ہمدردی اردو شاعری
  • Save

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے ، جب پاکستان سیٹیزن پورٹل نیا نیا لانچ ہوا تھا۔ چونکہ ہم بھی  بیورو کریسی  اور سرکاری دفاتر کی ذلالت سے تنگ تھے چنانچہ  اس  سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے محلے میں  ایک ناجائز قبضے کے خلاف کمپلینٹ ایوانِ بالا تک پہنچائی ۔معاملہ کچھ یوں تھا کہ ایک صاحب نے شارع عام پر چھپر بنا کر ناجائز قبضہ کر رکھا تھا ، مزید یہ کہ جانور کچھ اس ترتیب سے سڑک میں باندھے جاتے کہ پیدل گزرنا بھی محال ہو جاتا۔

 کمپلینٹ کیا کی ،  چند ہی دنوں میں  رام رام کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ کیا پٹواری، کیا پنساری، کیا مردانہ تو کیا زنانہ، کیا نمبردار تو کیا جمعدار ، سب ہی باری باری اپنی سفارشوں کا ٹوکرا اٹھائے آن حاضر ہوئے۔ کہیں سے دھمکیاں ملیں تو کسی نے آنے والی مشکلات سے ڈرایا ۔

لیکن ان سب میں افسوسناک بات یہ تھی کہ لگ بھگ سب ہی لوگ اپنی طرف سے ‘ناجائز قابض ‘  کیلئے ہمدردیاں نچھاور کر رہے تھے اور مجھے گویا یوں محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی جادوئی کہانی کا کردار ہوں جس نے سلطنت کی شہزادی کو اغواء کر لیا  ہے اور اب عنقریب کوئی شہزادہ اللہ کا عذاب بن کر مجھ پر نازل ہونے والاہے۔ “ارے جانے دیجئے اطیب صاحب، چھوڑئیے، انکی مجبوری ہے، غریب لوگ ہیں ۔۔۔”۔خیر  وہ معاملہ تو حل ہو گیا لیکن کچھ موم بتی معززین کی اصلیت بھی دکھا گیا۔

اسی طرح ایک واقعہ دیکھنے میں آیا کہ ایک غریب گھر کی لڑکی سے کسی نے بداخلاقی کرنے کی کوشش کی ۔ بات تھانے پہنچ  گئی ، پرچہ کٹ گیا۔ اب کچھ نام نہاد معززین ابھی داڑھیوں کے انبار سنبھالے روزانہ صلح نامہ لیکر لڑکی کے گھر پہنچ جاتے ہیں۔ “ارے چھوڑیئے ، جانے دیجیے ، بچہ تھا ، غلطی ہوگئی ،  اب  جو ہونا تھا سو ہو گیا ۔۔۔”۔

صلح برابری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ظالم اور مظلوم کے درمیان صلح نہیں انصاف کیا جاتا ہے ، ہاں مفاہمت سے کوئی راہ نکل آئے تو اور  بات ہے۔

اب اسے سادگی کہیے یا جہالت ،  بیوقوفی کہئے یا منافقت ، ایسی ہمدردی سے اللہ کی پناہ جو صرف قانون توڑنے والوں کیلئے ہو ، ظالموں کیلئے ہو یا طاقتوروں کیلئے ہو۔  عجب حیرت ہوئی کہ ہم کس قدر منافق معاشرے میں زندہ ہیں۔  ہمیں کسی مزدور کو ازراہِ ہمدردی مزدوری زیادہ دینے میں ہتک محسوس ہوتی ہے، ہمیں کبھی کسی محنت کش سے ہمدردی نہیں ہوئی ، ہمیں کبھی اس بچےسے  ہمدردی نہیں ہوئی   ہوٹل پر کام کرتا ہے، ہمیں کبھی اس فروٹ بیچنے والے سے ہمدردی نہیں  ہوئی جو محنت کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، ہمیں کبھی  محنت کرنے والوں ، بڑے خواب دیکھنے والوں ، نیا بزنس شروع کرنے والوں ، حلال رزق کمانے والوں ، سے ہمدردی  نہیں ہوئی۔ وہاں پر ہمارے اندر چھپا ہوا بغض، کینہ اور حسد باہر آجاتا ہے، لیکن قانون ظالم  کو سزا دے تو ہمیں ہمدردی ہونے لگتی ہے۔

معاشرے کا کیا رونا ، ہماری عدالتیں تک  اس نام نہاد ہمدردی کی وبا کا شکار ہیں۔ کوئی  مجرم ہمدردی کی بدولت ملک سے باہر چلا جاتا ہے تو کوئی ہمدردی کے نام پر ووٹ اکٹھے کر لیتا ہے۔ یہی بے جا ہمدردیاں ہمارے ملک کو ، ہمارے معاشرے کو ، ہماری ثقافت کو اور ہمارے انصاف  کو لے ڈوبی ہیں۔  حضرت  علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ “ظالم سے ہمدردی مظلوم  پر ظلم کرنے کے برابر ہے”۔ اسی طرح واقعہ مشہور ہے  کہ ایک دفعہ کسی معزز قبیلے کی ایک خاتون نے چوری کی، نبی کریم ؐ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم جاری فرمایا۔ اس پر علاقہ کے  چند معززین نے اعتراض کیا تو تاریخ ساز جملہ یاقوتی ہونٹوں سے ادا ہوا، فرمایا: “اگر میری  بیٹی فاطمہ بنتِ محمدؐ بھی چوری کرتی تو میں اسکا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔”

اسلام جہاں مساوات کا  اور محبت کا درس دیتا ہے ،  وہیں اسلام نے سخت سزائیں اور قوانین بھی متعارف کروائے ہیں۔ اسلام کی نظر میں گھوڑا اور گدھا برابر نہیں، اسلام نے ابوجہل اور عمر کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ چنانچہ ظالم کو ،بالخصوص ، اپنی ہمدردی کی نظر سے دیکھنا بند کیجئے، چشمے کانمبر بدلیے حضور، انصاف کا چشمہ لگائیے ، امید ہے افاقہ ہوگا۔ 

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں