اردو غزل
  • Save

غزل کا پس منظر:

چراغ کتنا ہی روشن کیوں نہ ہو، اسکی روشنی کتنی ہی جاذب نظر اور اسکی چمک کتنی ہی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی کیوں نہ ہو، یہ چاہ کر بھی اپنے نیچے دیکھنے سے قاصر ہوتا ہے۔ اسکی لو کے نیچے ہمیشہ اندھیرا ہی رہتا ہے۔ کتنا ظلم ہے ، کتنی بے بسی ہے اور کتنی التجا ہوتی ہے اس لو کی ٹمٹماہٹ میں جو گردوپیش کو تو روشن کر دیتی ہے لیکن اپنے قریب دیکھنے سے قاصر رہتی ہے۔ ہم سے حساس فظرت لوگوں کی زندگیوں میں محبتیں بھی یہی چراغ بن کر آتی ہیں جن کی چاشنی دور دور تک اپنے معجزات دکھاتی ہے لیکن ہم سے لوگ شائد نزدیک ہونے کی جستجو میں پلو پکڑے، دامن تھامے، اندھیرے میں ہی رہ جاتے ہیں۔ اک دردِ مسلسل دل میں لیے ہم اس امید پر قائم رہتے ہیں کہ شائد کوئی روشنی کا بھٹکا ہوا ہالہ ہم پر بھی پڑ جائے شائد وہ اپنے، جن کیلئے ہم قربانیاں اور درد سہتے رہے ہیں، شائد انہیں یہ سب نظر آجائے۔ شائد۔۔۔

دل نے چاہا کہ کوئی رنج اٹھا کر دیکھوں
کوئی دھوکہ ، کوئی چوٹ، میں کھا کر دیکھوں

پھر محبت کروں ؟ خاک بنوں ؟ درد سہوں ؟
یا پھر اپنوں کے دیے زخم بھلا کر دیکھوں ؟

سوچتا ہوں کہ خاموش رہوں، کچھ نہ کہوں
اور یادوں کے سبھی نقش مٹا کر دیکھوں

شاید کہ تعبیر امیدوں کے موافق نکلے
پھر سے آنکھوں میں کوئی خواب سجا کر دیکھوں

وہ لوٹ کے آئے تو یہ ستانے لگا خیال
اب دل سے نکالوں یا دل لگا کر دیکھوں

بے روح اُلفتوں سے واقف میں ہو گیا ہوں
اور چاہتا ہوں کہ یہ خبر اڑا کر دیکھوں

کتنے آنسو میرے ٹپکے درِ دنیا کیلیے
کیوں نہ سجدوں میں کوئی اشک بہا کر دیکھوں ؟

شاعر: محمد اطیب اسلم

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

4 تبصرے “غزل: دل نے چاہا کہ کوئی رنج اُٹھا کر دیکھوں

اپنا تبصرہ بھیجیں