sad urdu poetry
  • Save

غزل کا پسِ منظر:

ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں شاعری کے مقابلے کے دوران(یہ شاعری مقابلہ 15 سے 35 سال کے نوجوانوں کیلیے تھا) ہمیں مندرجہ بالا مصرع بطور ‘طرح مصرعہ ‘ دیا گیا تھا۔ طرح مصرعہ ایک ایسا فقرہ ہوتا ہے جو دراصل  کسی دوسرے شاعر کی غزل سے لیا گیا ہو اور اس سے  ایک نئی غزل بنانے کو کہا جائے۔ چنانچہ ہمیں کہا گیا کہ ہمیں “تو پھر ملے گا تو کتنا بدل گیا ہوگا” پر ایک مکمل  نئی غزل دوگھنٹے کے  اندر اندر لکھ کر جمع کروانی ہے۔

دو گھنٹوں میں جو اشعار اللہ کریم نے میرے ان ہاتھوں سے قلم کے ذریعے  صفحے پر منتقل فرمائے وہ ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ اس غزل پر  شاعری مقابلے میں مجھے ضلعی سطح پر سوم پوزیشن کے انعام  سے نوازا گیا  جو محض اللہ کا کرم ہے اور میرا اس میں کوئی کمال نہیں۔

تب تیرا دل بھی محبت سے چل گیا ہوگا
تو پھر ملے گا تو کتنا بدل گیا ہوگا

وقتِ مرہم نے بھرے ہیں تیری فرقت کے زخم
جھٹکے سے ہجر کے تو بھی، سنبھل گیا ہو گا

اب کے لگتا ہے زمانے کے تھپیڑوں کے سبب
دنیا داری میں تو کچھ اور، ڈھل گیا ہوگا

پوچھتا ہوں میں کبھی خود سے کہ شائد تجھ کو
دشتِ دنیا میں کوئی اور مل گیا ہو گا

پھر بھی امید سی اس قلب میں باقی ہے ابھی
گرمئِ حالات سے تو کچھ تو ، پگھل گیا ہوگا

بے لوث محبت کا بھی ادراک ہوا ہو گا تجھے
وفا کا پودا بھی تیرے دل میں کھل گیا ہو گا

دشتِ الفت میں میرا جاری ہے کب سے یہ سفر
اسکی حدت سے میرا دل بھی ، جل گیا ہو گا

چڑھتے جاتے ہیں سبھی کیوں ، عشق کی چوٹی کی طرف
اِس کے اُس پار کوئی، محل سرا ہو گا

گہری سوچوں میں کبھی نام میرا اُس نے لیا گر
اطیب، تیرا رقیب تو کمبخت جل گیا ہوگا

شاعر: محمد اطیب اسلم

مشکل الفاظ کے معانی:

دشتِ دنیا: دشت صحرا کو کہتے ہیں، دشتِ دنیا سے مراد دنیا ہے۔
فرقت: کسی کا ساتھ ، دوستی
زمانے کے تھپیڑے: زمانے کی سختیاں
گرمئیِ حالات: حالات کی سختیاں، مشکل وقت
بے لوث محبت: بغیر مطلب کے محبت
ادراک: احساس
محل سرا: عالیشان محل

sad urdu poetry, sad poetry in urdu

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں