• Save

عشقِ مجازی پر لکھی گئی ایک غزل ہے. جو اپنے اندر تصورِ محبوب, ادائے محبوب اور رومان رکھتی ہے. شاعری کا خاصہ ہے کہ ہر بات کو ادب کے دائرے میں اس طرح بیان کیا جائے کہ بات سمجھ آ جائے مگر معیوب نہ لگے اور یہ خاصیت اس غزل میں موجود ہے. شاعری کی تاریخ سے ایسی غزلیات کا حوالہ دیتے ہوئے عظیم شاعر داغ دہلوی کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں
یہ سیر ہے کہ دوپٹہ اڑا رہی ہے ہوا

چھپاتے ہیں جو وہ سینہ کمر نہیں چھپتی
اب آج کی غزل کی جانب چلتے ہیں

مجھے کہیں سے مشکِ کستوری آ رہی ہے
لگتا ہے وہ میری جانب قدم بڑھا رہی ہے
میں جو رات کو گھر سے نکل آیا آج یونہی
مجھے بادِ شب تیرے گیت سنا رہی ہے
اس کو چلتے جو دیکھے تو جنگل میں کہیں جا چُھپے
یہ جو ہرنی چال پر اپنی یوں اِترا رہی ہے
آ گئی ہیں تتلیاں میرے ویرانے میں گلستاں سمجھ کر
آج ہوا میرے کمرے میں تیرے خط اُڑا رہی ہے
شبِ وصل کہیں ساری جھجک میں نہ بھیت جائے
سحر قریب ہے اور تُو اب تک گھبرا رہی ہے
میں نے دیکھا صبح کو لی جب اس نے انگڑائی
اب وہ مجھ سے بھاگ نہیں رہی مگر شرما رہی ہے
خاطرِ راحتِ دل ؔساعی اسے دریچے سے دیکھ رہا ہوں
وہ کچھ بدلی بدلی سی چال سے جانبِ گھر جا رہی ہے

مشکل الفاظ کے معنی
مشکِ کستوری : ایک قیمتی خوشبو جو ہرن کے ناف سے حاصل ہوتی ہے
بادِ شب : رات کی ہوا
شبِ وصل : عاشق اور محبوب کے ملنے کی رات
دریچہ : کھڑکی

22 تبصرے “غزل: “مجھے کہیں سے مشکِ کستوری آ رہی ہے”

  1. اعلی ماشااللہ اللہ مزید طاقت دے آ پ کے قلم کو آ مین

    1. بہت عنائیت بھائی سلامت رہیں ہمیشہ بہت شکریہ, بس مکرر اب ادھر کیسے آئیں

اپنا تبصرہ بھیجیں