village_life_pakistan_punjab_marriage_bride_urdu_content_article
  • Save

 آمنہ کو یہاں بیاہ کر آئے ایک مہینہ ہونے کو آرہا تھا ،   اسکا خاوند اسکے ماموں کا بیٹا حماد تھا  جو ایک تعمیرا تی کمپنی میں ملازم تھا ۔  حماد  ایک متوسط  گھرانے کا چشم و چراغ تھا جبکہ آمنہ ایک غریب گھر کی لڑکی تھی۔ حماد کے ابا، چوھدری   غلام شبیر نے اپنی بہن کی وفات کے بعد  جذبات میں آکر  آمنہ کا رشتہ اپنے بیٹے کیلئے قبول کیا تھا ، جو کہ اب خود انکے اپنے لیے شرمندگی کا باعث بن رہا تھا۔ یہ جذبات بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں، ہم سے بڑے بڑے فیصلے چند لمحوں میں کروا لیتے ہیں خواہ بعد میں ان فیصلوں کا ہمیں کتنا ہی بڑا خمیازہ کیوں نہ بھگتنا پڑ جائے۔

شبیر صاحب کی شرمندگی کا معاملہ ذرا مختلف تھا، بلکہ مختلف بھی کہاں، اب تو ہر گھر میں اس طرح کی کہانیاں عام ہیں۔ انہیں  شرمندگی کا احساس دلانے کیلئے یہ سوچ ہی کافی تھی کہ آمنہ اپنے ساتھ جہیز میں کچھ نہیں لائی تھی  ۔آمنہ کے حسنِ سلوک کی بدولت سب گھر والے اسے برداشت کر رہے تھے ، پھر بھی اکثر اوقات یہ غصہ  کسی نہ کسی صورت نکلتا ہی رہتا تھا ، دِن بھر وہ سب گھر والوں کی جلی کٹی باتیں بھی سنتی ، گھریلو کام کاج بھی کرتی لیکن اسکے باوجود ہمارے معاشرے کی بہو بیٹیوں کے معاملے میں روائتی بد  مزاجی کہیں نہ کہیں آڑے آ ہی جاتی تھی، کبھی ابا کی کھانے میں کیڑے نکالنے کی صورت میں  تو کبھی  دھلے ہوئے اور استری ہوئے کپڑوں میں نقائص کی صورت میں،    جو حالات نظر آرہے تھے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کسی دِن آٹا گوندھتے ہوئے ہلنے پر بھی آمنہ پر سوال اُٹھائے جا رہے ہونگے۔ 

آمنہ کو دِل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے حماد کا  سہارا کافی تھا اور دوسرے اُسکے آنسو تھے ، بقول پروین شاکر  –  لڑکیوں کے دُکھ عجیب ہوتے ہیں، سُکھ اُس سے عجیب ، ہنس رہی ہیں مگر کاجل بھیگتا ہے ساتھ ساتھ،  بہرحال یہ بھی شکر تھا کہ حماد ایک خیال رکھنے والا شوہر ثابت ہوا، وہ ایک ٹھنڈے مزاج کا آدمی تھا ، چنانچہ  وہ اپنے گھر  کے دیگر افراد اور بیوی میں توازن قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کرتا تھا۔ حماد  کام کاج کے سلسلے میں زیادہ دیر تک گھر سے باہر رہتا تھا چنانچہ  دونوں میاں بیوی کو ایک دوسرے سے دِل کی باتیں کرنے کا موقع کم ہی ملتا تھا، خصوصاً سردیوں میں دِن چھوٹے ہونے کی بناء پر کئی کئی روز کوئی خاص گفتگو کئے بغیر گزر  جاتے تھے۔

معاشرے کے لگے بندھے رسم و رواج بھی پہلی محبت کی طرح ہوتے ہیں، انسان الجھن ہونے کے باوجود چھوڑ نہیں سکتا۔ ان رواجوں سے کٹے گا تو معاشرے سے کٹ جائے گا۔ جہیز کا ہندوانہ رواج بھی انہی الجھن بھرے رواجوں میں سے ایک ہے۔ شبیر صاحب  بذات خود اتنے لالچی طبیعت نہیں تھے کہ  جہیز کے سامان پر انکی نظر ہوتی لیکن  جاننے والوں اور رشتے داروں کی باتیں سُن سُن کر ان کے ذہن پر بھی ایک  خلش ، ایک غصہ سا چھایا رہتا تھا  اور  “لوگ کیا کہیں گے”  کا خیال انکے لیے وبالِ جان بن گیا تھا۔ دلہن خود جہیز ہے مگر نہ جانے ہم نام نہاد ثقافت کے علمبرداروں کو یہ چھوٹی سی بات سمجھ کیوں نہیں آتی ؟ کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ جہیز کی رسم تخلیق ہی نہ ہو پاتی ، کتنی ہی بہنوں کے گھر اُجڑنے سے محفوظ رہ جاتے۔

آج حماد بہت خوش تھا ،  میڈیکل رپورٹ کے مطابق آمنہ امید سے تھی اور بہت جلد انکے گھر ایک نئے مہمان کی آمد ہونے والی تھی ۔   ڈاکٹر  نے آمنہ کو سینکڑوں طرح کی پرہیز اور خوراک میں پھلوں کے استعمال پر زور دیا تھا ، لیکن ایک عام   نِچلے درجے کا متوسط گھر انہ روزانہ کی بنیاد پر اتنے خرچ کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا ،یہ ڈاکٹر حضرات بھی خود کو شائد کسی اور دنیا کی مخلوق سمجھتے ہیں، ورنہ انہیں بھی تو اس معاشرے میں بسنے والوں کی جیب نظر آتی ہے، اپنی فیس کم نہیں کر سکتے تو کم از کم  مہنگی خوراکیں  بتانے سے گریز  تو کر سکتے ہیں، شائد اس طرح غریب گھرانوں کو علاج کچھ سستا معلوم ہو۔

آ منہ کی ساس یعنی حماد کی ماں بچپن میں ہی انتقال فرما گئی تھیں، چنانچہ گھر میں ایسا کوئی نہیں تھا جو ان حالات میں آمنہ کا خیال رکھ سکتا ، ہاں حماد کی بہن  رِمشا ءضرور تھی لیکن اسے گھر  کے کام کاج سے جان چھڑانے کو ایک ہی بہانہ  کافی تھا  
                               ” بھابی آپ تو جانتی ہیں کہ میری بی ایس سی کی پڑھائی ہے   اور ابا کا حکم ہے کہ میں بس اپنی پڑھائی پر توجہ دوں”۔ رِمشا کی پڑھائی مکمل ہونے کو تھی ، شبیر صاحب اسکے لئے رِشتے دیکھ دیکھ کر تھک چکے تھے لیکن کوئی رشتہ پسند نہیں آرہا تھا ، جو پسند آتا تھا وہ جہیز کی ڈیمانڈ ہی اتنی زیادہ رکھتے تھے جو  رِمشا ءکے گھر والوں کی پہنچ سے باہر تھی۔ کچھ اس وجہ نے بھی رِمشا کو چِڑ چڑا  اور بدمزاج بنا دیا تھا ۔

   رِمشاء کے فائنل امتحانات بھی  آگئے ،   شبیر صاحب کے سجدے لمبے ہو گئے تھے انکی  عبادات کا خشوع بڑھ گیا تھا ، بیٹیاں جوان ہو جائیں تو  بے فِکری کی جگہ فکر مندی لے لیتی ہے ، یہی حال شبیر صاحب کا تھا ۔ لیکن وہ یہ بھول بیٹھے تھے کہ ایک بیٹی کا دِل تو وہ سب  بھی مِل کر دُکھا رہے تھے، شائد یہ عمل انکی زندگی میں اتنا زیادہ شامل ہو گیا  تھا کہ اب انہیں محسوس ہی نہیں ہو تا تھا کہ  کونسے الفاظ آمنہ کے دِل کو چیر جاتے ہیں اور کِن لہجوں سے اُسکے نازک جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

  بالآخر دُعائیں رنگ لائیں اور ایک دِ ن  ایک سیاہ کار شبیر صاحب کے دروازے پر آکر رُکی۔ اس میں سے ایک خوش پوش بزرگ اور ایک نفیس خاتون برآمد ہوئیں اور چند لمحوں بعد وہ ڈراائنگ روم میں شبیر صاحب کے سامنے بیٹھے تھے۔ کچھ دیر کی  تکلفانہ گفتگو کے بعد شبیر صاحب نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا      ” آپ کی جہیز کی ڈیمانڈ کیا ہے؟”    یہ سوال کرتے ہوئے انکی آنکھوں میں ایک نمی سے اترتی صاف دیکھی جا سکتی تھی۔

بزرگ اور خاتون نے انکے سوال پر خاموشی سے اور قدرے حیرت سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بڑے میاں مسکراتے ہوئے گویا ہوئے :  ” شبیر صاحب ، آپ جانتے ہیں کہ ہمارا اپنا ا مپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس ہے ، ہم نے اپنے بیٹے کو بھی اعلیٰ  تعلیم دلوائی ۔۔۔”    اتنا کہہ کر وہ سانس لینے کو رُکے ، لیکن شبیر صاحب کو  لگا کہ جیسے اُس لمحے میں صدیاں تھم گئی ہوں، اُنہیں قوی امید تھی کہ یہ لوگ ضرور کوئی بڑی ڈیمانڈ رکھیں گے۔

بڑے میاں دوبارہ گویا ہوئے   ” ہم چاہتے تو تعلیم کے بغیر بھی ہمارا بیٹا بزنس سنبھال سکتا تھا لیکن اُسے تعلیم دلوانے کا مقصد دراصل اُسکے اندر شعور بیدار کرنا تھا  تاکہ وہ معاشرے کا ایک کارآمد شہری بن سکے ، اسکے اندر اپنے جیسے لوگوں کا درد پیدا ہو سکے   اور ایسے ہی با شعور  لوگوں کی ہمیں تلاش تھی جو دولت کی ہوس کی بجائے انسانیت کو عزیز رکھتے ہیں۔ آپ نے ایک یتیم اور نے آسرا بیٹی کے سر پر ہاتھ رکھا اور اُس سے ایک روپیہ جہیز کا نہیں لیا ،  اس سے زیادہ سعادت  کی بات کیا ہو سکتی ہے ، ہم بھی آپ پر جہیز کا بوجھ نہیں ڈالیں گے ”

یہ سنتے ہی شبیر صاحب جو ذہنی طور پر کچھ اور سننے کی توقع کر رہے تھے ، یوں چونکے جیسے خوابِ غفلت سے جاگے ہوں ، انکے ذہن پر پڑی گرد اور انکی آنکھوں کے آگے چھائی دھند چھٹ چکی تھی ۔ انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ،   انکے جسم کا روم  روم سجدے میں جانے کو بیتاب تھا تب اچانک  وقت نے چپکے سے انکے کان میں سرگوشی کی    ” جِس چیز کو تم اپنے لیے زحمت سمجھتے ہو ، شائد وہ تمہارے حق میں رحمت ہو اور جِس مقام کو تم مقامِ شکوہ سمجھ بیٹھے ہو، شائد اصل میں وہ مقامِ شُکر ہو”۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں