aansu urdu poetry
  • Save

یونہی تو نہیں مجھکو ہیں محبوب یہ آنسو

سدا رہتے ہیں تیرے ہجر سے منسوب یہ آنسو

مے سے بھی کہیں بڑھ کر، مجھے مخمور رکھتے ہیں

پسندیدہ ہے ان دنوں میرا مشروب یہ آنسو

تمھارے ذکر ہو تو راز سارے کھول دیتے ہیں

میری آنکھوں میں رہتے ہیں، کہاں مجذوب یہ آنسو

کسی کی راہ کو تکتے، جب آنکھیں خشک ہو جاٸیں

تو لے جانا مجھ سے تم، جو ہوں مطلوب یہ آنسو

نہیں یہ راٸیگاں جاتے، اگر دل سے بہاٸے ہوں

سکھاتے ہیں عشاقوں کو بہت اسلوب یہ آنسو

حاوی اب یہ سوچا ہے،کہ  بہنے دوں نہ آنکھوں سے

ڈھال کر شعروں میں انکو، کروں مکتوب یہ آنسو (طارق اقبال حاوی)

اپنا تبصرہ بھیجیں