pakistan_love_land_beauty_punjab_kpk_urdu_poetry
  • Save

مٹی میں بڑی ظاقت ہوتی ہے،  انسانوں کو بڑا آدمی بنانے، بڑے خواب دِکھانے میں  دھرتی کی مٹی کا بڑا کردار ہوتا ہے۔ تاریخ  کی نظر میں وہی لوگ بڑے ہیں اور ہمیشہ رہیں گے ، جنہوں نے مٹی کی محبت میں  تکلیفیں اٹھائیں، دھرتی کی چاہت میں قربانیاں دیں اور  اسکی عظمت کیلیے   راہیں ہموار کِیں۔  دھرتی  ایسے غیرت مند سپوتوں کی کاوشیں رائیگاں نہیں جانے دیتی،وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ، کبھی  ہوائوں میں انکے الفاظ کی خوشبو بسی رہتی ہے، کبھی   وہ سیاہی کے روپ میں اوراق کی زینت بنتے ہیں تو کبھی راستے کی مہک بن کر کارواں  کا رہبر بنے رہتے ہیں۔ انہی   لوگوں کے دم سے  مٹی کا بھرم  قائم رہتا ہے اور  انکی یادیں دِلوں کو لبھانے کیلے کافی رہتی ہیں۔

قدرت ہر پیدا ہونے والے  انسان کےدِ ل   میں عشق کی چنگاری ضرور پیدا فرماتی ہے، دھرتی کا عشق بھی انہی میں سے ایک ہے۔ ہر فرد قدرتی  طور پر اس جگہ سے محبت رکھتا ہے جہاں وہ پیدا ہوتا ہے، لیکن چنگاری کو ہوا دینے کیلیے موزوں ماحول کی ضرورت پڑتی ہے۔ چنانچہ اگر ماحول ،معاشرہ  اور تعلیم و تربیت دھرتی کی  آتشِ محبت کو بھڑکانے کیلیے نا کافی ہو، تو معاشرے میں لیڈر، رہنما اور اہلِ علم کی کمی واقع ہو جاتی ہے اور انکی جگہ سستی شہرت کے متوالے اپنا منجن بیچتے نظر آنے لگتے ہیں۔ عشق جنون طاری کرتا ہے اور دھرتی کا عشق ، دھرتی کی محبت میں کچھ کر دکھانے کی لگن پیدا کرے گا چنانچہ یہ ممکن نہیں کہ دِل کی چنگاری بجھ چُکی ہو اور بندہ محمد علی جناح بن جائے،عبدالستار ایدھی بن جائے، علامہ اقبال بن جائے، راشد  منہاس بن جائے ، اشفاق احمد بن جائے یا   واصف علی واصف بن جائے۔

مٹی کا قرب وحشت کو سکوں بخشتا ہے، اسی لیے مٹی کے قریب  رہنے والے لوگ پرسکون اور خوش نظر آتے ہیں، مٹی انسان کی اصلیت اور بنیاد بھی ہے، چنانچہ جو جتنا مٹی کے قریب ہو گا ، وہ اتنا ہی پر سکون  ہو گا۔ مُردے  مٹی کے اندر مٹی ہو چکے، اسی لیے قبرستان پُرسکون ہوتے ہیں اور شائد اسی لیے مٹی کے دیوانوں  ،  مٹی کے انسانوں کے عاشقوں اور  مجذوبوں کا بہترین ٹھکانا  ہوتے ہیں۔  مٹی سے دوری وحشت میں اضافے کا سبب بنتی ہے اسی لیے  ہمارے دیہات کی نسبت شہروں میں وحشت زیادہ ہے، وہاں کے طبیب بھی وحشی ہیں اور مریض بھی ، طالبِ دوا بھی وحشی ہے اور دوا دینے والا بھی۔ جہاں  بچہ بچہ وحشت کا مارا ہوا ہو، وہاں سکون کا  حصول ممکن نہیں۔

وحشت کو سکون میں بدلنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ وقتاً فوقتاً  مٹی کے  حقوق پورے کیے جاتے رہیں، دھرتی  کے عشق کو  جگہ دی جائے ، دھرتی پر رہنے والوں سے محبت کی جائے     تاکہ مثبت جذبات منفی جذبات پر غالب رہیں۔ شائد اسی لیے موت کے فوراً بعد انسان کو اسی دھرتی کے   حوالے کر دیا جاتا ہے  تاکہ اسے اسکی  بھولی ہوئی اوقات یاد آجائے۔

کسی دانشور کا قول ہے”مٹی کی پکڑ بڑی مضبوط ہوتی ہے، سنگِ مر مر پر تو پائوں بھی پھسلا کرتے ہیں”،  ہمارے ارد گرد  بھی بہت سے   چہرے  سنگِ مر مر  سی چمک رکھتے ہیں ، اسی لیے بیشتر لوگوں کے دِل ان چمکدار چہروں پر پھسل جاتے ہیں،اسی طرح بہت سی  مادی چیزوں کی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی ہے، اس چمک کے دھوکے کا شکار ہونے والے سب سے پہلے دھرتی کی چاہت سے محروم ہوتے ہیں، یہ محرومی اُن سے رفتہ رفتہ محبت، ادب ، ہمدردی اور اخوت جیسے نادر جذبات بھی چھین لیتی ہے۔   معاشرے میں بہت سے لوگ آپکو اس محرومی کا شکار نظر آئیں گے،  دولت ، شہرت رتبہ اور بڑائی کی چمک  اُن لوگوں  کو دھرتی  سے دور کر دیتی ہے ، دھرتی سے دور ہونے والے دھرتی پر بسنے والوں کیلیے بھی عذاب بن جاتے ہیں، اور  سونے پر سہاگہ یہ کہ یہ محرومی نئی نسل کو بھی منتقل ہوتی رہتی ہے۔ کیا ہی  اچھا ہوتا اگر بچوں کو شروع دن سے ہی یہ بتا دیا جاتا کہ جو  اخلاقیات، آداب، ثقافت، اخوت اور انسانی اقدار اُنہیں کتابوں میں پڑھائی جاتی ہیں وہ صرف امتحان میں پاس ہونے کیلیے ہیں، انکا اصل زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ اصل زندگی میں دھوکہ اور چمک ہی سب کچھ ہیں، شائد اس طرح کتنے ہی مجھ جیسے سادہ لوح   ، چمکدار لوگوں کا شکار ہونے سے بچ جاتے ۔

 دھرتی  والوں کا عشق اگر کامل ہو گا تو عشق والوں کی دھرتی وجود میں آئے گی، ورنہ مادیت پرستی ، ہوس پرستی اور انفرادیت پروان چڑھے گی۔ ہر مٹی کی ایک اصل، ایک خوبی ہوتی ہے۔ جس پاکستان کی مٹی   سے ہمارا خمیر اٹھایا گیا ہے، اس میں وفا اور ہمدردی  کھاد کی مانندشامل ہیں، جو شخص ان اوصاف سے محروم ہوتا جائے گا، وہ  بطورِ پاکستانی اپنی اصل سے محروم ہوتا جائے گا اور انجام کار وحشت کا شکار ہو جائے گا۔ پتنگ جب تک ڈور کے ذریعے اپنی اصل سے جُڑی رہتی ہے، وہ کتنی ہی بلند کیوں نہ چلی جائے، محفوظ رہتی ہے لیکن اگر پتنگ اپنی اصل سے کٹ جائے تو ہوائوں کے ظالم تھپیڑے اسے زمین پر لا پٹختے ہیں، ہم میں سے زیادہ تر لوگ بھی  احساس ِ برتری، تکبر، دھوکہ دہی اور فراڈ کی بلندیوں سے دھرتی پر واپس تب ہی آتے ہیں، جب زندگی کی ڈور سے کٹ چکے ہوتے ہیں۔  

پاکستان کی دھرتی سے عشق عبادت ہے، اسے عبادت سمجھ کر کریں۔ پاکستان سے محبت دراصل پاکستانیوں سے محبت ہے،پاکستانیوں سے محبت نہ کرنے والوں کو پاکستان سے محبت کی دعویداری کا حق نہیں۔ دھرتی سے عشق دھرتی والوں کے عشق کا تقاضا کرتا ہے ، یہ عشق زندہ ہے تو آپ محبِ وطن ہیں ورنہ آپکو اپنے دعوائے حب الوطنی پر نظرِ ثانی کرنا پڑے گی۔

مزید پڑھیں: یہ اداسیوں کے موسم

مزید پڑھیں: ادبی اقدار اور ہمارا معاشرہ

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں