urdu poetry and urdu shairi and articles
  • Save

یوں تو ہم مسلمانوں پر  ایک مقرر کردہ حد سے زیادہ دولت اور مال و زررکھنے   پر زکوٰۃ واجب ہے  لیکن ہمارے ملک میں تقریباً ہر چیز پر زکوٰۃ ادا کرنا پڑتی ہے۔  آپ اگر زندہ ہیں ،  جی رہے ہیں تو زندگی کی زکوٰۃ دینا پڑتی ہے ، آپ اگر اپنے گھر میں خوش ہیں تو آپکو اس خوشی کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا پڑتی ہے ، اور تو اور ، اس معاشرے میں اگر آپ ایماندار ہیں، کامیاب ہیں، شریف ہیں تو ان سب کے بدلے میں آپ پر زبردستی کی زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔

یہ وہ زکوٰۃ ہے جس میں آپ کا خونِ جگر، آپ کے جذبات ، آپ کے احساسات ، آپ کی سچائی، آپ کی خاموشی ، آپ کی شرافت اور آپ کے حقوق کو روندا جاتا ہے اور مجھ سے حساس لوگ یہ زکوٰۃ روزانہ کے حساب سے ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ میرے ایک استاد صاحب فرماتے ہیں کہ  یہاں آپ کو علم کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا پڑتی ہے اور علم کی زکوٰۃ یہ ہے کہ لوگوں کا حسد، انکی نفرت، انکے بہتان، انکے الزام ، انکے طنز و طعنے اور انکی منافقت کو برداشت کیا جائے ، اور یقین جانئے کہ یہ کوئی ایک دفعہ نہیں ہوتا ، یہ یوں برستا ہے جیسے ساون کی بارش برستی ہے، لگاتار اور مسلسل۔

ہم لوگ من حیث القوم  کامیاب   ،حساس اور مخلص لوگوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ہر وہ شخص جو کچھ نیا کرنا چاہتا ہے، ہر وہ شخص جو آگے بڑھنا چاہتا ہے، ہر وہ شخص جو کوشش کر رہا ہے، ہر وہ شخص جو معاشرے  میں بدلائو لانا چاہتا ہے،ہر وہ شخص جو اپنے  کام کے ساتھ مخلص ہے،  ہمیں اس سے نفرت ہے۔ہم  نے ہر کسی کی غلطیوں ، خامیوں اور کوتاہیوں   کا البم تیار کر رکھا ہوتا ہے تاکہ جہاں کسی کو کہیں ٹھوکر لگے، ہم وہ البم لا کر اسکے منہ پر ماریں اور اسکے سامنے رکاوٹوں، طعنوں اور تنقید کا انبار لگا دیں۔

 ہماری پست ایمانی قوت کا یہ حال ہے کہ شک اور بہتان میں ہم نے خدا تک کو نہیں چھوڑا۔ کتنے ہی فقرے ایسے ہیں جو ہم روانی میں روزانہ کے حساب سے بول جاتے ہیں اور ہمیں اسکا احساس تک  نہیں ہوتا۔ “پہلے اس سے کام نکلوا لوں، فلاں بندہ میرا کام کروا دے ، اگر نہ  ہوا تو پھر اللہ مالک ہے”۔ زبان کو لگام دیجئے حضور، اللہ پہلے بھی مالک تھا، اللہ درمیان میں بھی مالک ہے اور آخر میں بھی اللہ ہی مالک رہے گا، جب سب چھوڑ جائیں گے۔ “خدا نے باقیوں کو تو سب کچھ دیا ہےایک میری ہی قسمت خراب ہے(نعوذ باللہ)۔ “

یہ جو الفاظ ہیں نا، یقین جانئے یہ سب الفاظ ایک دن ترازو میں تُلیں گے اور بڑے بھاری  ثابت ہونگے۔ اپنی انا ، ضد ، ہٹ دھرمی ، منافقت اور تکبر کے بت میں یہ مت بھول جائیے کہ لوگ گزر  جاتے ہیں مگر الفاظ ٹھہر جاتے ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ میزان میں تُلنے کے بعد آپ کے  کیلئے اپنے الفاظ کا بوجھ سنبھالنا مشکل ہو جائے۔ والسلام۔  

urdu poetry, urdu articles, urdu adab, urdu sad poetry,

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں