govt-pakistan-and -pakistani-society
  • Save

پاکستا ن میں ویسے تو بہت سی حکومتیں آتی  اور جاتی رہیں،   لیکن ماشاءاللہ     ہر حکومت ہی   ملک کے وسائل کی بے حرمتی کی  مد میں وسیع القلب  اور اعلٰی ظرف ثابت ہوئی ہے  ۔ یہ  ہماری حکومتوں کی  “بے پایاں سخاوت “ہی  ہے جس کے  نتیجے میں  جگہ جگہ     ملکی وسائل بے آب و گیارہ پڑے ہیں اور متعلقہ  محکمہ جات  کے علاوہ ہماری حکومتیں اور عوام بھی  اس معاملے میں بے نیاز واقع ہوئےہیں۔ چنانچہ آپ ہماری عوام کے مزاج    کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ   جو فرنیچر کسی سرکاری عمارت کا ایک دفعہ حصہ بن  چکا ہے، اسکا ٹوٹنا اور خراب ہونا  مقدر ہے  اور یہی نہیں  اگر کسی عوامی جگہ پر کوئی سہولت ، کوئی بنچ ، کوئی میز، کوئی کرسی، کوئی  پانی کا انتظام موجود ہے تو ہم سب کا فرض ہے کہ مِل کر اسے خراب کریں، اگر کسی  سرکاری جگہ پر   نیا پینٹ ہوا ہے تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ اس  دیوار کو شانی گجر، بھولا راجپوت اور یاسر بلوچ جیسے خوبصورت القابات سے مزین کریں ۔ کیوں بھئی! آخر گورنمنٹ کا مال ہے اور گورنمنٹ تو ماں کی طرح ہوتی ہے اسکا تو کام ہے کہ بچے شرارتیں کریں اور یہ انکی  ‘معصومانہ’ غلطیوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لے۔

سڑکیں ، گلیاں، محلے ، گائوں ، شہر  اور قصبے بھی چونکہ گور نمنٹ کے ہیں لہٰذا  معاشرتی فرض کو نبھاتے ہوئے  جس کا جی چاہتا ہے ، اِن بے زبانوں پر اپنا غصہ نکال لیتا ہے ، شائد یہ گورنمنٹ سے بدلہ لینے کا ایک طریقہ ہے اور اِس طرح ہم اور آپ اپنی انا کی تسکین کرتے ہیں کہ ‘دیکھا میں نے فلاں کام خراب کیا ، گورنمنٹ نے میرا کیا کر لیا’۔ اسی لیے آپکو   ہر محلے میں ایک آدھ اسپیڈ بریکر لازمی ملے گا،  پبلک  گرائونڈ سیوریج کے پانی سے بھرے مِلیں گے، پانی کے کولر کے ساتھ گلاس غائب ملے گا اور قربان جائوں کہ     پبلک واش رومز  تو شائد ملک میں مارکیٹنگ کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ، یہاں سے آپکو ‘پراسرار علوم کے  ماہر’ کا پتا بھی مِل جائے گا،    زندگی اور صحت کے مفید مشورے بھی مِلیں گے اور ‘بے     روزگاروں کیلیے روزگارکے مواقع’ بھی ادھر سے ہی میسر آجائیں گے۔ راقم کے نزدیک حکومتِ وقت اگر چاہےتو  پبلک واش رومز کو عوامی   آگہی  اور معلوماتِ عامہ   کی ترسیل کیلیے استعمال کر سکتی ہے  ، بھئی اگر مارکیٹنگ کامیاب ہو سکتی ہے تو اتنے اچھے آئیڈیا سے فائدہ اٹھانا تو بنتا ہے نا! لیکن  نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ ۔ سچ کہتے ہیں ملک میں ٹیلنٹ کی قدر نہیں۔  

گورنمنٹ لوگوں کی ہوتی ہے ، وہی لوگ جو ہما رے اردگرد چلتے پھرتے ہمیں نظر آتے ہیں وہی  سیاست میں حصہ لیتے ہیں اور  یوں حکومتی ڈھانچہ تشکیل پاتا ہے ، گویا لوگ چونکہ نیچے سے اوپر یعنی حکومتی سطح تک  جاتے ہیں لہٰذا جو برائی نچلے درجے پر موجود ہے ، لازمی بات ہے کہ وہ اوپر کے درجے پر بھی موجود ہوگی ۔   اس لیے یہ کہنا کہ حکومت اچھی ہو گی تو عوام بھی اچھی ہو گی ، محض ایک غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں، حقیقت اس کے برعکس ہے ، عوام اگر ا جتماعی شعور رکھتی ہے تو حکومت عوامی ریلے کے آگے بے بس نظر آئے گی، لیکن یہی عوام اگر جہالت میں رہنا چاہے تو حکومت چاہے لاکھ کوششیں کر لے ، نتائج توقع کے مطابق نہیں ملیں گے۔ ایک ریلوے کوارٹر جانا ہوا، دیکھا کہ ایک جگہ  کونے سے چھت ٹوٹی ہوئی ہے جس سے  قطرہ قطرہ  بارش کا پانی اندر ٹپک رہا ہے ، پوچھا اعلیٰ حضرت اسے ٹھیک کیوں نہیں کرواتے ؟ فرمانے لگے بھئی! گورنمنٹ کا مال ہے ، ہم کیوں ٹھیک کروائیں۔ مزید استفسار پر معلوم ہوا کہ پچھلے چند سالوں سے یہی صورتحال ہے اور جو بھی کوارٹر بھی آتا ہے ،  تکلیف سہہ لیتا ہے لیکن ٹھیک اس لیے  نہیں کرواتا کہ ‘گورنمنٹ کا مال ہے’۔  

ہم اجتماعی طور پر چاہتے ہیں کہ حکومت ہمیں سہولیات فراہم کرے اور  انفرادی  طور پر ہم ان سہولیات کا بیڑہ غرق کرتے نظر آتے ہیں۔ میڈیا ، جو کہ  عوام میں شعور بیدار کرنے میں موءثر کردار ادا کر  سکتا ہے، سیاسی بیانات کو مرچ مصالحے لگا کر داد سمیٹنے میں مشغول ہے، کسی ٹی وی چینل پر آپ کو اخلاقیات اور معاشرتی اقدار پر کوئی  پروگرام نہیں ملے گا، ہاں  البتہ کسی سیاستدان کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو بریکنگ نیوز ضرور بن جائے گی۔

سب کچھ حکومت پر ڈال کر خاموش تماشائی بننے سے ملک میں بہتری نہیں آئے گی، اجتماعی طور پر اپنے اعمال میں بہتری پید ا کیجئے، حکومت کوئی بزنس مین نہیں کہ جسے آپ نے پیسے دے دیے اور  ہا تھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ گئے کہ اب منہ میں نوالہ بھی ڈالنا ہے تو حکومت ڈالے گی، اپنی حکومت کو سپورٹ کیجئے ، اس ملک کو آپکے سہارے کی ضرورت ہے ، تنقید آپ کا حق ہے لیکن   تعمیر پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے،  اپنے بھائی کی ، اپنے دوستوں کی ، اپنے ہمسایوں کی ، اپنے محلے داروں کی کا  میابی کو اپنی کامیابی سمجھنا شروع کیجئے  ، اور خدارا اپنے ملک کو ‘اپنا ملک’ سمجھنا شروع کیجئے  اجتماعیت  خود بخود فروغ پانے لگے گی  اور آپ یقین کریں  جس دن ہم نے خود میں یہ سوچ پیدا کر لی ،قوم کی تقدیر بدلنے لگ جائے گی ۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں