urdu ghazal urdu poetry on islam
  • Save

غزل کا پس منظر

آج سے کچھ عرصہ پیچھے جائیں جب اسلامی تہذیب و نمدن کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کی جہالت میں ہدایت کی کرنیں بکھیر رہا تھا ،تو نہ صرف قرآن و سنت بلکہ سائنس فلاسفی، ادب اور فنونِ لطیفہ کے ماہرین بھی پیدا ہوتے رہے ۔ اسلامی اقدار کے عروج میں مسجد کے ایک طرف مدرسہ اور دوسری طرف مکتب ہوا کرتا تھا ، تب کوئی دینی اور دنیاوی کی تقسیم علم پر لاگو نہ تھی۔

لیکن جب سے نام نہاد لبرلز نے مغرب سے متاثر ہو کر اسلامی تہذٰب کی دھجیاں بکھیرنا شروع کیں تب سے ‘مولوی’ نام کی ایک نئی لغت وجود میں آئی، لبرلز کے مطابق ان لوگوں کو صرف مدرسہ میں ہونا چاہیے ، دوسرے علوم سے انکا کوئی تعلق نہیں چنانچہ اس تقسیم نے نہ صرف عام مسلمانوں کو سائنس سے دور کر دیا بلکہ ساینس و مذہب کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی جسے توڑنا روز بروز مشکل ہو رہا ہے۔ ذیل میں موجود غزل اسی دینی اور دنیاوی تعلیم کی تقسیم کی بدولت پیدا ہونے والے مسائل سے متعلق ہے۔

اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ ہمارے ہاں کے مولوی قرآن و سنت کے لفظی مفہوم سے تو واقف ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اخلاقیات اور انسانی ہمدردی اور عصری علوم سے بے خبر ہیں اور دیگر علوم کو ‘کافر کی چیز’ کہہ کر پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ تصویر کے دوسرے رُخ پر نظر ڈالی جائے تو سائنسی علوم کے ماہرین اسلامی اقدار سے نابلد نظر آئیں گے۔ افسوس صد افسوس!

ہم تو سمجھے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحاد بھی ساتھ
(علامہ محمد اقبال)

بہت تعارف ہو چکا اب غزل ملاحظہ فرمائیں۔

اپنی پارسائی کا رعب ہم پر نہ ڈالیے
ہم سیاہ کاروں کو چھوڑیے خود کو سنبھالیے

نماز روزہ سب فرض، بہتر ہے اسکے ساتھ ساتھ
اپنے دل کو پاک کر کے چاہتوں میں ڈھالیے

مُجھ پہ کفر و شرک کے فتوے سبھی جائز مگر
شیخ صاحب! اپنے دامن میں بھی نظریں ڈالیے

عِلم دیں سے پہلے دو صدق و امانت کا درس
سائنس و مذہب کے ساتھ ساتھ، اخلاقیات پڑھائیے

شیخ صاحب آپ گر ہیں دودھ کے دُھلے ہوئے
پہلے ناحق و ناجائز مال و زر تو نکالیے

منبروں پر بیٹھ کر دیجئے نہ فتنوں کا درس
بٰخدا منبر کی عزت، سرِ راہ نہ اُچھالیے

شاعر: محمد اطیب اسلم

غزل سے متعلق اپنی پسندیدگی یا نا پسندیدگی کا اظہار آپ نیچے کمنٹس میں کر سکتے ہیں۔ شکریہ

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں