haavi poetry december poetry
  • Save

کھلے نہ بال چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم
گرم کوئی شال اوڑھو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

برسی ہے باغیچے میں، پوری رات ہی شبنم
نہ ننگے پاٶں دوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

بہت نازک طبیعت ہو، میری مانو یہ مت کرنا
نہ گیلے پھول توڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

برف پہ دل بنانا یوں، تمھیں بیمار کردے گا
میری جاں ضد یہ چھوڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

ٹھٹھرنے سے تو بہتر ہے، پاس چمنی کے سنگ بیٹھیں
گاڑی گھر کو موڑو تم، بہت ہی سرد ہے موسم

(شاعر: طارق اقبال حاوی)

2 تبصرے “بہت ہی سرد ہے موسم

اپنا تبصرہ بھیجیں