Dirilis ertugrul URdu
  • Save

مجھے فطرتی طور پر ڈراموں سے ایک مخصوص قسم کی چِڑ ہے ، شائد اس لیے کیونکہ آج بیشتر پاکستانی ڈراموں کا متفقہ موضوع   عاشقی ، محبت ہے اورانکا سارا زور  ساس ، بہو کے جھگڑے دِکھانے پر ہے۔ اس بارے میں اگر استفسار کیا جائے تو واحد جوا ب یہ ہوتا ہے کہ “ہم عوام کو وہی کچھ دِکھا رہے ہیں، جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔”جبکہ میڈیا کی معاشرتی ذمہ داریوں میں یہ بات نہایت اہمیت رکھتی ہے کہ لوگ کیا دیکھنا چاہتے ہیں اور کیا انہیں دیکھنا چاہیے۔ خیر میڈیا کی ذمہ داریوں پر پھر کبھی بات ہوگی، آج ہم   سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم الشان عروج کی داستان پر ترکی کی طرف سے بنائے گئے ڈرامہ سیریز “دیلریس ارتغل” پر تبصرہ کریں گے۔اس ڈرامہ سیریز کی خاص بات کیا ہے ؟ مجھے کس چیز نے یہ  سیریز دیکھنے پر مجبور کیا ؟ اور کیوں یہ سیریز ہمیں اپنے بچوں کو دکھانی چاہیے ؟ ہمارا آج کا مضمون اسی بارے میں ہے۔

  سلطنتِ عثمانیہ  کے قیام کی راہ ہموار کرنے میں تاریخ میں جِن غازیوں کا نام آتا ہے ، اُنہی میں  ایک نام   ارتغل غازی کا بھی ہے ۔ انکا تعلق اوغوز ترکوں کے معروف خانہ بدوش قبیلے “قائی”    کے ساتھ تھا۔ ارتغل کی شادی سلجوق شہزادی حلیمہ سلطان کے ساتھ ہوئی اور انہی کے بطن سے عثمان نے جنم لیا جِن کے نام  سے 600 سال پر محیط عظیم ترک سلطنت یعنی سلطنتِ عثمانیہ وجود میں آئی۔ اس ڈرامے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ  محض دو سالوں میں ہی اس نے اپنی مقبولیت سے ہالی ووڈ کے نام نہاد اور جھوٹ کا پلندہ پیش کرنے والے فلمسازوں اور پروڈیوسرز کے چھکے چھڑا دیے ہیں۔  معروف انگلش اخبار “نیو یارک ٹایمز” دیلریس ارتغل کو ترکی کا “سافٹ ایٹم بم ” قرار دے رہے ہیں۔ مغربی دنیا کی اس ایک ڈرامے سے اتنا خوفزدہ ہونے کی وجہ صاف سمجھ میں آتی ہے،طاغوتی طاقتیں کبھی نہیں چاہیں گی کہ مسلمان نوجوانوں میں انکی وراثت کی عظمت کا احساس دوبارہ زندہ ہو ۔آج تک ہالی ووڈ اور بالی ووڈ نے تاریخ کو تروڑ مروڑ کر ہی ہمارے نوجوانوں کے سامنے پیش کیا ہے ، لیکن  وہ انصاف، محبت، رواداری، اخلاقیات، ایثار ، ہمدردی اور مظلوم کی مدد کا جذبہ جو ہمارے آبائو اجداد کی شخصیت کا خاصہ تھا ، آپکو اس ڈرامے میں نظر آئے گا۔ ایمان کو تازگی بخشنے کیلیے دیلریس ارتغل سیزن  1 سے مندرجہ ذیل ویڈیو کلپ ملاحظہ فرمائیں۔

A short urdu clip from Dirilis Ertug

دیلریس ارتغل سیریز پانچ سیزن پر مشتمل ہے، جس میں ارتغل کی جراءت مندانہ جدوجہد،  اسلام اور روایات سے لگائو، اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل یقین اور ایمان کی طاقت کو دکھایا گیا ہے۔ بلاشبہ یہ سیریز آپکے اندر موجود ایمان کی چنگاری کو بھڑکانے میں تیل کا کام کرے گی، بازنظینی صلیبیوں کی سازشیں ، منگولوں کی یلغاریں  اور انکے خلاف اسلام کے مجاہدین کی معرکہ آرائیاں ، اللہ اکبر کے نعروں سے کونجتے ہوئے جنگی مناظر ، دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتے ہیں اور کوئی بھی انکا اثر قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس ڈرامے میں  بہت سے مقامات پر یہ سبق بھی ملتا ہے کہ ایک عظیم لیڈر بہادری اور بیوقوفی  کے درمیان فرق سے اچھی طرح آگاہ ہوتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ ہر مسئلہ تلوار اُٹھا کر میدانِ جنگ  میں جانے سے حل نہیں ہوتا ، بلکہ کچھ معاملات ، صبر، یقین ، امن اور مضبوط قوتِ ارادی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ارتغل  اپنے معاملات میں قرآن و حدیث اور سیرتِ نبوی سے استفادہ حاصل کرتا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اُس وقت کی روحانی شخصیت محی الدین ابن العربی  ؒبھی مختلف مقامات پر ارتغل کی روحانی امداد کرتے نظر آتے ہیں۔

یہ ڈرامہ کیونکہ تاریخی واقعات کو مدِنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے چنانچہ اس میں صلیبی سازشوں ، مسلمانوں کی آپس کی نااتفاقیوں اور آستین میں چھپے غداروں  کے ساتھ ساتھ ترک قبیلوں کے رہن سہن اور روایات کو بھی بڑے احسن طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ دیکھنے کے دوران ناظر کا ذہن آٹھ صدیاں پیچھے پہنچ جاتا ہے اور تجسس ، سسپنس سے بھرپور ڈرامہ کو ایک دفعہ شروع کر کے مکمل کیے بغیر نہیں چھوڑتا۔ ڈرامہ دیکھنے کے دوران ارتغل کا کہا ہوا ایک فقرہ خاص طور پر میرے دِل کو چھو گیا جسے میں یہاں ضرور پیش کرنا چاہوں گاکہ : “ایک دِل فتح کرنا ہزار قلعے فتح کرنے سے بہتر ہے۔”

ارتغل ڈرامہ
  • Save
Turk cultural Hijab

عثمانیہ سلطنت کو  وہ خوش نصیب اور عظیم سلاطین نصیب ہوئے جنہوں نے ایک عرصے تک  عالم ِ اسلام کے اتحاد کو قائم رکھا۔  فاتح قسطنطنیہ سلطان محمد فاتح سلطنت ِعثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کو پورا کیا۔ اسکے علاوہ سلطان عبدالمجید کے  تذکرے کے بغیر بھی یہ مضمون نامکمل رہے گا کہ جب مسجدِ  نبوی کی تعمیرِ نو کا وقت آیا تو ادب کا یہ عالم تھا کہ پتھر وں کو کاٹنے اور تراشنے کا کام مدینہ کی آبادی سے باہر کیا جاتا تاکہ مدینہ کی پرسکون فضائوں میں خلل پیدا نہ ہو۔ انہی عظیم ترکوں نے سب سے پہلے گنبدِ خضریٰ کو سبز رنگ کروایا اور یہ سبز رنگ ان جنگلات کے درختوں کے پتوں سے اکٹھا کیا گیا جنہیں پہلے کسی انسان نے چھوا تک نہ تھا۔ اسلام کے یہ عظیم لوگ تو دنیا سے چلے گئے لیکن ہمارے لئے مثالیں چھوڑگئے ، ا نہی عظمت کی داستانوں کو نوجوانوں تک پہنچانے کی چھوٹی سی کاوش  زیرِبحث ڈرامے میں کی گئی ہے۔

اس ڈرامے کے بارے میں مغربی پراپیگنڈے  کا بھرپور جواب دیتے ہوئے ترکی کے صدر طیب اردوگان نے تاریخی فقرہ کہا:

جب تک شیر اپنی تاریخ خود نہیں لکھیں گے ، تب تک شکاری ہی ہیرو بنے رہیں گے۔ ”      “

دیریلیس ارتغل اردو میں دیکھنے کیلئے یہاں کلک کریں

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں