creativity urdu
  • Save

عموماً ہمارے ذہن میں جب تعلیم کا لفظ گونجتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہمارے تصور ات میں شاندار نوکری ، بڑی گاڑی ، کوٹھی، دولت اور شہرت جیسی چیزیں جنم لیتی ہیں ۔یوں تو ہم میں سے ہر شخص مادیت پرستی کی دوڑ میں دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں ہے لیکن ، بہرحال ،اگر ہم آج سے پندرہ ، بیس سال پہلے کی دنیا پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہو گا کہ اُس وقت اعلیٰ تعلیم یا ڈگری کو گویا پیسہ کمانے کی چھڑی سمجھا جاتا تھا ، جس کے پاس ڈگری ہوتی تھی اسکی شاندار نوکری پکی سمجھی جاتی تھی ،   لیکن کیا آج  بھی صورتحال وہی ہے ؟ یقیناً نہیں۔ ہزاروں ڈگریوں والے بے روزگار ہیں۔ اسی چیز کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا ہم آنے والے دس یا  پندرہ سالوں کی پیش گوئی کر سکتے ہیں؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے بچے اسی تعلیمی نظام اور انہی ڈگریوں کے ساتھ آنے والے والے دور میں  کامیاب قرار پائیں گے؟

اگر ہم مشہورَ زمانہ سائنسدان، فلسفی، ایجادات اور فنون کے ماہر لوگوں کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو اندازہ ہوگا کہ وہ تو شائد آج کی تعلیم کے لحاظ سے میڑک پاس بھی نہیں تھے ، جبکہ ان میں سے اکثر و بیشتر کا بچپن انتہائی کسمپرسی کی حالت میں گزرا۔ آپ تھامس ایڈیسن سے ضرور واقف ہونگے ، جس نے دنیا کو برقی قمقموں سے روشناس کروایا ، ایڈیسن نے چار سال کی عمر میں بولنا شروع کیا  ، یہ کلاس میں اکثر غائب دماغی کا شکار رہتا ،  سکول میں موجود اساتذہ نے خط کے ذریعے اسکی والدہ کو پیغام بھیجا “آپ کا بچہ نہیں پڑھ سکتا ، برائے مہربانی اسے یہاں سے لے جائیں”۔نتیجۃً ایڈیسن  نےاپنی بنیادی تعلیم  گھر میں اپنی والدہ کی زیرِنگرانی حاصل کی ۔   اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس درجہ محرومیوں کے باوجود  انکی کامیابیوں کا راز کیا ہے اور کیا ہم  ایسے لوگ تیار نہیں کر سکتے جو نئے خیالات اور تجربات کے ذریعے ملک و قوم کیلئے فائدہ مند ایجادات و اختراعات کر سکیں؟

 اس سوال کا جواب دیتے ہوئے   برطانوی ماہرِ تعلیم ، سر کین رابنسن ،فرماتے ہیں  کہ  “ہمارے تعلیمی نظام کا واحد مقصد دراصل یونیورسٹی کے پروفیسرز تیار کرنا ہے ،  ہمیں امتحانات میں ٹاپ  کرنے والے لوگ چاہیئیں، ہمارے اسکول  ذرخیز ذہن تیار کرنے کی بجائے  کلاس کے  ٹاپرز تیار کر رہے ہیں اور ان ٹاپرز کی  اکثریت آخر میں محض پروفیسر ہی بن پاتی ہے ،اور یہی عمل دوبارہ سے شروع ہو جاتا ہے۔ اب آپ ایمانداری سے بتائیں کہ آپکے مشہور ترین لوگ، عقلمند ترین لوگ اور امیر ترین لوگوں میں سے کتنے پروفیسرز ہیں؟”۔

 انیسویں صدی سے قبل سرکاری تعلیم کا کہیں بھی نام و نشان نہیں تھا۔ انیسویں صدی میں آنے والے صنعتی انقلاب کے نتیجہ میں جب تکنیکی مہارت رکھنے والے لوگوں کی ضرورت پیش آئی ، تو سکولوں کا نظام متعارف کروایا گیا۔ اس نظام کا بنیادی مقصد صنعتوں کے ملازمین تیار کرنا تھا  چنانچہ جان بوجھ کر تکنیکی مضامین  مثلاً سائنس ، بائیولوجی اور  مکینکس میں دلکشی پیدا کی گئی اور ایک منصوبے کے تحت لوگوں میں  آرٹس اور فنونِ لطیفہ  کی مہارتوں سے بے رغبتی پیدا کی گئی،  کیونکہ  آرٹس مضامین سے جاب نہیں مِل سکتی تھی ۔ تعلیمی قابلیت کو ذہانت کا نام دے کر بچوں سے انکے پسندیدہ مضامین پڑھنے کی آزادی چھین لی گئی۔ آج جبکہ صنعتی  انقلاب کی چوتھی نسل ہم پر وارد ہونے  کو ہے  اور ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ڈگری یافتہ لوگوں کی بہتات ہو چکی ہے ،  ہم انیسویں صدی کے نظام ِ تعلیم  کو جاری رکھتے ہوئے  ترقی کی کیا امید رکھ سکتے ہیں؟ ترقی یافتہ ممالک اس چیز کو جان کر  اپنے بچوں کو  انفارمیشن ایج کی مہارتیں، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹِکس اور   الیکٹرانکس وغیرہ سِکھا رہے ہیں جبکہ ہم ابھی میں اپنے بچوں کی ذہانت کو 33  نمبروں سے ناپ رہے ہیں!

 ورلڈ اکنامک فارم کی ایک رپورٹ ‘ The Future of Jobs نوکریوں  کامستقبل ‘ کے مطابق آنے والے زمانے میں کمپنیوں کو تکنیکی مہا  رتوں کے ساتھ ساتھ ملازمین  کے اندر بیشتر  غیر تکنیکی صلاحیتوں کی بھی ضرورت ہو گی ، کیونکہ آنے والے صنعتی انقلاب کو چوتھی نسل کے صنعتی انقلاب کا نام دیا جا رہا ہے اور اس میں زیادہ تر تکنیکی کام انسانوں کی بجائے ذہین  مشینیں یعنی روبوٹس سر انجام دیں گے۔اسی تحقیق  کے مطابق 2020 میں جِن  غیر تکنیکی صلاحیتوں کی  مانگ میں اضافہ ہوا ہے ، اُن میں ‘تخلیقی صلاحیت’ تیسرے نمبر پر ہے   ،جبکہ  اس سے پہلے یہی تحقیق 2015 میں کی گئی تھی جس میں ‘تخلیقی صلاحیت’ کا نمبر دسواں تھا۔

world economic forum 2020 skills list  urdu
  • Save

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ تخلیقی صلاحیت آخر کیا بلا ہے ؟ اور کیا ہم اپنی نسلوں کو آنے والے دور کیلئےتیار کر رہے ہیں؟تخلیقی صلاحیت کو اگر سادہ الفاظ  میں بیان کیا جائے تو  ‘   کسی مسئلے کے حل کیلئے کوئی نئی چیز تخلیق کرنا یا پہلے سے تخلیق شدہ چیزوں کو کسی نئے مسئلے کے حل کیلئے بہتر طریقے سے استعمال کرنا’ تخلیقی صلاحیت کہلاتا ہے۔آ پ اندازہ  کریں کہ جِس مہارت کو باقاعدہ سکولوں  میں پروان چڑھایا جانا چاہیے ، اسکا نظام ِ تعلیم میں کہیں نام و نشان نہیں۔ ذہانت کے نام  پر یادداشت اور رٹا بازی کے مقابلوں  میں سر توڑ محنت کرنے  اور سولہ سال کی تعلیم کے بعد ہمارے نوجوان کونسا تیر مار رہے ہیں؟

 واضح رہے کہ تعلیمی قابلیت اور تخلیقی صلاحیت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ تخلیقی صلاحیت کو پروان چڑھنے کیلئے ایسے ماحول کی ضرورت  ہوتی ہے جِس میں غلطیاں کرنے کی گنجائش موجود ہو۔ ہر نئی ایجاد، ہر نئی چیز  سینکڑوں تجربات ،اغلاط اور مشاہدات کے بعد وجود میں آتی ہے ، لیکن بدقسمتی ہے ہمارے نظامِ تعلیم میں غلطی ایک ناقابلِ معافی جرم ہے ہم اپنے بچوں سے محض’صیحیح جواب’ کی توقع رکھتے ہیں ، ہم انہیں ایک ایسا سپر کمپیوٹر دیکھنا چاہتے ہیں  ، جو غلطیوں سے مبرا ہو۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہی بچے اپنے اساتذہ اور والدین کے  دبائو کے زیرِ اثر غلطیاں کرنے اور بطورِ خاص کوشش کرنے سے گھبرانے لگتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے انکی تخلیقی صلاحیت مرنا شروع ہو جاتی ہے۔

ہم اپنے دس سے پندرہ سالہ بچوں کے ڈپریشن کا شکار ہونے پر تشویش کا شکار ہیں، ہمیں طلباء میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان پر حیرت اور افسوس بھی ہے ، لیکن سب سے بڑا افسوس ہمیں خود پر ہونا چاہیے ، ہم بچے کے اندر موجود  پیدائشی فنکار کو مار دیتے ہیں، ہم اسکے ٹیلنٹ کو اپنی مادی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں۔    اگر ہم آج سے  بچوں  میں تخلیق کاری اور تجسس کو ابھارنے پر توجہ نہیں دیں گے ، تو اسکے واضح تباہ کُن  نتا ئج چند سالوں  بعد ہمارے سامنے ہونگے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں