گدھے کی کہانی
  • Save

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک جنگل میں تمام جانور ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے۔ حسبِ روایت شیر جنگل کا بادشاہ تھا اور باقی جانور اسکی رعایا۔ خوراک کی کوئی کمی نہ تھی ، پھلدار درخت ، مہکتے پھول ، لہلہاتے سر سبز شجر ، جھرنے ، ندیاں اور دلآویز فضائوں کی بدولت یہ جنگل کسی جنت نظیر وادی سے کم نہ تھا، ہاں اس سب کے باوجود اگر کمی تھی تو صرف گدھے کی۔

جی ہاں! جنگل میں تمام جانور موجود تھے لیکن گدھے جو کہ انسانوں کے معاشرے میں بھی قدم قدم پر نظر آجاتے ہیں، سارے جنگل میں موجود نہ تھے۔ اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ جنگل کے جانوروں نے کبھی گدھا دیکھا ہی نہیں تھا ،انہیں یہ علم ہی نہیں تھا کہ انکے اس چھوٹے سے جنگل میں موجود جانوروں کے علاوہ بھی دنیا میں مخلوقات آباد ہیں۔

ایک دن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک راہ سے بھٹکا ہوا گدھا پھرتا پھراتا اس جنگل کی طرف نکل آیا۔ گدھے نے جب اتنا خوبصورت جنگل دیکھا تو اسکی خوشی کی انتہا نہ رہی اور آخر کیوں خوشی نہ ہوتی، یہاں تو ضرورت کی ہر چیز میسر تھی اور سب سے بڑھ کر ، یہاں آزادی جو تھی۔ جنگل کے جانوروں نے جب ایک نئی مخلوق کو جنگل میں آوارہ گردی کرتے دیکھا تو سب اسکے گرد اکٹھے ہو گئے اور طرح طرح کی چہ مگوئیاں کرنے لگے۔ آخر فیصلہ ہوا کہ اسے جنگل کے بادشاہ شیر کے دربار میں پیش کیا جائے۔

آخر کار شیر کے دربار میں مقدمہ سنا گیا اور اس نئی مخلوق کے راز سے پردہ اٹھانے کی ذمہ داری مشیرِ خاص یعنی لومڑی کو سونپی گئی۔ لومڑی نے دستیاب معلومات اور اپنے تجربات کی روشنی میں سوچ بچار شروع کی۔

“کہیں یہ انسان تو نہیں ؟” سوچتے سوچتے لومڑی نے خود سے سوال کیا۔

اس نے اپنے بزرگوں سے سن رکھا تھا کہ انسان بہت ذہین مخلوق ہے اور جنگل کی حدود سے باہر کہیں آباد ہے۔

جوں جوں لومڑی سوچتی گئی اسکا شک پختہ ہوتا گیا کہ ضرور یہ مخلوق انسان ہے۔

“کیا تم انسان ہو؟” لومڑی نے یقین اور بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں گدھے سے پوچھا۔

گدھے نے شیر سمیت تمام جانوروں کو اپنی طرف متوجہ پا کر صورتِ حال کا اندازہ کیا اور اپنے اندر پھوٹتی پھلجھڑی کو چھپاتے ہوئے گلا کھنکار کر گویا ہوا۔

“جی ہاں ، میں انسان ہی ہوں اور یوں ہی بے خبری میں آپکے جنگل کی طرف آ نکلا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنی مہمان نوازی کی روایات کا پاس رکھیں گے”

گدھے کی بات سن کر شیر سمیت سب لوگ حیرت اور خوشی سے اسے دیکھنے لگے۔ آخر انہوں نے انسان جو دیکھ لیا تھا جو انکے مطابق بہت ذہین مخلوق تھی۔

بس پھر کیا تھا ، گدھے کو سر آنکھوں پر بٹھایا گیا ، دربار میں شیر کے برابر کرسی عطا کی گئی۔ عام جشن کا اعلان ہوا اور گدھے کو کہیں بھی گھومنے پھرنے کی آزادی مل گئی۔

اب گدھا بے فکری سے مزے اڑاتا ، جنگل میں اہم معاملات میں شیر اس سے مشورے کرتا ، تمام جانور اسکی ذہانت کے گن گاتے ، اس سے مشورہ لیتے ، اسکو تقریبات میں وی آئی پی مہمان کا درجہ دیا جاتا، الغرض ، گدھے کا پروٹوکول کسی طور بھی شیر سے کم نہ تھا۔

آہستہ آہستہ گدھا اتنا مقبول ہو گیا کہ جنگل کے جانور اپنے جھگڑے نمٹانے ، گھریلو معاملات حل کرنے، تقریریں کرنے ، زندگی ، فلسفہ ، ادب ، سائنس اور دیگر مضامین سے متعلق علم سے استفادہ حاصل کرنے کیلیے بھی گدھے سے رابطہ کرتے۔ گدھا مزے میں جی رہا تھا۔

ایک دن اتفاقاً ایک انسان اسی جنگل میں آ نکلا۔ جنگل کے جانور حسبِ روایت اسے بھی پکڑ کر بادشاہ کے دربار میں لے گئے۔ اب جب بھی انسان سے اسکے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ یہی جواب دیتا کہ میں انسان ہوں، جبکہ شیر سمیت کوئی بھی اسکی بات پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ تمام جانور مکمل یقین کے ساتھ گدھے کو انسان سمجھے بیٹھے تھے۔

آخر فیصلہ کیا گیا کہ اس جھوٹی مخلوق کو سخت سزا کے بعد جنگل سے باہر پھینک دیا جائے تاکہ یہ دوبارہ جنگل کے پاس پھٹکنے کی کوشش نہ کرے۔

اسی طرح ہمارا ایک معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم نے کبھی زندگی میں کوئی بڑا آدمی نہیں دیکھا ہوتا۔ ہم کبھی عظیم لوگوں کی صحبت میں نہیں بیٹھے ہوتے۔ ہم نے کبھی عظمت اور بڑائی کو جاننے کی کوشش نہیں کی ہوتی ، چنانچہ ایسے معاشرے میں مجھ جیسے کئی گدھے پیر ، فقیر ، لکھاری ،دانشور، تجزیہ نگار ، مرشد اور موٹیویشنل اسپیکر بنے پھر رہے ہوتے ہیں۔ اور جب کوئی بڑا آدمی اور قابل انسان ہمارے معاشرے میں کوئی مثبت اصلاحی کام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم اعتراضات کے انبار لگا دیتے ہیں۔

ہماری ذہنی سطح کسی مثبت چیز کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتی کیونکہ ہم گدھوں کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہم گدھوں کی تقلید میں ہم اتنے اندھے ہو چکے ہوتے ہیں کہ ہماری آنکھیں انسانوں کو پہچاننے سے عاری ہو جاتی ہیں۔ اور پھر یہ بڑے لوگ دلبرداشتہ ہو کر ہمارے معاشرے کو اس کے حال پر چھوڑ کر گزر جاتے ہیں۔

ہمیں بحثیت قوم کم از کم اتنا علم ضرور حاصل کر لینا چاہیے اور اپنے بچوں کو بھی سکھانا چاہیے جس کی بدولت گدھوں اور انسانوں میں فرق سمجھنا آسان ہو جائے۔ دعا ہے کہ اللہ کریم ہم سب کو گدھوں کو پہچاننے اور انسانوں کی تعظیم کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں