گی ، لیکن بچوں کو بھوکا  نہیں رہنے دے گی ، یہی عمل ماں کی اپنے بچوں سے محبت کی شدت کو ظاہر کرتا ہے ۔ شائد اسی لیے ہمارے رب نے اپنے بندوں کے ساتھ محبت کے اظہار کیلیے  ‘ماں’ کا لفظ استعمال کیا تاکہ ہم شرارتی بچوں جیسے بندوں کو ستر مائوں سے زیادہ پیار کرنے والے کی محبت کی شدت کا اندازہ ہو سکے۔

جذبات کی شدت کا اندازہ الفاظ  سے لگایا جا سکتا ہے   ۔  جذبات میں جتنی شدت زیادہ ہو گی ، الفاظ اتنا ہی شدید اثر ، سننے والے پر چھوڑ جائیں گے۔ یہ جذبات وقتی بھی ہو سکتے ہیں، لیکن انکی شدت دائمی ہوتی ہے۔   غصہ ایک وقتی جذبہ ہے ،  لیکن اسکے اظہار کی شدت  مخاطب پر دائمی اثر چھوڑ جاتی ہے ، اسی طرح محبت کے دو بول ، غمی میں بولے گئے ہمدردی کے الفاظ  اور مصیبت میں اپنوں کے چلائے گئے طنز و طعنے اپنے دائمی اثر کی بدولت ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔

 جذبات میں بڑی طاقت ہوتی ہے ، یہ چاہیں تو  لمحوں میں بیمار کو تندرست کر دیں او ر  چاہیں تو پلک جھپکنے میں اچھے  بھلے تندرست کو بیمار  کر دیں ۔ محبوب کے پیار بھرے بول سنتے ہی بخار اتر جاتا ہے ، محبوب کی قمیض کی خوشبو سے بینائی لوٹ آتی ہے اور محبوب کی محبت کی نظر دِن بھر کی تکان دور کر دیتی ہے ۔ اسی طرح منفی جذبات انسان کوگھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں، بغض، عناد ، حسد اور تکبر میں مبتلا انسان ہمیشہ بے سکونی اور ڈپریشن کا شکار رہتا ہے ،  جھگڑالو اور غصیلے لوگ اکثر بلڈ پریشر اور دِل کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

جذبات انسانی صحت پر بھی مختلف قسم کے اثرات مرتب کرتے ہیں۔  جب انسان محبت کے جذبے کے زیرِ اثر ہوتا ہے تو انسانی جسم ایڈرینالین اور آکسی ٹاسِن کے ہارمون خارج کرتا ہے ، یہ ہارمون انسان  میں خوشی اور سکون کا  احساس پیدا کرتے ہیں، اسی لیے محبت کرنے والے ، دوسروں کو خوشی دینے والے خود بھی ہمیشہ خوش اور صحت مند رہتے ہیں۔ ڈپریشن  اور مایوسی کے جذبات انسان کے مدافعتی نظام کو کمزور کرتے ہیں، چنانچہ ایسا انسان اکثر بے سکونی ، نیند کی کمی اور دیگر مختلف بیماریوں کا شکار رہتا ہے ۔

جب ہم خوفزدہ ہوتے ہیں تو ہمارا چہرہ پیلاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے ، کیونکہ خوف کی ممکنہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلیے ہمارا جسم ، چہرے کا خون بھی کھینچ کر ہمارے پٹھوں اور عضلات کو بھیج دیتا ہے۔ ہر وقت خوفزدہ رہنے والے لوگ اسی لیے کھِچے کھِچے سے رہتے ہیں۔  متکبر انسان کے بارے میں اردو کی ایک کہاوت بہت عام ہے کہ “غرور کا سر نیچا” ، معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پرانے اردو ادب کے ماہرین کو لازماً سائنس سے بھی شناسائی رہی ہو گی ، کیونکہ تکبر  ، انسان میں بڑائی کا حساس پیدا کرتا ہے ، یہ احساس دوسروں کو کمتر سمجھنے اور اُن سے دور رہنے پر مجبور کرتا ہے ، نتیجتہً  معاشرے میں رہ کر اپنے  جیسے دوسرے انسانوں سے دوری ڈپریشن، بلڈ پریشر اور دِل کی بیماریوں کا سبب بن جاتی ہے ۔

حسد کا جذبہ انسان کو اندر سے کھا جاتا ہے ، حاسد انسان دوہرے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے ،   وہ اپنا خون بھی جلا رہا ہوتا ہے اور دوسرے کی ترقی سے ناخوش بھی ہو رہا ہوتا ہے ۔ چنانچہ حسد اپنے ساتھ ناخوشی ، غمی اور افسوس کے جذبات بھی لے آتا ہے ۔ یہ سب منفی جذبات مِل کر زندگی اجیرن کر دیتے ہیں، جسمانی صحت کے معاملے میں انسان لاغر، کمزوراور بھوک کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے ۔

الغرض ، ایک پرسکون زندگی کا مثبت سوچوں اور جذبات کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے ۔ آپ روحانی اور جسمانی  طور پر خوش اور پرسکون رہنا چاہتے ہیں تو اپنے اندر اٹھتے منفی جذبات کے ہیجان کو سنبھالیے ، اور مثبت جذبات کو ابھاریے   ، انہی سوچوں اور جذبات کو قرآن نے گمان کا نام دیا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

“اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو، بعض گمان یقینا گناہ ہیں اور تجسس بھی نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم نفرت کرتے ہو اور اللہ سے ڈرو، اللہ یقینا بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔” (الحجرات-12)

مذید پڑھیں: دھرتی کا عشق

مزید پڑھیں: یہ اداسیوں کے موسم

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں