• Save

حضرت واصف علی واصف ؒ  لکھتے ہیں کہ” جب انسان کسی  خواہش کا جواز اپنے ضمیر میں تلاش نہیں کر پاتا ، تو خوفزدہ ہونا لازمی ہے“۔ خوف دراصل  کسی اندیشے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خلش کا نام ہے، اس اندیشے کا سبب کوئی منفی سوچ بھی ہو سکتی ہے، کسی گناہ کا احساس، کسی غلطی کی سزا بھی خوف کی صورت میں ظاہر ہو سکتی ہے۔خوف کہاں سے آتا ہے؟ کچھ خوف ہمارا معاشرہ عطا کرتا ہے، کچھ خوف والدین کی طرف سے ملتے ہیں، زندگی کے تجربات بھی بیشتر خوف ساتھ لاتے ہیں، کچھ خوف پیدائشی بھی ہوتے ہیں، مثلاًدم گھٹنے کا خوف، آپ ایک یا دو سیکنڈ کیلیےکسی  ناسمجھ بچے کا  ناک اور منہ دونوں ہاتھوں سے بند کر دیں، وہ خوفزدہ ہو جائے گا،  بلندی کا خوف،  کسی بھی بچے کو  دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر اچانک اوپر اچھالیں، وہ گھبرا جائے گا، یہ الگ بات ہے کہ اسکی مسکراہٹ اس  یقین کی علامت ہے کہ نیچے کھڑا شخص مجھے تھام لے گا۔ آواز کا خوف، تیز شور کی آوازیا دھماکے کی آواز بچے کو خوفزدہ کر دے گی۔

بعض دفعہ کسی  خاص چیز کا علم خوف کا باعث بن سکتا ہے ، اسی طرح  کچھ چیزوں سے لاعلمی بھی خوف پیدا کر سکتی ہے۔ اللہ کے احکامات پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں ملنے والی سزا  کا یقین خوف پیدا کرے گا، جس شخص کو  سزا و جزا اور روزِآخرت کا خوف نہ ہو، اسے خدا  کا بھی ڈر نہیں۔ خوف سے اعمال ِزندگی اور عقائد بھی بنتے ہیں، غیر مسلم موت سے ڈرتے ہیں، جبکہ موت کے بعد ملنے والی زندگی کا یقین ایک سچے مسلمان کو خوف سے آزاد کر دیتا ہے۔کسی چیز کی اوقات سے زیادہ فراوانی خوف پیدا کر دے گی، مشہور لوگ اور  سیلیبریٹیز باہر نکلنے سے ڈرتے ہیں،  حد سے زیادہ دولت غریب ہو جانے کا ڈر پیدا کرے گی، عزت، عروج اور مرتبہ زوال کے خوف کا باعث بنتا ہے۔  خوفزدہ انسان کی دنیا اندھیر ہوتی ہے، وہ اپنے سائے سے ڈرتا ہے، وہ لوگوں سے ڈرتا ہے، حیرت کی بات ہے لوگ لوگوں سے ڈرتے ہیں مگر رب سے نہیں۔ سائنس کی رُو سے ہم روشنی کا مطالعہ کر سکتے ہیں، اندھیرے کا نہیں،  آواز کی غیر موجودگی ہی  خاموشی کہلائے گی، خوف کی غیر موجودگی ہی دلیری کا باعث بنے گی ۔بہادری کے ہزاروں قصے سنتے اور پڑھتے ہیں، تاریخ بڑے بڑے بہادروں سے بھری پڑی ہے، کبھی کسی کے خوف کا قصہ نہیں سُنا۔ کیا خوف اپنا وجود رکھتا ہے؟

کچھ لوگ، کچھ معاشرے  خوف بانٹتے ہیں، کمپنیاں خوف کا کاروبار کررہی ہیں، انشورنس کمپنیوں کی مثال ہمارے سامنے ہیں،  گھریلو استعمال کی اشیاء تیار کرنے والی کمپنیاں    گارنٹی کے نام پر لاکھوں کما رہی ہیں۔ خوف ایک تحریک بھی ہے، محفوظ زندگی کی ضمانت بھی ،جس معاشرے سے اللہ کا خوف ختم  ہو جائے ،وہاں جرائم کا تناسب بڑھ جاتا ہے،وہ معاشرہ جہنم بن جاتا ہے، وہاں بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہوتی ہیں، بڑے مجرم دندناتے پھرتے ہیں اور معمولی سائیکل چرانے والے ساری عمر جیلوں میں سڑتے ہیں۔ خوف متعدد بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے، کسی کے خود سے آگے نکل جانے کا خوف حسد جیسی روحانی بیماری کو جنم دیتا ہے، روحانی بیماریاں روح کو گھائل کرنے کے بعد جسم کو بھی گھن کی طرح چاٹنے لگتی ہیں، شائد اسی لیے ہر خوفزدہ انسان  کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہے۔ مزدور آج بھی روکھی سوکھی کھا کر تندرست رہتے ہیں۔

خوف کا واحد علاج بے نیازی ہے، اللہ کے مقرب بندے دنیا کی آسائشوں سے بے نیاز ہوتے ہیں، اسی لیے انکے ہاں خوف اور حزن نہیں پایا جاتا۔ خوف سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے اندر اللہ کا خوف پیدا کر لیا جائے، یہ خوف بندے کو ہر خوف سے آزاد کر دیتا ہے، پھر وہ اندلس کی سرزمین پر بھی اترے تو کشتیاں جلا دےگا، تین سو تیرہ کے ساتھ ایک ہزار کے لشکر سے ٹکرا جائے گا اور محض بارہ ہزار تعداد کے ساتھ سندھ کے راجائوں سے ٹکر لے لے گا۔ لاخوفی خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر دیتی ہے، ایسا شخص دور اندیش ہوتا ہے ، اسے خوشبوئیں دِکھ جاتی ہیں اور رنگ نظر آنے لگتے ہیں ۔ وہ چراغ کی طرح ہوتا ہے جو بھٹکے ہوئوں کو راستہ دِکھاتا ہے، وہ ایسا شاہین بن جاتا ہے، جِسے آسمانوں سے آگے کے آسمانوں تک رسائی ہوتی ہے۔ مسلمان جب تک اپنی اصل سے جڑا رہے گا، لاخوف رہے گا، اگر مسلمانیت کو بھلا دے گا تو اس پر خوف مسلط کر دیا جائےگا، نوجوان مسلم کو  اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو جگانے کیلیے اقبالؒ کا اندازِ تدبر اختیار کرنا ہو گا ورنہ خوف اس قوم کی تقدیر بن جائے گا۔

مزید مضامین: مقصدیت کا فقدان

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں