سبق آموز اردو کہانی
  • Save

چلتے چلتے میں   تقریباً دو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکا تھا اور اب بازار کے بالکل نزدیک پہنچ چکا تھا۔  ایک  پرسکون سانس کے اخراج کے ساتھ میں بازار میں داخل ہوا اور  ڈھیلی ڈھالی چال کہ جس میں تھکاوٹ نمایاں تھی،کے ساتھ چلتے ہوئے  ایک سبز ی فروش کی طرف بڑھتا گیا۔ میرے ہاتھ میں وہ چٹ موجود تھی جس پر میں نے    خریدنے کیلئے سامان  کی لسٹ بنا رکھی تھی۔ رمضان المبارک شروع ہونے میں صرف دو دن باقی رہ گئے تھے، چنانچہ میری طرح کئی لوگ بازار میں خریداری کیلئے موجود تھے اور  گرمی اور سہ پہر کا وقت ہونے کے باعث ان میں سے زیادہ تر کے چہرے بھی مرجھائے ہوئے تھے۔

ٹھیلے کے قریب پہنچ کر میں رکا، اور مختلف پھلوں اور سبزیوں کونظروں ہی نظروں میں  تولنے لگا۔ اپنی ناقص عقل کے مطابق میں انکی قیمتوں کا  اندازہ لگانے میں مصروف تھا۔

“بھائی ، وہ۔۔۔”۔ ابھی میں  نے ٹھیلے والے سے کچھ کہنے کیلئے منہ کھولا ہی تھا کہ  حیرت کے ایک جھٹکے  کےساتھ میں اپنی جگہ پر جم کر رہ گیا۔ میرا فقرہ ادھورا رہ گیا تھا۔ ٹھیلے سے لگ بھگ پندرہ قدم کے فاصلے پر۔۔وہ موجود تھا جس کو میں نے صرف کہانیوں میں پڑھا تھا ۔۔۔ اسکے ہونٹوں سے باہر آتے دو نوکیلے دانت ۔۔ اور ان سے ٹپکتا ہوا خون۔۔اسکے ہاتھ گہرے سُرخ تھےاور اسکا چہرہ بھی ۔

اسکا چہرہ میری جانب ہی تھا لیکن وہ اپنے سامنے کھڑے چند اشخاص کی جانب متوجہ تھا، جن کی پشت میری طرف تھی۔ اسکے نوکیلے اور خوفناک  دانتوں سے ٹپکتے خون کے قطرے اُسکے دامن کو بھگو رہے تھے ۔۔۔ لیکن بازار میں ۔۔۔ میرے علاوہ کوئی بھی اُسکی طرف متوجہ نہیں تھا۔

تیز دھوپ۔۔ اور روشنی میں ۔۔۔ کیا میری آنکھیں دھوکا کھا سکتی ہیں؟ کہیں یہ کوئی خواب تو نہیں؟۔ حیرت کے شدید جھٹکے سے سنبھلنے  کے بعد میں نے آنکھوں کو زور سے بھینچ کر دوبارہ کھولا تو منظر ہی بدل چکا تھا۔

میں نے نظریں گھمائیں۔۔ یہ کیا؟۔ جس طرف بھی  میری نظر جاتی ہر طرف وہی تیز دانتوں ،ٹپکتے خون کے قطروں اور گہری سُرخ رنگت والی مخلوق ہی نظر آ رہی تھی۔ میں نے گھبراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے چہرہ اُسی ٹھیلے والے کی طرف گھمایا، جس  سے میں مخاطب تھا اور اب حیرت اور خوف کا دوسرا جھٹکا میرا منتظر تھا۔

  جس ٹھیلے پر میں موجود تھا ، اسکا مالک بھی ایک ڈریکولا میں تبدیل ہو چکا تھا۔ اسے اپنے اتنا قریب محسوس کر کے خوف کی ایک سرد لہر میرے  سارے جسم میں سرایت کر گئی۔ میں گھبرا کر چند قدم پیچھے ہٹا لیکن اس سے پہلے کہ میں اپنے  فرار کے مقصد کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب  ہوتا، ڈریکولا کے نوکیلے تیز دانت میرے بازو میں کلائی کے مقام  پر پیوست ہو چکے تھے۔

درد کے ایک شدید احساس کے ساتھ میرے منہ سے بے اختیار چیخ نکلی ، میں نے ایک جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا ، اور اندھا دھند   بھاگ کھڑا ہوا۔   چند قدم کے فاصلے پر پہنچ کر میں نے مڑ کر دیکھا ، وہ ڈریکولا  دہشت ناک مسکراہٹ سے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔۔ اور   میرا خون اس کے چار چار انچ کے نوکیلے دانتوں سے ٹپک رہا تھا۔

میری رفتار کم ہونے پر اردگرد سے چند ہیبت ناک آوازیں اُبھریں، اور اس سے پہلے کہ یہ سب ڈریکولا میرا سارا خون نچوڑ ڈالتے، میں اپنی تمام تر توانائیوں کو صرف کر کے اُنکی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا۔

پسینے میں شرابور میں اپنے دو کمروں کے فلیٹ میں داخل ہوا ، اور آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔ میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ، میں ابھی تک اس واقعے کو تسلیم کرنے کوتیار نہیں تھا حالانکہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا تھا وہ کوئی خواب نہیں ، بلکہ حقیقت تھی ۔

“یا الٰہی یہ کیا ماجرا ہے ؟”۔ میں نے بے اختیار سوچا۔ “اس حقیقت میں کیا راز ہے، یہ  حاجی شریف صاحب ہی بتا سکتے ہیں”۔ ایک دوسری سوچ کی لہر اُبھری اور میں مطمئن ہو گیا۔  حاجی شریف صاحب  ہمارے محلے کے ایک نیک اور  نمازی بندے تھے، سفید داڑھی ، مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے باقاعدہ سرگرم رکن تھے۔ اکثر دین کی محافل منعقد کرواتے اور مسجد میں  دین اور تبلیغ کی نصیحت کرتے نظر آتے۔حاجی صاحب خود بھی بازار میں “حاجی شریف جنرل اسٹور اینڈ پان شاپ ” کے مالک تھے اور یہ واقعہ بھی چونکہ بازار سے متعلق تھا چنانچہ مجھے یقین تھا کہ اُن سے ضرور اس کیفیت کا کوئی تسلی بخش جوا ب مل جائے گا۔

دن بھر کی تھکی ہاری سورج کی کرنیں واپس  پلٹ رہی تھیں، جب میں حاجی صاحب کے مکان کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ انکا مکان میرے فلیٹ سے چند مکان چھوڑ کر ہی تو تھا، چنانچہ  میں نے دروازے پر لگی گھنٹی بجائی اور تصور ہی تصور میں اپنی سرگزشت کے معاملے میں حاجی صاحب کا ردِ عمل سوچنے لگا۔

دروازہ کھلنے اور  خیر خیریت کے چند رسمی جملوں کے تبادلے کے بعد میں حاجی صاحب کی بیٹھک میں بیٹھا تھا۔ حاجی صاحب نے تسلی سے ساری رُوداد سُنی لیکن خلافِ توقع  کوئی خاص ردِ عمل انکے چہرے  سے ظاہر نہ ہوا۔ حالانکہ اتنی بے تُکی اور کسی حد تک ناقابلِ یقین روداد سننے کے بعد انہیں تو اچھل پڑنا چاہیے تھا، یا کم از کم مجھے پاگل قرار دے دینا چاہیے تھا ، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔

خیر جب میں قصہ انکے گوش گزار کر چکا تو  ایک وقفے  کے بعد   صوفیانہ سے لہجے میں گویا ہوئے:

“عُزیر میاں! جو کچھ تم نے دیکھا ہے ، اسکے بارے میں میں اتنا ہی کہوں گا کہ تمہاری بات حرف حرف حقیقت ہے۔ “

میں بے یقینی اور تذبذب  کی ملی جلی کیفیت میں انکی طرف یک ٹک دیکھنے لگا تو بات آگے بڑھاتے ہوئے گویا ہوئے:

” میاں  یہاں انسانوں کے روپ میں ڈریکولا رہتے ہیں۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ ڈریکولا کوئی اور مخلوق ہے۔  اب دیکھو، ڈریکولا ہم کس کو کہتے ہیں ؟ خون چوسنے والوں کو۔ تو  ہمارے  یہاں بھی تو یہی کام ہوتا ہے ، ہر کاروباری آدمی غریب عوام کا خون چوستا ہے ، اور رمضان کی آمد کے ساتھ تو خون چوسنے کا کام زیادہ ہو جاتا ہے۔  آج کل کے مسلمان انسانوں کے روپ میں ڈریکولا ہیں، جن کا کام صرف اور صرف اپنے مسلمان بھائیوں کا خون چوسنا ہے۔ “

انکی فلسفیانہ بات میری سمجھ میں آگئی تھی۔ شائد ہم میں سے ہر ایک کے اندر ایک ڈریکولا چھپا ہوتا ہے اور جہاں کسی کا خون چوسنے کا موقع ملے ، یہ ڈریکولا نامی درندہ اُچھل کر باہر آجاتا ہے۔

“حاجی صاحب ، آپ بھی تو کاروباری آدمی ہیں”۔ میں نے اچانک سوال کر دیا۔ انکے ماتھے پر چند شکنیں سی نمودار ہوئیں ، پھر فرمانے لگے :

“کل سامان لینے دوکان پر آجانا۔ دیکھ  لینا بازار میں سب سے سستا سامان ہم سیل کرتے ہیں”۔ ۔۔ حاجی صاحب مزید اپنی دوکان کے تعریفوں کے پُل باندھنا چاہتے تھے لیکن میں اجازت لیکر وہاں سے چلا آیا۔

 اگلی دوپہر ملازمت سے فراغت کے بعد میں پھر اُسی بازار میں موجود تھا۔ اس دفعہ سب کچھ نارمل تھا  لیکن یہ بازار جو بادی النظر میں انسانوں کا جنگل نظر آتا تھا ،اس میں کتنے انسان اور کتنے ڈریکولا تھے، یہ حقیقت صرف میں جانتا تھا۔ میرے قدم حاجی صاحب کی دوکان کی طرف بڑھتے جا رہے تھے۔

 دوکان کے ادھ کھلے دروازے سے میں اندر داخل ہوا۔ وہاں کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔ ہاں البتہ دوکان کے آخر میں بنے چھوٹے دروازے کی درز سے کچھ آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

“معلوم ہوتا ہے یہ انکا اسٹور روم ہے”۔   میں نے سوچا اور وہیں کھڑا حاجی صاحب کے اسٹور روم سے باہر آنے  کا انتظار کرنے لگا۔ دوکان کے اندر کیونکہ باہر کی نسبت خاموشی تھی اور  دوکان کا مین دروازہ بھی کسی حد تک سائونڈ پروف تھا چنانچہ کبھی کبھی اندر اسٹور روم میں کام کرنے والوں کی  آوازیں مجھ تک پہنچ جاتی تھیں۔ وہ غالباً کسی چیز کو اسٹاک کرنے کے معاملے پر بات کر رہے تھے۔

 یکایک ایک تیز سرگوشی میرے کانوں تک پہنچی ، یہ حاجی صاحب کی آواز تھی۔ “گڈو تم میری بات غور سے سُنو”۔ گڈو شائد دوکان کے کسی ملازم کا نام تھا۔

میں غیر ارادی طور پر اسٹور روم کے مزید نزدیک چلا گیا۔ “پولیس آج کل ہر طرف چینی اسٹاک کرنے والوں پر چھاپے مار رہی ہے۔ آج شام 4 بجے ٹرک پہنچے گا، جس میں بیس ہزار چینی کی بوریاں ہونگی ۔ اپنی نگرانی میں گودام کے لڑکوں کو ساتھ ملا کر ساری بوریاں رکھوا لینا اور یاد رکھنا سارا کام پہلے کی طرح  ہوشیاری سے کرنا ہے”۔

میں واپس مڑنے ہی والا تھا کہ اسٹور روم کا دروازہ کھلا اور حاجی صاحب اپنی باریش داڑھی میں انگلیاں پھیرتے ہوئے  باہر تشریف لائے۔ کسی کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے انہوں نے چہرہ اوپر اُٹھایا، میری اور انکی نگاہیں آپس میں مِلیں، میں نے غور سے دیکھا ، انکا چہرہ اور  جلد گہری سُرخ تھی ،  دو نوکیلے دانت انکے ہونٹوں سے باہر نکلے ہوئے تھے، جن سے رستا خون ٹپک ٹپک کر انکی  داڑھی کو سُرخ کر رہا تھا ۔

———————————————————————————————————————————-

نتیجہ:

  یہ کہانی اور اس میں موجود ڈریکولا کا کردار ہمیں معاشرے میں اپنے آس پاس نظر آئیں گے۔ اگر آئینے میں نگاہ دوڑائی جائے تو شائد کوئی ایک آدھ ڈریکولا ہمیں خود میں بھی نظر آ جائے۔ یہ کہانی پرہیز گاروں کے روپ میں چھپے خون آشام درندوں کا بھی مکمل احاطہ کرتی ہے اور ہم چونکہ باتوں کے مداح اور گفتار کے غازی ہیں، چنانچہ یہ “الف لیلوی داستان” ہمیں ہمارے شدت پسندانہ  رویوں پر نظرِ ثانی کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرتی ہے ،  دعا ہے کہ اللہ کریم ہمیں فہم  و فراست ، دردِ دل اور شعور عطا فرمائے تاکہ ہم سب اپنے اندر موجود ڈریکولا کا خاتمہ کر سکیں۔  

اردو کہانی اور سبق آموز اردو کہانیاں

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں