مقصد
  • Save

ہوا ، پانی اور خوراک کے ساتھ ساتھ ایک باشعور انسان کو زندہ رکھنے والی چیز اسکا مقصد ہے۔ بے مقصد زندگی فقط ایک بوجھ ہے۔ لوہا بھی اگر استعمال نہ ہو تو زنگ اس پر قبضہ جما لیتا ہے ،اسی طرح اگر انسان کی صلاحیتیں کسی مقصد کی تکمیل میں استعمال نہ ہو رہی ہوں تو منفی سوچ ، کم ہمتی، بزدلی اور احساسِ کمتری کا زنگ انہیں کھا جاتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مقصد کسے کہا جائے ؟ کس چیز کو مقصد بنایا جائے ؟ ہم میں سے ننانوے فیصد لوگ خواہش اور مقصد میں فرق نہیں کر پاتے۔ ذیل میں چند ایسے نکات تحریر کیے جا رہے ہیں ، جنہیں ایک معیار بنا کر آپ اپنے زندگی کے مقصد کا تعین کر سکتے ہیں۔ انہیں ایک فریم ورک سمجھ لیجئے،مقصد کے تعین کیلیے بلیو پرنٹ کہہ لیجئے ، یا مقاصد کو پرکھنے کی کسوٹی کہہ لیجیے، یہ آپ پر منحصر ہے.

1.کسی ضرورت کو مقصد نہیں بنایا جا سکتا:

مقصد کا تعین کرنے کا پہلا اصول ۔ زندگی کی کسی بھی ضرورت کو ہر گز مقصد کا رتبہ نہیں دیا جا سکتا۔ آپ کو گاڑی چاہیے ، آپ کو بینک بیلنس چاہیے ، آپ کو مرتبہ اور عزت چاہیے ،آپ کو شاندار گھر ، اچھا لائف اسٹائل چاہیے – یہ سب چیزیں آپکی ضروریات یا خواہشات کے زمرے میں آتی ہیں ، انہیں مقصد سمجھ کر انکے پیچھے بھاگنے سے گریز کریں۔

ضروریاتِ زندگی انسان کو ہر صورت میں چاہیے ہوتی ہیں ،ہر انسان ان کیلیے کوشش کرتا ہے اور یہ کوشش سے حاصل بھی ہو جاتی ہیں ، لیکن اگر انہیں مقصدِ حیات بنا لیا جائے تو انکے حاصل ہوتے ہی اندر کا انسان مر جاتا ہے اور وہ تمام خرابیاں در آتی ہیں جو انسانی معاشرے میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں۔

چنانچہ پہلا نقطہ ذہن نشین کر لیجئے کہ مقصد کو ضروریات اور خواہشات سے بالاتر ہونا چاہیے۔

2. مقصد کو وقت میں قید نہیں کیا جا سکتا:

اگر کوئی ایسی چیز آپکے ذہن میں ہے جو آنے والے پانچ یا دس سالوں میں آپ لازماً حاصل کر لیں گے ، تو ایسی چیز کو مقصد نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً آپ ایک اسٹوڈنٹ ہیں اور آپکو یقین ہے کہ اگلے چار سالوں میں آپ اپنی گریجوایشن ڈگری مکمل کر لیں گے۔ بالفرض آپ نے چار تعلیمی سال مکمل کرتے ہی ڈگری حاصل کر لی ، اب اگر یہ مقصد تھا تو مقصد تو حاصل ہو گیا ، باقی زندگی کیلئے کیا کریں گے ؟ کوئی نیا مقصد تلاش کریں گے؟

یہ بات بھی ذہن نشین کر لیجئے کہ مقصد دراصل منزل کا نہیں، سفر کا نام ہے۔ اگر آپ نے کسی منزل کو مقصد بنا لیا ہے ، تو منزل پر پہنچتے ہی وقتی سکون کے بعد بوریت اور بیزاری کا احساس گھیر لے گا۔ چنانچہ ایسے رستے کو بطور مقصد چنا جائے جس پر ساری زندگی کیلئے چلنا گوارا کیا جا سکے۔ مثلاً ایدھی فائونڈیشن انسانیت کی جان بچانے کے تحت شروع کی گئی ،یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ یہاں سے ایک نقطہ اور سمجھ میں آتا ہے کہ مقصد آپ کی وفات کے بعد بھی زندہ رہتا ہے ، عبدالستار ایدھی صاحب رحلت فرما گئے لیکن انکا مقصد آج بھی زندہ ہے اور زندہ رہے گا انشاءاللہ۔

3. مقصد ایک کا ، فائدہ سب کا:

مقصد کے حصول کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد دوررس ہوتے ہیں اور اس کے اثرات معاشرے، قوم اور ملکوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مقصد کے فوائد کا دائرہ کار جتنے زیادہ لوگوں تک پھیلے گا ، اتنا ہی مقصد بڑا کہلائے گا۔

مثلآ اگر ہم ایدھی فاؤنڈیشن کی ہی مثال کو آگے بڑھائیں تو معلوم ہو گا کہ ایدھی نے اس سروس سے صرف کراچی کو ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کو مستفید کیا اور اب بھی لاکھوں لوگ روزانہ اس سے مستفید ہوتے ہیں۔

آپ اخوت کی مثال لے لیجئے ، یہ وہ ادارہ ہے جو لوگوں کو بلا سود قرضے فراہم کرتا ہے۔ بڑے مقاصد ، بڑے لوگوں کے ذہنوں میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔ اپنی سوچ کو بڑا کیجئے ، دلوں کو کشادہ کیجئے ، مقاصد جنم لیتے دیر نہیں لگتی۔

آپ اپنے مقصد میں یہ نقطہ شامل کر لیجئے ، آپ بڑے لوگوں کی صف میں شامل ہو جائیں گے۔ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو اپنے گلی، محلہ ، گائوں، معاشرہ ، شہر میں صحت کا معیار بہتر بنانے کو مقصد بنا لیجئے ، اگر استاد ہیں تو تعلیم کا معیار بہتر بنانے کو مقصد بنا لیجئے ، اگر بزنس مین ہیں تو ایمانداری کو مقصد بنا لیجئے۔

الغرض جو بھی کام کر رہے ہیں یا کرنا چاہ رہے ہیں ، اسے اس طرح کیجئے کہ وہ مقصدِ حیات بن جائے نا کہ بوجھ بن کر آپکی زندگی کا سکون ، خوشیاں اور اطمینان غارت کر دے۔

مزید پڑھیں: مقصدیت کا فقدان

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں