دلِ نادان
  • Save

غزل کا پس منظر:

شاعر اپنوں کی بے رخی اور سنگ دلی کا شکوہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ہم سے حساس لوگوں کو جینے کا حق تو انکے اپنے بھی دینا گوارہ نہیں کرتے، معاشرہ، گائوں اور شہر کے لوگ تو بعد کی باتیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ جن کے دل بڑے ہوتے ہیں، انہیں درد بھی بڑے ملتے ہیں۔ شاعر کے پاس کچھ ایسی تلخ یادوں کا ذخیرہ موجود ہے جو خنجر کی طرح اسکے دل میں گڑا ہے اور پتھر کی طرح یادوں کے دشت میں پڑا ہے۔ گزرتا ہر دن ان خنجروں میں، ان پتھروں میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ ہم سے حساس لوگ شائد دنیا میں بھیجے ہی اس لیے گئے ہیں کہ دنیا کے لوگ ہم پر اپنے طنز کے نشتر چلا سکیں، اپنے الفاظ کے زہر آلود تیروں سے ہمیں گھائل کر سکیں اور اس طرح اپنی انا کی تسکین کر سکیں۔ معلوم نہیں اگر ہم سے لوگ دنیا میں موجود نہ ہوتے تو انا پرستوں کا گزارہ کیسے ہوتا؟ کون انہیں میسر آتا کہ جس کے دل پر کچوکے لگا کر یہ اپنی اذیت پسند فطرت کی تسکین کر سکتے؟

دل نادان تیرے درد سنبھالے نہ گئے
کتنے ارماں تھے جو آنکھوں سے نکالے نہ گئے

میں نے دشمن کے سبھی وار تحمل سے سہے
میرے اپنوں کے زخم ، مجھ سے سنبھالے نہ گئے

سنگ کھائے تیری گلیوں میں ٹہلتے ہوئے ہم نے
زخم بھر گئے ، پر پائوں کے چھالے نہ گئے

ہجر کے اندھیر نگر میں تیری یادوں کے سبب
دلِ امید میں روشن یہ اجالے نہ گئے

ملنے جاتے تو فقط دل ہی جلاتے اپنا
ہم منافق نہ تھے، سو ہاتھ ملانے نہ گئے

شاعر: محمد اطیب اسلم

غزل کے بارے میں مجھے آپکی آراء کا انتظار رہے گا۔ شکریہ

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

2 تبصرے “غزل: دلِ نادان تیرے درد سنبھالے نہ گئے

اپنا تبصرہ بھیجیں