• Save

ویسے تو میں غزل کا شاعر ہوں نظمیں صرف دو چار ہی لکھی ہیں لیکن شعورِ فکر بلاگ کے ناظرین سے جو محبت نظم پر ملی سو ایک اور نظم آپ پیارے لوگوں کے لیے. اس کے بعد غزل سے ہی کام چلانا ہو گا آپ کو اور امید ہے غزلیات پر بھی ایسی ہی محبت کا اظہار کریں گے. یہ نظم خدا کی تلاش میں نکلے ایک شخص کی حقیقی کہانی ہے. جو ایک شب اس کے ساتھ پیش آئی. درحقیقت یہ نظم خدا کی طرف سے ایک انعام سمجھتا ہوں میں

یہ بات ہے گزشتہ رات کی
بات ہے اِک گہرے راز کی
میں وقت کی رفتار سے کہیں پیچھے رہ گیا تھا
میں ایک ایسی خلا میں تھا
جدھر آسمانِ زمیں نیچے رہ گیا تھا
سوچ رہا تھا
میں کس قدر بلندی پر آ گیا ہوں
شائید میں دنیا و جہاں سے کہیں دور
کسی مرتبہ قلندری پر آگیا ہوں
پھر آئی آواز کے اس سے آگے
تو عشق کا پہلا مرحلہ ہے
جس آسماں کو تو چھوڑ آیا ہے
اس سے آگے اصل آسمانی سلسلہ ہے
میں بلندیوں کی سیڑھیاں چڑھتا جا رہا تھا
اور شدتِ اضطراب سے میرا دل
پھٹتا جا رہا تھا
اتنے میں مجھے دور کہیں سے ایک روشنی دکھائی دی
اس روشنی کے ساتھ بڑی پُر لطف ایک صدا سنائی دی
میں بھاگا جدھر سے آ رہی روشنی کی لڑی تھی
جا کر دیکھا, میرے سامنے محبت مجسم کھڑی تھی
محبت کی خوبصورتی کو میں
لفظوں میں بیاں کر نہیں سکتا
یہ اک راز ہے جسے
چاہ کر بھی عیاں کر نہیں سکتا
وہ مجھ سے بڑی شائستگی سے بولی
اک طویل سفر ہے وہاں سے یہاں تک
اے خاک کے پتلے!
تو آ گیا کس طرح سے یہاں تک
میں سَر جھکا کر بولا,
آیا ہوں یہاں تلاش کرنے خدا کو
ہزاروں ارماں لیے, خواہشوں کا کہرام لیے
ملنے خدا کو
میں سب چھوڑ کر خدا کی تلاش میں یہاں آیا تھا
رہتا ہے خدا ساتوں آسمانوں کے پار کہیں
مجھے شیخ نے یہ بتایا تھا
وہ بولی مسکرا کر
جا اس سامنے حوض میں کود جا
جانا ہے اگر تو نے اس بلندی پر تو
پہلے ڈوب جا
میں اس گہرائی میں ڈوبتا جا رہا تھا
اب مجھے اضطراب سے زیادہ سکوں آ رہا تھا
(ڈوبنے کے بعد)
مجھے ہر طرف اِک اَن دیکھی روشنی کا گماں ہوا
آخر کار میری حسرتوں کو حاصل, دیدارِ خدا ہو
مجھے اس روشنی میں
کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا
مگر مجھے محسوس ہوا
وہیں کہیں پر خدا تھا
میں یہ سوچ کر خوش تھا
میں عرشِ معلہ پر آ گیا ہوں
میں تو سارے آسماں گزر آیا
میں تو چھا گیا ہوں
اتنے میں آئی صدا,
خاکی نہ سوچ ساتوں آسماں گزر آیا ہے
عرش تو ہے دور بہت
تو اپنے ہی سینے میں اُتر آیا ہے
اس طویل سفر کے بعد میں
خدا کے مکاں کو پہچان گیا تھا
مجھے خود پر رشک آ رہا تھا
میں اپنے مقام کو جان گیا تھا
یہ سارا خلا یہ سارا آسمانی سلسلہ
میرے ہی اندر ہے
پہچان لے جو خود کو تو
ہر انسان قلندر ہے
محبت ہے سراغِ خدا
خدا تک جانے کا اور کوئی سلسلہ نہیں ہے
خودی کو پہچاننا ہی ہے عشق
عشق میں کوئی دوسرا فلسفہ نہیں ہے
پہنچنا ہے اگر خدا تک تو
ؔساعی نفرتوں کو مار دے
جو حاصل ہوں کسی کے نقصاں سے
ایسی حسرتوں کو مار دے

مشکل الفاظ کے معنی
آسمانِ زمیں : زمین کے اوپر کا آسمان/ جو آسمان ہمیں نظر آتا ہے
اضطراب : بے چینی/ بے قراری
مجسم : جسم کی شکل میں
شائستگی : تمیز/ اخلاق/ تہزیب
خاک کا پتلا : مٹی سے بنا (مراد انسان)
کہرام : ہنگامہ/ شوروغل
شیخ : پیر/ پیشوا/ مرشد
عرش معلہ : خدا کا عرش
خاکی : مٹی سے بنا (مراد انسان)
خودی : اپنا آپ

18 تبصرے ““نظم: “خدا کی تلاش

  1. ماشااللہ بہت خوبصورت نظم ہے۔ بندے کو خدا سے جوڑنے والے الفاظ کا مجموعہ 🥰

      1. بہت خوب نقش بندی کی انسان کی خدا سے ملنے کی خواہش کی۔
        🥀

  2. ماشااللہ بہت عمدہ نظم… خدا سے محبت کو بہت خوبصورت الفاظ میں بیان کیا. اللہ سلامت رکھیں آپکو بھی اور آپ کے خوبصورت ہُنر کو بھی. اللہ آپکو بہت کامیاب کریں. آمین…!!!

    1. آمین ثم آمین بہت بہت عنائیت صدا سلامت رہیں

  3. ماشااللہ بہت خوبصورت، بہت عمدہ۔۔۔ اللہ سلامت رکھیں۔ آمین۔۔۔!!

  4. واہ ماشااللہ۔ بہت زبردست، بہت کمال کی نظم۔ اللہ کامیاب کرے۔ آمین۔

  5. واہ واہ ماشااللہ! کیا ہی زبردست نظم لکھ ڈالی آپ نے. بہت خوب.

اپنا تبصرہ بھیجیں