ختم نبوت
  • Save

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

ترجمہ: “محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں اورا للہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتا ہے” ۔ (سورہ احزاب : 40)

خاتم النبیین سے مراد ہے کہ  رسولِ کریم ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ تمام مسلمانوں کا اس بات پر  کامل ایمان ہے اور یہ ایمان کا تقاضا بھی ہے کیونکہ  آیتِ قرآنی کو کسی صورت جھٹلایا نہیں جا سکتا۔   اسی عقیدے کو عقیدہ ختمِ نبوت کا نام دیا جاتا ہے ۔

عقیدہ ختم ِ نبوت کی تصدیق قرآن کریم کی مندرجہ ذیل آیت سے بھی ہوتی ہے :

ترجمہ: “اے ایمان والو! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور اس کتاب پر جس کو رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا  گیا اور ان رسولوں اورکتابوں پر جو ان سے پہلے نازل کی گئیں”۔ (سورہ النساء: 136)

  اس آیت کی روشنی میں کوئی بھی  سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص  آسانی سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ  جس طرح اللہ تعالیٰ نے  حضور ﷺ سے پہلے آنے والے  انبیاء  اور کتابوں پر ایمان لانے کی تاکید فرمائی ، اسی طرح اگر نبی اکرمﷺ کے بعد کسی نبی کا مبعوث کیا جانا مقصود ہوتا تو قرآن کریم لازماً اسکی   نبوت پر ایمان لانے کی بھی تاکید کرتا۔

اسی طرح حدیثِ مبارکہ میں آتاہے:

“اور بے شک میری اُمت میں تیس کذاب ہوں گے، ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ اور میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں”۔ (سنن ابی داود: ۴۲۵۲ وسندہ صحیح)

قادیانی دائرہ اسلام سے خارج کیوں؟

 ایک مسلمان  ہونے کےناطے ہم سب عقیدہ ختم ِ نبوت پر غیر مشروط  اور غیر متزلزل ایمان رکھنے کے پابند ہیں۔ چنانچہ اب  کوئی شخص اگر نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا    کسی کو نبی مان کر اپنے ایمان کا سودا کر لیتا ہے تو اسکا صاف صاف مطلب یہ ہوا کہ وہ  قرآن پاک پر یقین نہیں رکھتا اور دائرہ اسلام سے بھی خارج ہے۔

 خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت میں مسیلمہ  کذاب نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تو   صدیقِ اکبر نے انکے خلاف اعلانِ جنگ کیا اور مسیلمہ کذاب اور  اسکے  ماننے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔

 قادیانیوں کے ساتھ ہم مسلمانوں کے واحد اختلاف کی وجہ یہی عقیدہ ختم نبوت ہے ۔قادیانی رسول اللہ ﷺ کی بجائے مرزا غلام قادیانی (ملعون ) کو اپنا نبی تسلیم کرتے ہیں اور سونے پر سہاگہ یہ کہ خود  کو مسلمان  بھی کہلوانا چاہتے ہیں۔    حکومتِ پاکستان نے 1974 میں قادیانیوں کو باقاعدہ قانونی طور پر غیر مسلم قرار دیا، قانون کی رُو سے قادیانی  خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتے، اپنی عبادت گاہوں کو مسجد نہیں کہہ سکتے، قادیانی لٹریچر اور عقائد کی تبلیغ نہیں کر سکتے    اور نہ ہی اپنے مذہب کیلئے    اسلامی شعائرو اصلاحات استعمال کر سکتے ہیں۔

اس سب کے باوجود افسوس اس بات کا ہے کہ  قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں اسی طرح جاری  و ساری ہیں۔ یہ لوگ  خود کو  قادیانی کی بجائے “احمدی ” مسلم کہلواتے ہیں اور سادہ لوح مسلمانوں کو یہ گمراہ کن تاثر  پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ باقی مسالک اور فرقوں کی طرح “احمدی ” بھی ایک مسلمان فرقہ ہے۔ جبکہ حقیقیت یہ ہے کہ  لفظ احمدی دراصل یہ لوگ مرزا غلام احمد قادیانی (ملعون ) کی مناسبت سے استعمال کرتے ہیں۔  قادیانی، احمدی اور لاہوری گروپ اسی فتنے کے مختلف نام ہیں۔

قادیانیوں کا طریقہ” واردات”:

 قادیانی اور احمدی کہلوانے وا لے فتنہ پرور اور   جھوٹ کے پیروکار “بغل میں چھری ، منہ میں رام رام” کے مصداق  اپنی زبان کی مٹھاس سے سادہ لوح مسلمانوں کو بہکانے اور عقیدہ ختمِ نبوت سے متنفر کرنے میں پوری طرح مصروف ِعمل ہیں۔ عام مسلمانوں کو گمراہ کرنے  کرنے کیلئے یہ مندرجہ ذیل چند تدابیر استعمال کرتے ہیں:

1۔قادیانیوں کا پہلا مقصد  کسی بھی مسلمان کے دل میں ختمِ نبوت سے متعلق شک کے بیج بونا ہوتا ہے ۔ اس مقصد کیلئے یہ لوگ یہ لوگ ختمِ نبوت کے سلسلے میں اوپر بیان کی گئی آیت کو بھی ٹھکرانے سے گریز نہیں کریں گے بلکہ اسکی کچھ اس طرح سے تشریح پیش کرتے نظر آتے ہیں کہ ” تشریعی نبوت کا سلسہ بند ہو چکا ہے جبکہ غیر تشریعی نبوت کا سلسلہ جاری و ساری ہے” حالانکہ اگر ایسا کچھ معاملہ ہوتا تو قرآن  اور مستند احادیث  میں ضرور اسکی کوئی توجیح موجود ہوتی۔یہاں پر یہ بھی واضح کرتا چلوں کہ  جہاں آپکے دل میں ختمِ نبوت سے متعلق شک و شبہ پیدا ہوا سمجھیں آپکا ایمان لُٹ گیا اور  ایک قادیانی کی سب سے بڑی کوشش یہی ہوتی ہے ، تاکہ سامنے موجود انسان بدلے میں اس سے دلیل مانگے اور یہ لوگ اپنی چکنی چیڑی باتیں اور جھوٹ کی آمیزش سے اُسے   راہِ راست سے بہکا سکیں۔

یہ بات بھی یاد رکھیں کہ مستند علماء کے نزدیک رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کے نبی ہونے کی دلیل مانگنا بھی  کفر میں شامل ہے  کیونکہ جس شخص  نے دلیل مانگی تو واضح مطلب ہوا کہ اُسے ختمِ نبوت سے متعلق آیات  اور احادیث میں شبہ ہے ۔ اس صورت میں اسکا کیا ایمان باقی رہ جائے گا؟

2۔ دوسرا  جو موقف قادیانی فتنہ گروپ اختیار کرتا ہے وہ یہ کہ حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ نزول کو  مرزا غلام قادیانی (ملعون) کے نبوت کے جھوٹے دعوے کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ قرآن ِ کریم اور حدیثِ مبارکہ سے یہ بات ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کو اللہ تعالی نے زندہ آسمان پر اٹھا لیا تھا اور وہ قربِ قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔مندرجہ ذیل آیات اور احادیث ملاحظہ فرمائیں:

ترجمہ: اور ان کے اس کہنے (یعنی فخریہ دعوٰی) کی وجہ سے (بھی) کہ ہم نے اﷲ کے رسول، مریم کے بیٹے عیسٰی مسیح کو قتل کر ڈالا ہے، حالانکہ انہوں نے نہ ان کو قتل کیا اور نہ انہیں سولی چڑھایا مگر (ہوا یہ کہ) ان کے لئے (کسی کو عیسٰی علیہ السلام کا) ہم شکل بنا دیا گیا، اور بیشک جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں وہ یقیناً اس (قتل کے حوالے) سے شک میں پڑے ہوئے ہیں، انہیں (حقیقتِ حال کا) کچھ بھی علم نہیں مگر یہ کہ گمان کی پیروی (کر رہے ہیں)، اور انہوں نے عیسٰی (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیابلکہ اﷲ نے انہیں اپنی طرف (آسمان پر) اٹھا لیا، اور اﷲ غالب حکمت والا ہے۔” ( سورہ النساء: 157،158)

حضرت عیسیٰؑ کے دوبارہ نزول کے بارے میں مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

” حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے تو مسلمانوں کا امیر ان سے کہے گا آگے تشریف لائے اور نماز پڑھائے تو وہ عرض کریں گے نہیں تم لوگ خود ایک دوسرے کے امیر ہو اور اللہ کی جانب سے یہ اس امت کا اکرام ہے”۔(مسلم)

“حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ (دجال کا قصہ بیان کرتے ہوئے )فرماتے ہیں کہ اس وقت اچانک حضرت عیسیٰؑ مسلمانوں کے پاس پہنچیں گے نماز کھڑی ہو رہی ہو گی ان سے کہا جائے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے ۔وہ کہیں گے تمہارا امام ہی آگے بڑھ کر نماز پڑھائے گا ۔نما زسے فارغ ہو کر لوگ دجال کے مقابلے کے لئے نکلیں گے دجال حضرت عیسیٰؑ کو دیکھ کر ایسا گھلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔پھر حضرت عیسیٰؑ آگے بڑھ کر اس کو قتل کردیں گے اور حالت یہ ہوگی کہ شجر وحجر آواز لگائیں گے کہ اے روح اللہ میرے پیچھے یہودی چھپاہے ،چنانچہ وہ دجال کے چیلوں میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے”۔(مسند احمد)

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو بھی یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کا ظہور دجال کی آمد کے بعد متوقع ہے جبکہ مرزا ملعون کے چیلے اسے حضرت عیسیٰؑ ثابت کرنے پر تُلے ہوئے ہیں(نعوذ باللہ)۔

اختتامی الفاظ:

ختمِ نبوت پر یقین  اور اسکا تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے ۔ چنانچہ ہمیں اس  سے متعلق اپنے بچوں، دوستوں اور ملنے والوں کو بھی آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ قادیانیت کے شیطانی فتنے سے اپنے ایمان کی حفاظت کر سکیں۔اسکے ساتھ ساتھ حکومت ِ وقت کو بھی چاہیے کہ  قادیانیوں کے متعلق جو  قانون 1974ء میں منظور کیا گیا اُس پر عمل کروایا جائے  ، اور  ختمِ نبوت عقیدہ کے خلاف عمل کرنے والوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو صدیقِ اکبر نے مسیلمہ کذاب اور اسکے حواریوں کے ساتھ کیا۔  دعا ہے کہ  اللہ تعالی دنیاوی فتنوں سے  تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں