• Save

“اور زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا، عقل کو بھی لگ جاتا ہے ۔ اور ایسا تب ہوتا ہے جب ہم بہت سے معاملات میں بجائے حقیقت کو دیکھنے کے اپنی آنکھیں محض اس لئے بند کر لینا مناسب سمجھ لیتے ہیں کہ بات ہمارے پیاروں کی ہوتی ہے۔ اور پھر یوں آنکھوں کو مسلسل بند کئے رکھنا عقل کو زنگ آلود کرتا رہتا ہے اور جب عقل خستہ ہو جائے تو بھرنا اس پر لازم ہو جاتا ہے۔ اور پھر زنگ آلود اور بھری ہوئی عقل کسی معاملے یا فیصلے میں آپکو معتبر نہیں ٹھہرا سکتی، بندوں میں بھی رب کے حضور بھی”(طارق اقبال حاوی)

2 تبصرے “زنگ محض لوہے کو نہیں لگتا

اپنا تبصرہ بھیجیں