pakistan-Allama-iqbal-poetry-urdu-articles-urdu-content-urdu-poetry
  • Save

کراچی کی تنگ گلیوں میں اخبار بیچ کر گزارا کرنے والا   عبدالستار ایک عام نوجوان تھا، اسکی نظروں نے ایک ایکسیڈنٹ دیکھا ، لوگوں کی افراتفری اور بے حسی دیکھی اور  آن کی آن میں ایک جذبہ دل میں ایسا وارد ہوا کہ آج دنیا انہیں عبدالستار ایدھی کے  نام سے جانتی ہے۔یہی مقصد پھر  ایدھی فائونڈیشن  کے قیام کا باعث  بنا   اور اسی مقصدیت نے ایدھی کو قومی اور  عالمی سطح پر پذیرائی اور عزت بخشی اوریوں ایدھی فائونڈیشن سے ‘ایدھی انٹرنیشنل فائونڈیشن ‘ کا خواب شرمندہِ تعبیر ہوا۔حضرت   واصف  علی واصف ؒ فرماتے ہیں کہ “عظیم لوگ بھی مرتے ہیں  لیکن موت انکی عظمت میں اضافہ کرتی ہے”اور اسکی عملی مثالیں ہمیں اپنے اردگرد  ، اپنے آس پاس نظر  آئیں گی۔

آپ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں ریڑھ کی  ہڈی کا کردار ادا کرنے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی مثال لے لیں، آپ  شوکت خانم  اہسپتال کے بانی عمران خان کو دیکھ لیں، آپ تاریخِ پاکستان  کی نامور شخصیات  محمد علی جناح، علامہ محمد اقبال، محمد علی جوہر اور لیاقت علی خان کی مثال لے لیں، آپکو ان میں ایک چیز    عام نظر آئے گی اور وہ ہے مقصدیت۔ انکا مقصد انہیں عام لوگوں سے جدا اور ممتاز کرتا ہے ، اسی مقصد نے کسی سے دیوان لکھوائے، تو کسی کو پاکستان  بننے کی وجہ بنایا، اسی مقصد نے پاکستان کا سب سے بڑا کینسر اہسپتال اور ریسرچ سینٹر بھی بنوا دیا، یہی مقصد  تھا جس نے  جمعہ جمعہ آٹھ د ن کے پاکستان کو ایٹمی قوت بنا کر طاقت ور ممالک کی صف میں شامل کر دیا ، یہی مقصد  آج بھی لوگوں کو کچھ نیا کرنے پر ابھار رہا ہے ، لیکن افسوس اس بات  کا ہے کہ مادیت پرستی او ر ہوسِ زر نے ہم سے مقصد کی سمت   چھین لی ہے ، ہم اپنی نفسانی خواہشات کی آگ میں اپنی نسلوں  تک کو جھونک رہے ہیں۔ آپ اندازہ کریں کہ پچھلے  پانچ سالوں میں نوجوانوں خصوصاً طالب ِعلموں میں خود سوزی او ر خود کشی کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملا ، اہلِ علم اسکی بہت سی وجوہات پیش کرتے ہیں لیکن اس ناچیز کے نزدیک اُن بے شمار وجوہات میں سے ایک ‘مقصدیت کا فقدان ‘ بھی ہے۔

ہمارے معاشرے کے ننانوے فیصد والدین  اپنے بچوں کی خودکشی اور خود سوزی میں  ذمہ دار ہوتے ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ ایک معصوم بچہ کیوں چند نمبروں کے حصول کو ہی اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیتا ہے ؟ کیوں اُسے لگتا ہے کہ میرے میٹرک یا انٹر کے نتائج کے بعد دنیا ختم ہو جائے گی؟ کہیں اسے یہ احساس تو نہیں دلایا جا رہا کہ نمبر اور پوزیشن  انکی جان سے بھی زیادہ قیمتی ہیں ؟ کہیں انکی بچپن کی غلطیاں کرنے والی عمر    کسی سخت مارشل لاء کا شکار ہو کر لگے بندھے اصولوں کی نظر تو نہیں ہو گئی؟

اگر غور کیا جائے تو آپ کو اوپر بیان کیے گئے تمام سوالات کا جواب ہاں میں ملے گا۔     آپ کالجز، یونیورسٹیز  کے ٹاپ کرنے والے طلباء و طالبات  سے  کبھی انکی زندگی کے مقصد پر بات کر کے دیکھیں، اگر آپکا احساس زندہ ہے تو آپ پل بھر میں شرمندگی  اور افسوس سے خود کو ریزہ   ریزہ ہوتے محسوس کریں گے۔ جن علاقوں میں ٹاپ کرنے کے بعد یہ بچے ‘علاقہ کا فخر’ اور ‘صوبہ بھر میں اوًل پوزیشن’ کی سرخیوں کے ساتھ بینرز اور اشتہاروں میں نظر آتے ہیں ، اُس علاقے کی ترقی اور تنزلی سے نہ ان بچوں کو کوئی دلچسپی ہوتی ہے اور نہ انکے والدین کو۔ انکا  اعلٰی پوزیشنیں حاصل کرنے کا مقصد محض اور محض چند روپوں کی ایک چھوٹی سی نوکری کا حصول ہے اور بس۔                      میں نے میڈیکل کے ایک طالبِ علم سے میڈیکل کا شعبہ اپنانے کی وجہ جاننی چاہی تو مجھے جواب ملا “سر میرے ابو نے کہا تھا کہ  اس میں پیسہ بہت ہے” ۔ ہمارے تعلیمی نظام کی خامیاں ایک طرف لیکن کہیں بحثیت والدین اور بحثیت استاد ہم خود   اپنی نئی نسل کے ذہنی اور فکری زوال کا باعث تو نہیں  بنتے جا رہے؟ ۔ ضرور بالواسطہ نہ سہی ، مگر بلا واسطہ  ہم اپنی نسلوں کی بربادی میں حصہ دار ہیں اور ہم  اپنے ہاتھوں ان کچے ذہنوں  میں  انتشار  برپا کر رہے ہیں، اسی لیے امتحانات کے نتائج ان بچوں کیلیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

 قائداعظم ؒ  نے تعلیم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرمایا  کہ “تعلیم پاکستان کیلیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے”۔ آپ اپنے آس پاس کا جائزہ لے کر بتائیں کہ چند ایک سکولوں کے علاوہ باقی تمام سکولوں میں  وائٹ بورڈ سے دیکھ کر کاپی پر نوٹ کرنے ، رٹو طوطے کی طرح بغیر سمجھے  یاد کرنے اور اسے پیپر میں چھاپ دینے میں علم کہاں ہے ؟               اگر ہم اپنی نئی نسل کی فکری اور ذہنی نشونما کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور یہ بھیڑ چال اسی طرح جاری رہتی ہے تو  کچھ عرصے بعد ہم پاکستان کی روائتی محبت اور ثقافت  کے ساتھ  ساتھ  اپنا قومی تشخص تک  کھو دیں گے۔ ہمارے ڈاکٹرز   صحت کا قتلِ عام کرتے  نظر آئیں گے ، ہمارے انجنئیرز    اپنے ملک کیلیے وبالِ جان بن جائیں گے اور ہمارے معیشت دان  ، معیشت کی دھجیاں بکھیرتے   نظر آئیں گے۔ خدارا اپنے بچوں میں مقصدیت کو پروان چڑھایئے ، انہیں اپنے ملک و قوم اور معاشرے کیلیے کا رآمد افراد بنانے پر توجہ دیجئے ۔ پاکستان کو روبوٹس کی نہیں انسانوں کی ضرورت ہے جو پاکستان کو ایک محبوبہ کا درجہ دے کر اس سے محبت کرسکیں   اور آپ یقین کریں ، یہ محبت آپ کے بچے کو سب کچھ بنا دے گی، یہ اسے ایک نامور ڈاکٹر، معروف  انجنئیر، اور بہترین بزنس مین بنا دے گی۔ آپ کا کام بس اًسے “فرد قائم ربطِ ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں ” کی عملی تفسیر بنانا ہے، پھر آپ دیکھیں کہ کیسے نہ صرف ایک  فرد، بلکہ یہ معاشرہ اور ملک تر قی کی منازل طے کرتا ہے۔  

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

مقصدیت کا فقدان” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں