urdu essay on emotions
  • Save

   ہر انسان قدرتی طور پر جذبات کا سمندر اپنے اندر سموئے ہوئے ہے ، مثبت بھی  اور  منفی بھی  ، جذبات وہ محرکات ہیں جو کسی انسان کو  ترقی کی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں اور پستی کی گہرائیوں میں بھی پھینک سکتے ہیں۔ جذبا ت  اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ یہ  انسان کو فرشتوں سے افضل بھی بنا سکتے ہیں اور جانوروں سے بدتر بھی ۔ جذبہء حسد بھی ان  منفی جذبات میں سے ایک ہے جس پر اگر قابو  نہ پایا جائے تو انسان اپنی اندر کی آگ میں خود ہی جھلس جاتا ہے۔ کسی دوسرے شخص کی ترقی و کامیابی پر کُڑھنا ، اور اُس سے  مقام، مرتبہ ، شہرت، دولت، علم یا عزت  چھن جانے کی خواہش کرنا ، حسد کو ظاہر کرتا ہے۔

حسد دراصل تصورات کے غلط استعمال کا نام ہے۔خیال، سوچ اور تصورات ہی انسان کے عمل کی راہ متعین کرتے ہیں۔ ہر عمل انسان کی سوچ کے تابع ہوتا ہے۔  حضرت واصف علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ “جو تیرا خیال ہے ، وہی تیرا حال ہے”۔  حاسد اپنی سوچ کو غلط رُخ دے کر وہ  سب کچھ تصور کر لیتا ہے ، جسکا حقیقی زندگی  سے کوئی  تعلق نہیں ہوتا۔ مثلاً کسی کی دولت سے حسد کرنے والا شخص اپنے تصورات میں خود کو کمتر ، غریب اور عاجز تصور کرے گا حالانکہ حقیقی زندگی   میں وہ کتنے لوگوں سے بہتر ہے ، یہ توفیق، یہ خیال اُسے نصیب  نہیں ہوتا۔   تصور ات پاکیزہ ہو جائیں ، تو اعمال سنور جاتے ہیں، اسی حقیقت کو واصف علی واصف ؒ بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “خیال کی اصلاح ہو جائے تو عمل کی اصلاح ہو جاتی ہے”۔

اشفاق احمد صاحب لکھتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ پوچھا ” بابا جی! حسد کیا ہوتاہے؟”، فرمانے لگے ، “پُتراللہ کی تقسیم سے اختلاف رکھنا”۔ حسد کرنے والے کو اپنے اوپر ربِ کریم کی عنایتیں نظر نہیں آتیں، اُسکی نظر ہمیشہ دوسروں  پر رہتی ہے ۔  اگر اپنے اوپر اللہ کی  نعمتوں کو شمار کرنا شروع کر دیا جائے تو حسد پر  قابو پایا جا سکتا ہے ، صبر و شکر کی عادت ڈال  لی جائے تو  راحت نصیب ہو سکتی ہے۔

حسد اگر جڑ پکڑ جائے تو ضروری ہے کہ دعا کے ساتھ دوا بھی کی جائے۔ ایسے میں لازم ہے کہ اُن محرکات سے گریز کیا جائے  جو حسد کو اُبھارنے کا سبب بنتے ہیں۔ اگر حسد قریبی رشتہ دار یا دوستوں سے ہے ، تو  یہ آپکے تعلق کی جان لے کر چھوڑے گا۔ کسی قریبی شخص سے حسد کی صورت میں  کوشش کریں کہ تعلق کو مرنے سے پہلے دوبارہ مضبوط بنا لیا جائے۔ جس سے حسد محسوس ہو ، اُسے زیادہ وقت دینا شروع کریں، اُسکے حالات میں دلچسی لینا شروع کریں ، اُسکے ساتھ وقت گزاریں، جتنا آپ دوسرے کے قریب ہوتے جائیں گے، حسد ، رشک میں تبدیل ہوتا جائے گا۔ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ جب بھی دل میں کسی قریبی سے متعلق جلن پیدا ہو،  اُنکے ساتھ ماضی میں گزارے گئے خوشگوار لمحات کو یاد کر لیا جائے ، گزرے ہوئے ہنسی مذاق کے واقعات کو یاد کر لیا جائے، یہ آپکی سوچوں کو مثبت  سمت لے  جانے میں  معاون ثابت ہو گا۔

ذہن کو کسی مثبت اور قابلِ عمل سرگرمی میں الجھا لیا جائے تو بھی حسد پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ منفی جذبات ہمیشہ خالی  ذہن  کی پیداوار ہوتے ہیں، فارغ الذہن لوگوں کے پاس بہترین مصروفیت دوسروں کی غیبت کرنا  اور دوسروں کی ترقی پر کُڑھنا ہے۔  چنانچہ ضروری ہے کہ اپنے لیے ایسی مصروفیت تلاش کی جائے جو آپکو ان منفی جذبات سے دور رکھے ۔ آپ کتابیں پڑھنا شروع کر دیجئے ، اہلِ علم کی مجلس میں بیٹھئے ،  زیادہ فارغ رہتے ہیں تو ورزش کو معمول بنایئے ، اگر  ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتے تو اپنے تمام   جذبات اور خیالات کو ڈائری میں لکھنے کی عادت ڈال لیجئے ، یقین کریں اس سے آپکا ذپنی بوجھ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں