urdu artuicles for news
  • Save

غلطیاں انسانی فطرت کا حصہ ہیں۔ اللہ کو پسند ہے کہ اسکا بندہ گناہ کرنے کے بعد اس سے معافی مانگے اور وہ اپنی شانِ کریمی کے صدقے اسے معاف فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
“اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ کریم تمہیں ختم کر کے ایسی قوم پیدا فرما دیں گے جو گناہ کریں گے اور پھر اللہ سے گناہوں کی بخشش طلب کریں گے” ۔

واضح رہے کہ یہاں رحمتِ خداوندی کی وسعت کا بیان مطلوب ہے نہ کہ اس سے مراد دانستہ گناہ کرنا اور پھر اس پر قائم ہو جانا ہے۔

لیکن ہم جس سنگدل معاشرے میں زندہ ہیں وہاں “غلطی ” ایک ناقابل تلافی جرم ہے کہ جس کا کفارہ کبھی کبھی جان کا نذرانہ دے کر بھی ادا نہیں ہوتا۔ نورانی قاعدے سے لیکر پی ایچ ڈی کے مقالے تک اور روایات کی پاسداری سے لے کر روزمرہ کے معاملات تک “غلطی” ہمارے نزدیک ایک شجرِ ممنوعہ ہے۔ ہم ساری زندگی کراماًکاتںین کی طرح اپنے اردگرد بسنے والوں کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا البم تیار کرتے رہتے ہیں تاکہ جب کبھی وہ شخص کچھ بہتر کرنے کی کوشش کرے ، جب بھی وہ ہمیں ترقی کرتا، آگے بڑھتا نظر آئے ، ہم وہ البم لا کر اسکے منہ پر ماریں اور اسکے بڑھنے کے تمام راستے مسدود کر دیں۔

ہمیں کیونکہ پڑھنا نہیں ہے ، نہ ہمیں لوگوں کو پڑھنا ہے، نہ کتابوں کو ، چنانچہ نہ پڑھنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ذہن میں وسعت نہیں آتی اور معاشرے کا ظرف کم ہو جاتا ہے، برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ بڑی ہی حیرت کی بات ہے کہ اٹھارہ اٹھارہ سال کے “کاکے” جو اپنی ذہنی ناپختگی سے باہر نہیں نکلے ہوتے وہ بھی اٹھ کر تجربہ کار لوگوں پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں ۔ واہ میرے مالک! عجب تیری دنیا، غضب تیرے لوگ۔

urdu articles for blog, urdu poetry for quiz,

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں