urdu articles and poetry
  • Save

 کون ہے جو آج کل کے دور میں نیٹ ورک کے لفظ سے واقف نہ ہو۔  تیکنیکی زبان میں نیٹ ورک دراصل دو آلات کے درمیان باہمی رابطے کا نام ہے۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ نیٹ ورک صرف آلات کے درمیان نہیں بلکہ شائد قدرت نے ہر چیز کو کسی نہ کسی مربوط نظام میں جوڑ رکھا ہے۔

حدیث شریف سے ایک واقعہ نقل ہے کہ ایک شخص رسول اللہؐ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں بہت سے گناہ کرتا ہوں مگر آپ کے کہنے پر ایک گناہ چھوڑ سکتا ہوں۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا : “تم جھوٹ بولنا چھوڑ دو”۔چنانچہ اس نے جھوٹ کو چھوڑنے کا تہیہ کر لیا۔ اب جو ایک دن شراب پینے بیٹھا تو دل میں خیال آیا کہ اگر رسول اللہ کی بارگاہ میں شراب کی بابت پوچھ لیا گیاتو کیا جواب دوں گا؟ جھوٹ چھوڑنے کا تو وعدہ کر چکا ہوں۔ چنانچہ رفتہ رفتہ محض جھوٹ چھوڑنے کی وجہ سے  وہ شخص بقیہ تمام برائیوں سے بھی تائب ہو گیا۔

آپ کبھی غور کریں کہ جب بھی ہم  کسی ایک برائی میں مبتلا ہوتے ہیں، آہستہ آہستہ دیگر کئی برائیاں  بھی ہمارے اندر گھر بنانے لگتی ہیں۔ ایک برائی سے دوسری، دوسری سے تیسری اور پھر انسان برائیوں اور گناہوں کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے۔جھوٹ دھوکے بازی کو جنم دیتا ہے تو منافقت غیبت پر ابھارتی ہے،حسد اور بغض مل کر اعتبار اور خلوص کو کھا جاتے ہیں۔

 آپ اگر ایک جگہ کھڑے  ہو کر کسی گداگر کو پیسہ دھیلا نواز دیں گے تو چند ہی منٹوں میں  شہر بھر کے گداگر اپنا اپنا حصہ وصول کرنے آپ کے پاس حاضر ہو چکے ہونگے۔ یہ گداگروں کا نیٹ ورک ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے برائیوں کا نیٹ ورک ہے۔گداگر گداگروں کو کھینچ لاتے ہیں، برائیاں ، برائیوں کو کھینچ لاتی ہیں اور  نیکیاں  نیکیوں کو۔

کسی دانا کا قول ہے کہ ہر  ذی روح اپنے ہم جنس ،ہم فطرت کے ساتھ پایا جاتا ہے، شیر شیروں کے ساتھ  ہی پائے جائیں گے، کتے کتوں کے ساتھ ،گدھے گدھوں کے ساتھ، جاہل جاہلوں کے ساتھ، دھوکے باز دھوکے بازوں کے ساتھ اور عالم اہلِ علم کی مجالس میں ہی مل سکتے ہیں۔ کیا خوب کسی نے لکھا ہے کہ “اگر کسی کے بارے میں جاننا ہے کہ وہ کیسا ہے تو یہ دیکھو کہ اسکے دوست کیسے ہیں”۔ یہ بھی ایک نیٹ ورک ہے،ہر شے اپنے اصل کی جانب کھنچی چلی جاتی ہے۔

 ہر چیز کی طرح نیکیوں کا بھی ایک نیٹ ورک، ایک مربوط نظام موجود ہے۔  کوشش کر کے آپ بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بن سکتے ہیں۔  آغاز کے طور پر اپنے اردگرد نگاہ دوڑائیں اور محض ایک نیکی سے آغاز کر دیجئے۔ آپ کے آس پاس موجود لوگ اگر جھوٹ بولتے ہیں، آپ سچ بولنا شروع کر دیجیے۔ آپ کے آس پاس اگر حاسد بستے ہیں ، آپ کینہ اور بغض اپنے دل سے نکال پھینکئے۔ آپ کے  اردگرد اگر بے ایمان اور دھوکے باز  لوگ موجود ہیں تو آپ ایمان دار بن جائیے۔ بس جس بھی نیکی سے آغاز کریں ، اس پر کاربند رہیے۔ آپ دیکھیں گے کہ رفتہ رفتہ وہ ایک نیکی آپ کے اندر نیکیوں کے نیٹ ورک کو تشکیل دینا شروع کر دے گی۔

تو چلیے ،کیوں نہ ہم اور آپ مل کر اس مربوط نیٹ ورک کا حصہ بن جائیں کہ جس میں شامل ہونے کیلئے کسی آلے اور مخصوص ذریعے کی ضرورت بھی نہیں؟

urdu poetry, urdu articles, urdu winter poetry, urdu sad poetry, urdu islamic posts new poetry in urdu

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں