• Save

یہ نظم خود میں محبت کی ایک داستان ہے. جس میں تمہید, تعارفِ محبوب اور حسنِ محبوب کے ساتھ ساتھ زمانے کے لئے ایک پیغام ہے کہ اپنی انا یا ذات و فرقہ کی وجہ سے محبت کا گلا نہ دبائیں. محبت امر ہے محبت کو آپ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے البتہ ایسا کر کے آپ اپنی انا بچا لیتے لیکن اپنے گنوا دیتے ہیں. کیونکہ یہ ہر خاص و عام کیلئے لکھی ہے سو الفاظ بھی ایسے استعمال کئے جو ہر شخص سمجھ سکے

آیا ہے شاخوں پر پھولوں کے کھلنے کا موسم
کہتے ہیں لوگ یہ ہے بچھڑوں سے ملنے کا موسم
یہ موسم کی سب کیلئے شادمانی ہے اس میں
مگر تیرے بغیر تو فقت ویرانی ہے اس میں
ان ویرانیوں میں بس میں ہوں
اور میرے سوا کوئی نہیں
تو میرے ضبط کی داد تو دے
کہ مجھ کو اب بھی تجھ سے گلہ کوئی نہیں
بے گلہ ہوں میں مدت سے
زباں نے عرصے سے چپ سادھ لی ہے
“خدا کرے خوش رہو جہاں رہو”
بس یہی میں نے اس سے آخری بات کی ہے
مگر وہ ناداں کیا جانے کی خوشی کیا ہے
جینا کس کو کہتے ہیں
کبھی ہم اہلِ ظرف کی محفل میں آ
تجھ کو دکھلائیں پینا کس کو کہتے ہیں
یہ جام با جام یہ گھونٹ دو گھونٹ
تمہارا رواج ہو گا لوگو
سبھی پئیں گے صراحی سے
جب کبھی اپنا راج ہو گا لوگو
جام سے یاد آیا اس حسیں کی آنکھوں کا پانی
ہائے! آیا ہے کیا یاد
بس بس رکھ دے بوتل جانی
آؤ یارو تم کو سناؤں اپنے ع ش ق کی کہانی
گو یہ بات ہو چکی اب مدتوں پرانی
اسکی آنکھیں تھی ہیروں کی کان جیسی
ناک دکھتی تھی پکھراج کی چٹان جیسی
اسکے ہونٹ دکھنے میں گلاب جیسے
تاثیر میں کسی مہنگی شراب جیسے
ابھرے ہوئے چمکتے رخسار
گیسو کسی سیاہ آبشار جیسے
دیکھ کے لگتا تھا مصور نے کیا خوب فن دکھا دیا
کاریگر نے کس مہارت سے حسن کو سانچے میں سجھا دیا
وہ دکھنے میں بالکل موم کی گڑیا جیسی تھی
اور میری حالت غریب کی کٹیا جیسی تھی
میں اس پر مرتا تھا وہ مجھ پر مرتی تھی
سبھی لڑکیوں کی طرح وہ بھی بچھڑنے سے ڈرتی تھی
“تم سے بچھڑوں گی تو مر جاؤں گی”
جتنا یاد پڑتا ہے کچھ ایسی باتیں کرتی تھی
مگر قسمت کا لکھا کون جھٹلا سکتا ہے
کبھی پتھر بھی موم سے چوٹ کھا سکتا ہے
وقت اب کروٹ بدل چکا تھا اور
وہ مجھ سے دور ہو گئی تھی
بچھڑنے سے ڈرنے والی لڑکی
بچھڑنے پر مجبور ہو گئی تھی
جی میں آتا ہے کہ اتنا لکھوں
اس نظم پر اک کتاب بنے
اُسے زمانے کا ہر شخص پڑھے
ہر صاحبِ سماعت سنے
تم جو انا کو بچا لو اپنی تو
لوگ بس داد دے دیتے ہیں
مگر یہاں پر کئی ایسے کملے عاشق ہیں
جو بچھڑنے پر جان دے دیتے ہیں
وہ میری جانِ بہاراں وہ میری موم کی گڑیا
آج بھی زمیں کے نیچے محبت کی بیج بو رہی ہے
تم کیا سمجھتے ہو دنیا والو
وہ منوں مٹی تلے بس آرام سے سو رہی ہے
اس سے آگے قلم رُک جاتا ہے
اور کاغذ دھندلا نظر آتا ہے
اور مجھے اس خالی کمرے میں
میرا گمشدہ نظر آتا ہے

مشکل الفاظ کے معنی
شادمانی : خوشی
ضبط : حوصلہ/صبر
اہلِ ظرف : با حوصلہ/ با ہنر
پکھراج : ایک قیمتی پتھر کا نام
گیسو : زلف/ بال
کٹیا : جُھگّی/ ٹوٹا پھوٹا گھر
انا : خودپرستی/ میں
گمشدہ : بچھڑا ہوا/ جداشدہ

21 تبصرے ““نظم: “گمشدہ

  1. واہ کیا خوبصورت نظم جناب. محبت اور محبوب کی خوبصورتی کو کتنی دلنشیں نظم میں بدل دیا آپ نے ساعی صاحب. ماشااللہ اللہ آپ کو بہت کامیابی عطا فرمائے. آمین❤

    1. آمین, بہت شکریہ آپکی نظر کی خوبصورتی ہے, سلامت رہیں

  2. تبصرہ کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں!!!
    پھر بھی یہی کہنا چاہوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔بہت اعلیٰ،بہترین،زبردست!⁦☺️⁩

  3. ہمیشہ کی طرح الگ ہی سرور ہونا۔۔۔۔
    ماشااللہ

  4. Please know I have deep feelings
    About your generous act.
    I really appreciate you;
    You’re special, and that’s a fact!.that is really grateful meaningful poetry so Cary on my son.

    1. thanks so much 💓
      These words of yours are very important to me. Thanks for this encouragement. May Allah keep you safe and sound

  5. الفاظ نہیں اس نظم کی خوبصورتی کو بیان کرنے کے لیے… ماشااللہ.!👌👌

  6. لاجواب، با کمال، دل نشیں اور کیا کہوں الفاظ نہیں ہیں۔ دو دن پہلے جب اس نظم سے نظر گزری تب سے ایسا لگتا ہے اسی کے خمار میں ہوں چلتے پھرتے یہ نظم گنگنائی جاتی ہے۔ آپ سے ذاتی ملاقات کا شرف نہیں نام بھی پہلے نہیں سنا تھا۔ بس یہی کہوں گی اردو ادب کا ایک گمنام ہیرا ایسی چمک سے سامنے آیا ہے کہ اس سے نظر ہٹتی ہی نہیں۔ اللہ آپکو، آپکے قلم کو اور کلام کو سلامت رکھے ۔

    1. آمین بہت نوازش عنائیت شکریہ آپکے یہ الفاظ میرے لئے بہت بڑی حوصلہ افزائی ہیں ہمیشہ سلامت رہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں