دردِ دل، اردو ادب
  • Save

زندگی کی حقیقت یہ ہے کہ خوشبودار پھول اور سچے لوگ پائوں تلے روندے جاتے ہیں ، انکی عزت نفس پامال کی جاتی ہے ، انہیں انصاف سے محروم کیا جاتا ہے اور ان پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ حق کے رستے پر استقامت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ، ورنہ زیادہ تر منصف تو “تعلق واسطے ” پر ہی بک جاتے ہیں، رشوت کا ذکر تو خیر بعد میں آتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو اکثر معاشروں میں معززین یا عدالتوں میں جج کی حیثیت رکھتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ ہماری روح کا ایک تعلق اس رب کی ذات کے ساتھ بھی ہے اور اسے بھی نبھانا پڑتا ہے۔

اس ہستی کی استقامت کے کیا کہنے جنہوں نے اپنے چچا کو بھی دو ٹوک کہا ” چچا جان ، اگر میرے ایک ہاتھ پر سورج اور ایک پر چاند رکھ دیا جائے ،میں پھر بھی حق بات کہنے سے باز نہیں آئوں گا”.

ہم سے حساس لوگوں کے دل جھیل کی مانند ہوتے ہیں جن میں راہ چلتے مسافر بھی اپنی وقتی تسکین کیلیے پتھر اچھال دیتے ہیں ، اس بات سے قطع نظر کہ وہ پتھر کتنی گہرائی تک گیا ہے۔ ہمارا احتجاج بھی عجیب ہوتا ہے، پتھر پھینکے جانے کے نتیجے میں بننے والی لہروں کی طرح خاموش ، پرسکون، مگر دلفریب۔
کون جانے کہ ان دلکش اور دلفریب لہروں کے پیچھے کتنے پتھروں کا ظلم موجود ہے۔

کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم انسان رشتوں کی گرہ میں اس لیے باندھے جاتے ہیں تاکہ دونوں فریقین کے ظرف کو آزمایا جا سکے۔ شاید یہ محبتیں ، نفرتیں ، ہمدردیاں، مشکلات ، سکون ، خوشی اور غم آتے ہی ہمارا ظرف آزمانے کیلیے ہیں ،انہیں لانے والے انسان ہمارے لیے آزمائش ہوتے ہیں ۔ مجھے بہت دیر سے سمجھ آیا کہ سخت آزمائش تو انسان کی صورت میں نازل ہوتی ہے۔کبھی دل کے بہت قریب ہو جانے والے محبوب کی صورت میں تو کبھی نظر سے گرے ہوئے دشمن کی صورت میں ، کبھی ہمسفر کی صورت میں ، کبھی ہمدرد کی صورت میں ، کبھی چارہ گر تو کبھی بے وفا کی صورت میں۔

جس ویرانے میں کسی انسان کا وجود نہ ہو، وہاں اگر کوئی منچلا پہنچ بھی جائے تو کیا آزمائش اور کہاں کی آزمائش؟ کس سے حسد، کس سے نفرت اور کس سے عداوت ؟۔ شائد محبتوں میں ناکام لوگ آزمائشوں سے بھاگنے لگتے ہیں اور اسی لیے ویرانوں میں پناہ تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

کیا درد آزمائش ہے ؟ اگر درد آزمائش ہے تو درد دینے والا کیا ہے ؟ کیا خوف آزمائش ہے ؟ اگر ہے تو خوفزدہ کرنے والی چیز کو کیا کہیں گے ؟ کیا محبت آزمائش ہے ؟ اگر ہے تو محبوب کیا چیز ہے ؟ کیا خواب آزمائش ہے ؟ اگر ہے تو تخیل اور تصور کیا چیز ہے؟

کیا دنیا آزمائش ہے؟ کیا دنیاوی آفات آزمائش ہیں ؟ اگر ہیں تو عذاب کیا چیز ہے ؟ اگر بارش آزمائش ہے تو سیلاب عذاب کیوں ہے ؟ اگر وصل آزمائش ہے تو فراق عذاب کیوں ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم آزمائش کو ہی عذاب سمجھ لیتے ہوں۔ عذاب کا تعلق تو یوم آخرت کے ساتھ ہے۔

جس ذات نے ہمیں آزمائشوں پر صبر کرنے کی تلقین فرمائی ہے ، وہی ذات آزمائشوں سے نکلنے کے اسباب بھی پیدا فرماتی ہے۔ اس کا کرم ہے کہ اس نے وقت کو پیدا فرمایا تاکہ وہ گزرے ہوئے ماضی کا مرہم بن سکے ، ورنہ شاید درد کے لمحات وہیں ٹھہر جاتے ، جہاں ہم انکا شکار ہوئے تھے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

2 تبصرے “لذتِ درد کو بے درد بھلا کیا جانے

اپنا تبصرہ بھیجیں