سائنس ٹیکنالوجی اردو
  • Save

ارے  ارے ! رکیے تو! آپ تو عنوان پڑھ کر چونک ہی گئے۔ اس سے پہلے کہ آپ ہمیں کوئی خبطی قسم کا انسان سمجھ لیں، ہم  آپ کا تعارف”نیل  ہاربِسن” (Neil Harbisson)سے کرواتے ہیں۔جی ہاں! یہ صاحب   رنگوں کو “سُن” سکتے ہیں۔

نیل ہاربِسن  پیدا ئشی طور پر  Achromatopsia   نامی بیماری  میں مبتلا تھا ، جس میں آنکھیں رنگوں کی پہچان کھو بیٹھتی ہیں ۔چنانچہ یہ بچپن سے ہی رنگوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے عاری تھا، یہ رنگوں کی دلکشی سے ناواقف تھا۔  اسکی آنکھیں  ہر چیز کو گرے یا ‘بلیک اینڈ وائٹ’ ہی دیکھ سکتی تھیں۔اپنی اس بیماری کو راہ کا پتھر بنانے کی بجائے نیل نے 2003 ء میں “سائبر نیٹکس”(Cybernetics)(سائنس کی وہ شاخ جس میں مشینوں اور جانداروں  میں موجود آٹومیٹک  کنٹرول سسٹمز کا مشاہدہ کیا جاتا ہے)کے ماہر  کمپیوٹر سائنٹسٹ ” آدم مونٹین دن”(Adam Montandon) کے ساتھ مل کر “آئی بورگ”(Eyeborg) نامی آلہ تیار کیا ،جو سامنے موجود  رنگ  کوپہچان کر  اسکی فریکو ئینسی کے مطابق      ایک آواز پیدا کرتا ہے ، چنانچہ سننے والا اس آواز  سے  رنگ کو پہچان سکتا ہے۔ ہاں ، البتہ شروع میں آلہ استعمال کرنے والے کو  ہر رنگ کی مخصوص آواز کو یاد کرنا پڑتا ہے۔مثلاً ، ہو سکتا ہے سبز رنگ کے سامنے آنے پر یہ آلہ ایک سیٹی کی سی آواز پیدا کرے، اس صورت میں آلہ استعمال کرنے والے کو یہ پتہ ہونا ضروری ہے کہ ‘سیٹی’ دراصل سبز رنگ کو ظاہر کرتی ہے۔

آئی بورگ(Eyeborg) کیسے کام کرتا ہے؟

       اسے سمجھنے کیلئے آپ کو سب سے پہلے روشنی کے طول موج (wavelength) اور فریکوئینسی(Frequency) کو سمجھنا ہو گا۔

محترم قارئین ! جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہماری کا ئنات میں  روشنی کی مختلف قسم کی شعاعیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ان شعاعوں  کو سمجھنے کیلئے سائنس میں  انہیں لہروں کی تعداد اور لمبائی کے مطابق ترتیب دیا جاتا ہے ، اس ترتیب کو ‘برقی مقناطیسی طیف’ یا Electromagnetic spectrumکہا جاتاہے۔   اس برقی مقناطیسی طیف میں سے وہ لہریں جنہیں ہماری آنکھیں دیکھ سکتی ہیں ، “مرئی اشعاع” (Visible light)کہلاتی ہیں،اور یہ بالائے بنفشی (Ultraviolet)اور(InfraRed) زیریں سُرخ کے درمیان واقع ہیں، جیسا کہ مندرجہ ذیل تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

برقی مقناطیسی طیف
  • Save
Electromagnetic SPectrum

“مرئی اشعاع “(visible light) کا طول موج 380(wavelength) سے 760 نینو میٹر (ایک نینو میٹر ، میٹر کا ایک ارب واں حصہ ہوتا ہے )کے درمیان ہوتا ہے ۔ طول موج سے دراصل لہروں کی لمبائی مراد ہے، چنانچہ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہماری آنکھیں 380 سے 760 نینومیٹر کی درمیانی لمبائی رکھنے والی روشنی کی لہروں کو محسوس کر سکتی ہیں جن میں سرخ، سبز، نیلا، پیلا، نارنجی ، جامنی اور ان سے بننے والے مختلف رنگ شامل ہیں۔ اس سے کم یا زیادہ  لمبائی (طول موج) والی لہروں کو محسوس کرنا ہماری آنکھوں کے بس کی بات نہیں۔ اسی طرح “مرئی اشعاع” کی فریکوئینسی (ایک سیکنڈ میں کسی خاص نقطے سے گزرنے والی لہروں کی تعداد کو فریکوئینسی کا نام دیا جاتا ہے۔ایک ہرٹز   فریکوئینسی سے مراد ہے کہ ایک سیکنڈ میں محض ایک لہر کسی بھی مخصوص نقطے سے گزر سکتی ہے ) 430 ٹیرا ہرٹز سے 750 ٹیرا ہرٹز تک ہو سکتی ہے۔  

Electromagnetic spectrum urdu
  • Save

   آئی بورگ دراصل ایک ایسے سینسر پر مشتمل ہے  جو سامنے موجود روشنی کی فریکو ئنسی کو محسوس کر کے  اسکی اطلاع سر کے پچھلے حصے میں نصب چِپ تک پہنچاتا ہے ، اور یہ چِپ اس فریکوئینسی کی مخصوص آواز “بون کنڈکشن ” (Bone Conduction)نامی عمل کے ذریعے اندرونی کان تک پہنچا دیتی ہے ۔ چنانچہ اس طرح نیل ہاربِسن آسانی سے اپنے سامنے موجود رنگ کو سُن سکتے ہیں۔

Neil harbisson urdu
  • Save

  ہم نے ابھی ابھی “بون کنڈکشن ” (bone conduction)کا ذکر کیا ، آیئے اسے بھی سمجھ لیتے ہیں۔ آپ بھی حیران ہو رہے ہونگےکہ  آواز سُننے کیلئے تو چِپ کو کان میں لگانا چاہیے ، سر میں نصب کرنے سے کیسے آواز سنائی دے سکتی ہے؟ تو آپکا جواب یہ ہے کہ اسی چیز کو “بون کنڈکشن ” کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں آواز  ہوا کے ذریعے ہمارے بیرونی کان سے داخل ہو کر اندرونی کان اور پھر دماغ تک پہنچتی ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری کھوپڑی  ہوا کی نسبت آواز کا زیادہ بہترین موصل(conductor) ہے؟

اسکا تجربہ آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ ایک گھڑی لیجیے اور اسے منہ میں رکھ کر منہ بند کر لیجئے ۔  گھڑی کی ٹِک ٹِک کی آواز کیسی سُنائی دے رہی ہے؟ اب دونوں ہاتھوں کو کانوں پر رکھ لیجئے ۔ دوبارہ سُنئے۔ آپ محسوس کریں گے کہ جیسے ہی آپ نے کانوں کو ہاتھوں سے بند کیا ، آواز کم ہونے کی بجائے زیادہ سُنائی دینے لگی ہے کیونکہ اس عمل میں آواز “بون کنڈکشن” کے ذریعے اندرونی کان تک منتقل ہو رہی ہے۔

  آئی بورگ  کیونکہ بالائے بنفشی لہروں  کو بھی محسوس کر سکتا ہے ، چنانچہ نیل ہاربسن اسکی مدد سے  ماحول  میں موجود بالائے بنفشی اشعاع کی زیادتی یا کمی کو بھی محسوس کر سکتے ہیں۔ “خصوصاً اسکی مدد سے ہم یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کب ہمیں دھوپ میں باہر نکلنا چاہیے اور کب نہیں، کیونکہ بالائے بنفشی لہروں کی زیادتی ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہے”(نیل ہاربسن)۔

نیل ہاربسن نے “سائبورگ فائونڈیشن ” کے نام سے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے جس کا مقصد لوگوں کو  ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنی جسمانی استعداد بڑھانے پر راضی کرنا ہے۔  اِن کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کو اپنی استعداد اور جسمانی حسیات بڑھانے کا بھرپور موقع فراہم کر رہی ہے چنانچہ اب وقت ہے کہ سمارٹ فون اور دیگر اشیاء استعمال کرنے کی بجائے اپنے جسم  کو  ہی ٹیکنالوجی سے لیس کر لیا جائے۔

اختتامی الفاظ:

 اگر آپ بھی نیل ہاربسن کی طرح  مختلف فریکوئینسی کے رنگوں کو سننا چاہتے ہیں تو  تجرباتی طور پر آپ “آئی بورگ” نامی ایپ کو اپنے سمارٹ فون پر ڈائون لوڈ کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کیلئے رنگوں کو سننا ممکن بنا دےگی۔ اسے اینڈرائیڈ کیلئے  پلے سٹورسے ڈائون لوڈ کیا  جا سکتا ہے۔

   کیا آپ رنگوں کو سننا پسند کریں گے؟اس  مضمون کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کرنا مت بھولیے گا۔ 

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

2 تبصرے “رنگ بول سکتے ہیں!

  1. بہت خوبصورت بھائی اور علم سے بھرپور تحریر

    1. جزاک اللہ پیارے بھائی۔ اللہ کریم آپکے جان، مال ، عزت و آپرو اور کاروبار میں برکت عطا فرمائے

اپنا تبصرہ بھیجیں