5th generation war urdu 4th generation war
  • Save

آج کی اس انفارمیشن  ایج نے نہ صرف معلومات کی ترسیل کے طریقے   او ررابطے کے ذرائع  بدل دیے ہیں بلکہ   معلومات کی وسیع تر فراوانی   نے سچ اور جھوٹ کی پہچان بھی مشکل بنا دی ہے، انٹرنیٹ اور  سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ایسے مواد کی کمی نہیں جس کا حقیقت سے دور کا واسطہ بھی نہیں ، چنانچہ معلومات اور بالخصوص غیر تصدیق شدہ معلومات  کی اس  حیرت انگیز  زیادتی کی بدولت جہاں “ڈیجیٹل فراڈیے”   اپنی تمام ترہولناکیوں کے ساتھ معصوم اور  ٹیکنالوجی سے نابلد لوگوں کا شکار کرنے میں مصروف ہیں وہیں عالمی سطح پر اسے ایک خطرناک اور مہلک ہتھیار  کے طور پر بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ جی ہاں! آپکے فیس بُک اکائونٹ سے شئیر ہونے والی کوئی ایک پوسٹ   یا آپکی انسٹاگرام   پر  اپلوڈ کی گئی کوئی ایک تصویر وہ تباہی لا سکتی ہے جو کوئی مہلک سے مہلک ایٹم بم بھی نہیں لا سکتا۔

ففتھ جنریشن وار یا پانچویں نسل کی جنگ دراصل ایک “ڈِس انفارمیشن وار” ہے جو   روائتی ہتھیاروں کی بجائے میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے ۔ اس جنگ میں دشمن کو جسمانی اور مالی نقصان  پہنچانے کی بجائے اسکی سوچ پر وار کیا جاتا ہے، انفارمیشن کو غلط انداز میں پیش کر کے عوام اور فوج  میں دوریاں پیدا کی جاتی ہیں، علاقائی ، لسانی ، صوبائی او ر فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دی جاتی ہے، نفرت  انگیز مواد پھیلا کر منفی جذبات کو  ابھارا جاتا ہے اور لوگوں کو ایک دوسرے سے لڑوایا جاتا ہے اور  یوں  بالاآخرایک ملک  خانہ جنگی  اور انتشار کا شکار ہو کر   اپنے دشمن کیلیے  آسان شکار بن جاتا ہے۔

:ففتھ جنریشن وار کے ذرائع اور ہتھیار

   آپ اندازہ کریں کہ ہم میں سےننانوے فیصد لوگ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے  سامنے نظر آنے والی پوسٹ کو ہی حرفِ آخر سمجھ لیتے ہیں اور  بِلا تصدیق اسے آگے فارورڈ اور شئیر کرنا اپنا فرضِ عین سمجھ کر ہم نہ صرف جھوٹ پھیلا رہے ہوتے ہیں بلکہ انجانے میں کسی ففتھ جنریشن وار کا حصہ بھی بن  رہے ہوتے  ہیں۔ 

  زیادہ عرصہ نہیں گزرا  جب نہ کوئی پشتون تحفظ موومنٹ ہوتی تھی اور نہ ہی بلوچ لبریشن آرمی کا کوئی وجود تھا ۔  اچانک سے ایسا کیا ہوا کہ اس طرح کی ہزاروں نہیں تو سینکڑوں تنظیمیں وجود میں آگئیں؟     میں نے ایسی بہت سی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شئیر ہوتے دیکھیں جِن میں کہیں پشتون خواتین کا بھیس بدل  کر  چند عورتیں پاکستان آرمی کے مظالم کا رونا روتی نظر آئیں تو کہیں  کسی دور دراز علاقے میں آرمی کے مظالم کا پراپیگنڈا کھڑا کیا گیا، ہم پر دانستہ اور پلاننگ کے تحت یہ “ڈیجیٹل جنگ ”  مسلط کی گئی لیکن ہمیں فخر کرنا چاہیے  اپنی قومی سلامتی کے اداروں  اور با الخصوص ان   سوشل میڈیا کے جوانوں کا جنہوں نے یہ  جنگ  اپنے لیب ٹاپس  اور سمارٹ فونز کے زریعے لڑی ورنہ  یقیناً ہمارا حال بھی عراق، شام اور لیبیا سے مختلف نہ ہوتا۔

  ففتھ جنریشن  وار کا تدارک کیسے ممکن ہے؟

       ہمارے  ہاں ڈیجیٹل شرح خواندگی نہ ہونے کی وجہ سے ایک بڑا مئلہ یہ  بھی ہے کہ ہم انٹرنیٹ پر  موجود ہر مواد  کو صیحیح یا درست تسلیم کر لیتے ہیں حالانکہ انٹرنیٹ ایک عوای نیٹ ورک ہے ، کوئی بھی شخص، آپ یا میں ، اپنی ویب سائٹ بھی بنا سکتا ہے ، سوشل میڈیا پیجز بھی بنا سکتا ہے اور اپنی مرضی کی معلومات آن لائن شئیر بھی کر سکتا ہے، اور اسی وجہ سے انٹرنیٹ پر مستند معلومات تک پہنچنا  بھوسے میں سے سُوئی ڈھونڈنے کے مترادف ہے۔ کچھ ویب سائٹس اور  سوشل میڈیا پیجز ایسے ضرور ہوتے ہیں جو آفیشل ہوتے ہیں اور ان پر شئیر کی گئی معلومات مستند ہوتی ہیں لیکن کیونکہ ہماری اکثریت  ان تمام باتوں سے بے خبر اور  کسی حد تک بے نیاز بھی ہے ، اس لیے  سوشل نیٹ ورکس  خصوصاً فیس بک پر غلط اور جھوٹی معلومات کی بہتات نظر آتی ہے۔  فیس بک اور چند دوسری سوشل سائٹس نے ہماری قوم کو  لائکس اور کمنٹ حاصل کرنے کی ایسی لت ڈال دی ہے کہ ہم سچ اور جھوٹ کی تمیز کئے بغیر پوسٹ کو آگے فارورڈ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

یاد رکھیں ! اگر آپ کے ہاتھ میں سمارٹ فون یا  لیپ ٹاپ ہے اور آپ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں تو آپ بالواسطہ یا بلاواسطہ  پانچویں نسل کی جنگ کے  ایک سپاہی ہیں۔ آپ کی شئیر کی گئی  ایک غلط معلومات کسی فرد، قوم یا معاشرے کی کایا پلٹنے  کیلیے  کافی ہے۔ اسکا بہترین حل یہ ہے کہ کسی بھی پوسٹ کو شئیر کرنے سے پہلے اسے مندرجہ ذیل طریقوں سے پرکھ لیا جائے:

1۔ کیا یہ پوسٹ ، تصویر یا ویڈیو کسی مستند ذریعے  سے آپ تک پہنچی ہے؟

2۔ کہیں یہ پوسٹ  ملک و قوم کے کسی  خاص طبقے  کے خلاف تو نہیں؟

3۔ اس پوسٹ سے کسی لسانی، صوبائی یا  مذہبی تعصب کو ہوا تو نہیں دی جا رہی؟

4۔  آپکی شئیر کی گئی پوسٹ کسی       دو فریقوں کو آپس میں لڑوانے کا باعث تو نہیں؟

5۔ کہیں  یہ مواد آپکی فوج اور قومی سلامتی اداروں کی مخالفت میں تو نہیں؟

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ آیا پوسٹ کسی مستند ذریعے کی طرف سے ہے یا نہیں؟  اگر صرف فیس بُک کی مثال لے لی جائے تو ایک ہی عنوان پر آپکو ہزاروں فیس بُک پیج مل جائیں گے لیکن صرف ایک یا دو پیجز  مستند پیجز ہوں گے۔عموماً مستند اور آفیشل پیجز فیس بُک سے ‘ویری فائیڈ’ ہوتے ہیں ، ایک ‘ویری فائیڈ’ پیج کی نشانی یہ ہے کہ پیج کے عنوان کے ساتھ آپکو  نیلے                                  رنگ کا  چیک مارک نظر آئے گا جو اِس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ  کسی آفیشل تنظیم یا کمپنی کا پیج  ہے اور فیس بُک      کے پاس اِس پیج کے ایڈمن سے متعلقہ درست معلومات موجود ہیں جنہیں صیحیح ثابت ہونے کے بعد ہی اِس پیج کو ویری فائی کیا گیا گیا ہے،  ویری فیکیشن کے یہی اصول آپکو ٹویٹر اور دیگر سوشل سائٹس پر بھی نظر آئیں گے۔ اگر آپ  غور کریں تو آپکو  تقریباً تمام بڑے میڈیا گروپس  بشمول ایکسپریس، جنگ نیوز، دنیا نیوز اور دیگر کے آفیشل فیس بک پیجز نظر آجائیں گے جِن کے پیج کے عنوان کے  ساتھ نیلے رنگ کا چیک مارک بھی لگا ہوگا اور اُن پیجز پر وہی معلومات شئیر ہونگی  جو واقعی ہی اُس خاص میڈیا گروپ نے شئیر کی ہو گی۔    

official pak army facebook page
  • Save

اسکے ساتھ ساتھ ہمیں بطورِ مسلمان  اور پاکستانی   قرآنِ پاک کا یہ فرمان نہیں بھولنا چاہیے کہ “اے مومنو! جب تمہارے پاس کوئی (فاسق) شخص  کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو(ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں  ناحق تکلیف  پہنچا بیٹھو    ، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونے لگو”

اپنے ملک کو ففتھ جنریشن وار سے بچانے میں دوسرا اہم کردار آپ بطور والدین ادا کر سکتے ہیں، ٹین ایجرز اور  نابالغ بچوں کو جتنا ہو سکے سوشل میڈیا سے دور رکھا جائے کیونکہ کچے ذہن یہ نہیں جان سکتے کہ وہ انجانے میں کِس طرح استعمال ہو سکتے ہیں۔   

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں