• Save

یہ غزل عشق مجازی پر لکھی گئی ہے اور ایسے الفاظ استعمال کرنے کی کوشش کی ہے جو ہر شخص با آسانی سمجھ سکے. البتہ مقطع عشق حقیقی پر ہے اور خدا کے ہجر کی بات ہے جو زندگی میں اس سے دوری کاٹی اور مر کر وصال حاصل ہوا. جیسا کہ احمد ندیم قاسمی صاحب کا شعر ہے

اگر ہے موت میں کچھ لطف تو بس اتنا ہے
کہ اسکے بعد خدا کا سراغ پائیں گے ہم

اب غزل کی طرف چلتے ہیں

کوئی ڈھونڈ کر لاؤ میرا ہرجائی
کہو اسے کرے اس غم کی برپائی
تو لوٹے گا کرے گا سبھی خسارے پورے
اسی امید پر شب بھر شمع نہ بجائی
تیرے فراق کے لمحوں میں اک معجزہ ہوا
تو نہ تھا مگر, ہر سو دیتا تھا تو ہی دکھائی
سنا تھا کسی سے کہ تو آ رہا ہے
بعد مدت کے بال سنوارے, خوشبو لگائی
سنا ہے وقت سے پہلے ختم ہو گیا تماشہ
سنا ہے مایوس لوٹ آئے تماشائی
سنا ہے آخر ہجر تمام ہو گیا
سنا ہے کل شب گزر گیا ؔساعی

مشکل الفاظ کے معنی
ہرجائی: ایسا معشوق جو کسی ایک کا پابند نہ ہو
فراق : جدائی
ہجر : جدائی

14 تبصرے “غزل: کوئی ڈھونڈ کر لاؤ میرا ہرجائی

  1. واہ ماشاءاللہ ساعی بھائی کمال کر دیا ۔ اللہ آپ کو عروج عطا فرمائے

  2. واہ واہ! محترم کیا کہنے آپ کے۔ ماشااللہ بہت زبردست۔ اللہ آپکو بہت ترقی دیں۔ آمین😊

اپنا تبصرہ بھیجیں