fake_information_urdu
  • Save

 انٹرنیٹ کی سہولت نے ہمارے لیے معلومات کا حصول اس قدر آسان بنا دیا ہے کہ  آج شائد ہی کوئی شخص ایسا ہو جسے اپنے پسندیدہ موضوع سے متعلقہ مواد  انٹرنیٹ یا عرفِ عام میں ‘نیٹ’ سے  تلاش کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ہو۔ ‘نیٹ’ ہماری آفس ٹیبل سے آوارہ گردی کرتا ہوا ہماری جیبوں میں پہنچ چکا ہے، کسی بھی موضوع پر تحقیق کی ضرورت ہو، کوئی کتاب چاہیے ، تعلیم ، روزگار، آرٹس، سائنس، الغرض کسی بھی چیز سے متعلقہ مواد چاہیے؟ آپکو اب لائیبریریاں کھنگالنے کی ضرورت نہیں، الہٰ دین کے جن کی طرح’نیٹ’ کو حاضر کیجئے اور لمحوں میں اپنے متعلقہ مواد تک رسائی حاصل کر لیجئے۔

معلومات اور علم عموماً عام بول چال میں مترادف تصور کیے جاتے ہیں۔
لیکن غور کیا جائے تو  معلوم ہو گا کہ یہ  دونوں اپنی الگ الگ تعریف رکھتے ہیں ۔ کسی بھی ذریعے سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار جنہیں ہمارا دماغ سمجھ سکے   ، معلومات کہلاتا ہے۔ اعداد و شمار کا سمجھ میں  آنا لازمی ہے ورنہ وہ معلومات نہیں کہلائے گی۔ چنانچہ اگر آپ صرف اردو زبان جانتے ہیں تو  اردو کے علاوہ کسی بھی دوسری زبان میں  کہی گئی یا لکھی گئی بات آپ کے لئے معلومات کا ذریعہ نہیں بنے گی۔ میں   چینی زبان میں آپ کے سامنے ساری تاریخِ اسلام بیان کر دوں تو  اسکی مثال بھینس کے آگے بین بجانے کے برابر ہے، وجہ صاف ظاہر ہے کہ  جو زبان آپکا ذہن سمجھ نہیں سکتا ،اس میں آپ کوئی بھی معلومات حاصل نہیں کر سکتے۔

اب آتے ہیں علم یعنی نالج کی طرف۔ ایسی  مفید   اور مستندمعلومات جو تجربات اور مشاہدات کے ذریعے حاصل ہو، علم کہلائے گی۔ واضح رہے کہ علم کا مفید اور مستند ہونا شرط ہے ،اسی لیے ہم مستند معلومات کو علم کا نام دیتے ہیں، اور اپنی آسانی کیلئے ہم نے ان علوم کی مختلف شاخیں بنا دیں مثلاً سائنسی علوم ، مذہبی علوم اور معاشرتی علوم وغیرہ۔ اسکو ایک اور مثال سے واضح کرتا چلوں کہ ایک عام گاڑی مکینک بھی یہ جانتا ہے کہ پٹرول کے بغیر گاڑی نہیں چل سکتی لیکن اُسکے پاس یہ علم نہیں کہ پٹرول کس طرح جلنے کے بعد انجن کو آگے بڑھنے کیلئے قوت فراہم کرتا ہے، جن کے پاس یہ علم ہے وہ پانی کو بھی پٹرول کی جگہ استعمال کرنے کے تجربات کر رہے ہیں، اور ہم اپنے بچوں کو علم کے نام پر معلومات سے آراستہ کر رہے ہیں ! خیر۔۔۔

اگر آپ  باقاعدگی سے انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ انٹرنیٹ سے مستند معلومات حاصل کرنا بھوسے میں سے سوئی ڈھونڈنے کے برابر ہے۔ غیر مستند اور پراپیگنڈہ کرنے والی رنگ برنگی سائٹس کی اس قدر بہتات ہے کہ اگر ایک عام پڑھا لکھا شخص   کسی خاص موضوع پر ریسرچ کرنے بیٹھے تو  ایک یا دو گھنٹے میں بھی بمشکل کوئی قابلِ فائدہ معلومات حاصل کر پائےگا! غیر ضروری اور غلط معلومات کو پھیلانے میں باقی رہی سہی کسر ہمارے نام نہاد فیس بُکی دانشوروں نے پوری کر دی ہے۔ آپ اندازہ کریں کہ ننانوے فیصد فیس بُک یوزر بغیر تصدیق کئے کسی بھی پوسٹ کو آگے شئیر کر دیتے ہیں  اوریہی چیز پھر ففتھ جنریشن وار  کا  ہتھیار بھی بن رہی ہے۔

ففتھ جنریشن وار کے بارے میں آپ یہاں پر پڑھ سکتے ہیں:ففتھ جنریشن وار کیا ہے؟

مستند معلومات تک رسائی کیسے حاصل کریں؟

   یہ ذہن نشین کر لیں کہ جو ویب سائٹ آپ کے سامنے   کسی بھی سرچ کے نتیجے میں ظاہر ہوتی ہے وہ بھی آپ جیسے انسانوں کی تخلیق کردہ ہی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص آپ یا میں، کسی بھی موضوع سے متعلقہ ویب سائٹ بنا سکتا ہے اور لازمی نہیں کہ جو معلومات اُس ویب سائٹ پر شئیر کی جا رہی ہے وہ سو فیصد درست ہی ہے۔  غلط اور غیر حتمی معلومات کے جھرمٹ میں سے مستند معلومات تلاش کرنا آپکی ذمہ داری ہے ، ذیل میں چند طریقے بتائے جا رہے ہیں جن پر عمل کرنے سے آپکو مستند معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔

1. کبھی بھی کسی ایک ویب سائٹ پر بھروسہ نہ کریں۔ ایک موضوع پر ہزاروں ویب سائٹس انٹرنیٹ پر موجود ہیں، تسلی سے مختلف ویب سائٹس پر اپنا متعلقہ مواد تلاش کریں ، اگر کسی موضوع پر کوئی آفیشل ویب سائٹ موجود ہے تو آفیشل ویب سائٹ ہی وزٹ کریں۔ مثلاً پاکستان آرمی کی بھرتیوں سے متعلق معلومات کیلئے پاک آرمی کی آفیشل ویب سائٹ http://joinpakarmy.gov.pk ہے۔

2۔ ۔ اگر آپ کسی خبر یا نیوز کی سچائی کو جاننا  چاہ رہے ہیں تو اپنے ملک یا علاقے کے نیوز چینل کی آفیشل ویب سائٹ، بلاگ یا فیس بُک پیج سرچ کریں اور انہی کی دی گئی خبروں پر بھروسہ کریں۔مثلاً ایکسپریس نیوز کی آفیشل ویب سائٹ http://www.express.com.pk ہے۔

3۔ ایڈریس بار میں موجود لِنک پر لازمی  توجہ دیں۔ ویب سائٹ کے نام میں نقطے (dot) کے بعد لکھی گئی چیز کو TLD یعنی Top Level Domain کہا جاتا ہے۔ٹاپ لیول ڈومین سے بھی ویب سائٹ اور اس پر موجود موادکے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا یہ ویب سائٹ اعتبار کے قابل ہے یا نہیں۔ مثلاً http://punjab.gov.pk میں .gov.pk سے پتا چلتا ہے کہ یہ کوئی پاکستانی گورنمنٹ کی ویب سائٹ ہے

Top level domain fake information urdu
  • Save
Top Level Domain

4۔ ۔ اگر ویب سائٹ پر موجود مواد میں حوالہ جات دیے گئے ہیں تو ان حوالہ جات کو علیحدہ سے سرچ کر لیجئے تاکہ آپکو اندازہ ہو جائے کہ آیا واقعی وہ حوالہ جات درست ہیں کہ نہیں۔

5۔ مذہبی معاملات کو حتی الامکان انٹرنیٹ پر سرچ کرنے سے گریز کریں ۔ کیونکہ ایسی ویب سائٹس اگر لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں ضرور ہیں جو  طاغوت کے حواریوں نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کیلئے بنا رکھی ہیں۔ مذہبی معلومات کیلئے کسی مستند کتاب سے رہنمائی حاصل کیجئے۔ اگر آپ کسی مستند کتاب کا نام جانتے ہیں تو وہ کتاب   PDF میں ڈائنلوڈ کر لیجئے ، البتہ کسی ویب سائٹ کے مواد پر بھروسہ کرنے سے گریز کیجئے۔

6۔ جو ویب سائٹ آپ وِزٹ کر رہے ہیں ، اس پر  ویب سائٹ کے مالک کا نام  ، پتا یا رابطے  سے متعلق معلومات واضح ہے کہ نہیں؟ ایک عام شخص جو مفید معلومات لوگوں تک پہنچا رہا ہے ، کیونکر بھلا اپنے نام اور تشخص کو چھپانے کی ضرورت محسوس کرے گا؟

امید ہے یہ مضمون آپکو پسند آیا ہوگا، اگر آپ اوپر  بیان کئے گئے طریقوں کے علاوہ ویب سائٹ  کے مواد کو پرکھنےکے کسی طریقے سے واقفیت رکھتے ہیں تو کمنٹس میں ضرور شئیر کیجئے۔ جزاک اللہ۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)