اداسی-sadness-urdu-poetry-pakistan-urdu-blog
  • Save

اداسی بھی ایک عجیب طرح کی  ذہنی کیفیت ہے، شائد ہر وہ چیز جس میں ٹھہرائو آجائے ہمیں اداس معلوم  ہوتی ہے، جھیل کا پانی اداس لگتا ہے، خزاں کا موسم اداس لگتا ہے،   سوکھےدرخت یاسیت کا روپ دھارے نظر آتے ہیں،  بڑھاپا اداسی کا مخمل تان لیتا ہے،  زرد پتے اداس نظر آتے ہیں، لق و دق صحرا اداس معلوم ہوتے ہیں، اُکھڑے پینٹ والی دیواریں اداسی کی تصویر بنی نظر آتی ہیں،  پرانے اوراق کی اُڑی رنگت سے اداسی جھلکتی ہے، سنسان سڑکیں   اداس محسوس ہوتی ہیں، راتوں کی سیاہی میں اداسی ہے،   ویران کھنڈر، بے آباد حویلیاں،کچے صحن، تنہا  ایستادہ شجر،  ریت کے بیابان ٹیلے، سردیوں کی شامیں، گرمیوں کی دوپہر، بچپن کی یادیں، محبت کے افسانے، شاعر کی شاعری،خاموشی کی سنسناہٹ ، آواز کا سکوت، موسیقی کا سحر،  اچھلتی موجوں کا جلترنگ، ٹو ٹے دروازے کی کھڑکھڑاہٹ، شفق کی سُرخی، چاند کی چاندنی، قہقہوں کا سوز اور آنسوئوں کا ساز  ۔۔۔ سب کتنے اداس ہیں۔

اس کے برعکس بہاروں کی رونق، بازاروں کی چہل پہل ، شامیانے کی  دُھن، ندیوں کا تسلسل، کھیتوں کی ہریالی، آفتاب کی چمک، غزال نگاہوں کی کشش،  خوبصورت چہروں کی   مسکراہٹ، گہری نیند کے خواب، دوستوں کا ساتھ  ۔۔۔ یہ سب چیزیں اپنے اندر کتنی شوخ ادائیں رکھتی ہیں۔ لیکن یہی شوخ چیزیں جب اپنا وقت گزار چُکتی ہیں تو اداسی  کا پرچار کرنے لگتی ہیں۔ ہم انسان بھی  کتنے عجیب ہوتے ہیں، جن چیزوں نے ماضی میں ہمارے دِلوں کو لبھایا ہو، ہماری ویران زندگی کو رونق بخشی ہو، انہی چیزوں کی یاد ہم پر اداسی طاری کر دیتی ہے۔

اداسی اضطراری بھی ہو سکتی ہے اور پُرسکون بھی۔  کسی کو کھو دینے کا غم اداسی بھی پیدا کرے گا اور اضطراب بھی ۔ہاں کیونکہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے، چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ اضطراب میں کمی ضرور آتی ہے۔ ایسی حالت میں سکون کا واحد ذریعہ دعا ہے،حالتِ  اضطراب میں کی گئی دعا کی قبولیت میں کوئی شے حائل نہیں ہو سکتی ۔  اداسی  فطرتی بھی ہو سکتی ہے، شائد قدرت  نے خزاں میں اداسی کا رنگ اسی لیے شامل کیا ہے کہ انسان کو اس حسین جذبے کی چاشنی سے روشناس کروایا جائے۔اداسی کے لمحات خدا سے لو لگانے کا بہترین ذریعہ ہیں، اس دوران لمحات ٹھہر جاتے ہیں، گھنٹوں کا سفر چند سیکنڈز پر محیط معلوم ہوتا ہے اور انسان دنیا و مافیہا سے بے خبر  تصورات اور خیالات کی دنیا کا راہی بن جاتا ہے۔

ایسی خواہش جس کی تکمیل ممکن نہ ہو، اداسی پیدا کرے گی۔ مدفون لوگوں کو زندہ حالت میں اپنے آس پاس موجو د  دیکھنے کی خواہش اداسی لائے گی۔ اداسی اور غم میں تھوڑا سا ہی فرق ہے، غم لازماً اداسی پیدا کرے گا، لیکن اداسی ضروری نہیں کہ غم کا سبب بھی بنے۔ ایک شخص جو کاروبار کے سلسلے میں اپنے گھر بار ، بیوی بچوں سے دور ہے، انکی یاد میں اداس ہو جائے گا، لیکن یہ کیفیت غم نہیں کہلائے گی۔ اسکے برعکس زندگی کے رستے میں  بچھڑ جانے والے عزیزوں کا غم لازماً اداسی طاری کر دے گا۔اداسی کا تعلق صرف ماضی سے ہے، جبکہ غم مستقبل  کا بھی ہو سکتا ہے۔ اپنے مستقبل کے بارے میں  منفی سوچیں  غم کا باعث بنیں گی۔ اداسی انبیاء کے حصے میں بھی آئی لیکن انہیں مستقبل کا غم کبھی نہ ہوا۔۔۔ حضرت یعقوب ؑ ، یوسف ؑ کی جدائی میں غمزدہ رہے،  یہی غم اداسی کا سبب بھی بنا، لیکن خدا  کی رضا پر صبر اور  شکر نے انکا  یقین قائم رکھا۔

اداسی کی کیفیت اگر ایک حد سے زیادہ دیر ٹھہر جائے تو مایوسی کا باعث بن سکتی ہے۔ اداسی کا علاج شُکر ہے، اپنے پاس موجود  نعمتوں پر  اللہ کا شکر بجا لانے کی عادت ڈال لی جائے تو اداسی کو مایوسی میں بدلنے سے روکا جا سکتا ہے۔جبکہ غم کا علاج صبر ہے، اپنے اوپر بیتے ہوئے حالات اور اپنے حال پر صبر کرنا سیکھ لیا جائے تو غم سے محفوظ رہا جا سکتا ہے، اسی لیے خدا ئے ذوالجلال کی طرف سے  انسان کو بار بار  صبر اور شکر  کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اداسی کی حالت میں خدا سے شکوہ اُس کی ذا ت پر عدم یقین کی نشانی ہے، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جِسے ہم مقامِ شکوہ سمجھ رہے ہوں وہ اصل میں مقامِ شُکر ہو۔

قرآن ِ پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ “اے میرے بندو! جنہو ں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی، تم اللہ کی رحمت سے نا اُمید نہ ہو جائو۔۔۔”،  اِس خاکسار کی نظر میں  جو لوگ منفی سوچوں کا شکار ہو کر مایوسی کا رستہ اختیا کرتے ہیں اور  یقین کی راہ سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں۔ یقین اگر کامِل ہو تو اداسی ممکنات کا دروازہ کھول دیتی ہے، تصورات کی نئی  دنیا کی سیر کرواتی ہے، تخیل کو روشنی بخشتی ہے، جستجو کا مادہ پیدا کرتی ہے اور کائنات کے سربستہ رازوں کو سمجھنے کی توفیق دیتی ہے،  جبکہ بے یقینی ازخود ایک عذاب کا نام  ہے ، کتنا دردناک ہے یہ خیال کہ جو میں سوچ رہا ہوں نہ جانے اُسکا ہونا ممکن ہے بھی کہ نہیں؟

یہ اُداسیوں کے موسم یونہی رائیگاں نہ جائیںں
کسی زخم کو کُریدو، کسی درد کو جگائو

مزید پڑھیں: ادبی اقدار اور ہمارا معاشرہ

مزید پڑھیں: کیا خوف اپنا وجود رکھتا ہے؟

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں