اردو کہانی
  • Save

مولانا جلال الدین رومی ؒ ایک حکایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ نے عقاب پال رکھا تھا۔ ایک دن یوں ہوا کہ  وہ عقاب بادشاہ کے پاس سے اُڑ گیا اور راستہ بھٹک کر ایک بوڑھی عورت کے گھر پہنچ گیا ۔ عورت نے جب عقاب کے بڑے بڑے ناخنوں  اور پروں کو دیکھا تو کفِ افسوس  ملتے ہوئے اس کے پروں اور ناخنوں کو کاٹ دیا اور کہا “ہائے افسوس! کہ آج سے پہلے تو کس نادان کے ہاں پڑا تھا، جس نے تیری دیکھ بھال ہی نہ کی”۔

مولانا فرماتے ہیں کہ جاہل اور نادان کی محبت اسی بوڑھی عورت کی طرح ہوتی ہے کہ عقاب کے اصل کمالات اور خوبیاں تو اس کے پروں اور ناخنوں میں پوشیدہ تھیں، لیکن اُس بوڑھی عورت نے اپنی نادانی کے باعث  اسے عقاب کی خامیاں شمار کیااور عقاب کو اسکے بہترین کمالات سے محروم کر دیا۔

اندازہ کریں کہ اتنا عرصہ پہلے کہی گئی حکایت کس خوبی سے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ یہاں نام نہاد لبرل اور لنڈا مافیا خود کو مرشد کہلواتا ہے اور حیرت اس بات پر ہے کہ کئی سمجھدار لوگ بھی ایسے مرشدوں کاشکار بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم نے زندگی میں کبھی کوئی بڑا آدمی  نہیں دیکھا ہوتا چنانچہ بیشتر اوقات جن لوگوں کو ہم اپنے غم خوار اور مرشد سمجھے بیٹھے ہوتے ہیں وہ ہمارے ہی کمالات سے ہمیں محروم کر رہے ہوتے ہیں۔

بطور استاد، مجھے  ملک کے تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ طلباء کے والدین سے بھی سخت گلہ ہے ۔ ہمارا تعلیمی نظام ، ہمارے اسکول، والدین اور کسی حد تک اساتذۃ بھی اُس بوڑھی عورت کی مانند ہیں، جو بچوں کے اوصاف کو انکی خرابیاں گدانتے ہوئے انکی  خوشیاں، انکا بچپن بلکہ بعض  حالات میں تو زندگی تک چھین لیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کیا اسکول تخلیقی صلاحیتوں کے قاتل ہیں؟

یقین نہ آئے تو میٹرک اور انٹر کے امتحانات کے دنوں کے اخبارات اُٹھا کر دیکھ لیجئے۔ کتنی ہی خبریں ایسی ہونگی جس میں بچوں نے محض نمبر کم آنے پر خود کشیاں کر لیں۔ اس جاں سوزی کے پیچھے کیا عوامل کار فرما ہیں، کیا کبھی آپ نے اس پر غور کیا؟ نادان والدین اور استاد محض نمبروں کی دوڑ میں اندھوں کی طرح اپنے بچوں کو  آگ میں جھونک رہے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ ہر  انسان کو قدرت نے الگ کمالات اور خوبیوں سے نوازا ہے ، ہم  ہر شخص سے ایک جیسا ہونے کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟ ہم کسی گھوڑے سے تیراکی اور کسی مچھلی سے درخت پھلانگنے کی امید نہیں رکھ سکتے تو ا اپنے جان سے پیارے بچوں کے معاملے میں اتنے بے حس اور لاپرواہ کیوں ہیں؟

مغرب نے اس بات کو بہت اچھے سے جان لیا ہے چنانچہ آپ کسی ترقی یافتہ ملک مثلاً فن لینڈ کا تعلیمی نظام اُٹھا کر دیکھ لیجئے ، آپ کو ہم میں اور اُن میں زمین آسمان کا فرق نظر آئے گا۔ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ساری دنیا میں طلباء  نت نئی ایجادات، اختراعات اور اسٹارٹ اپس شروع کر رہے ہیں، دنیا پرابلم سولونگ ( مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت) پر زور دے رہی ہے اور ہم ابھی تک اپنے بچوں کی ذہانت کو 33 نمبروں سے ناپ رہے ہیں۔  

والدین اگر اپنے بچوں کو   انکے کمالات سے محروم کر کے انکی خوشیاں نہیں چھیننا چاہتے تو خود کو مطالعہ کی عادت ڈالیں۔ آج کل تو معلومات تک رسائی انٹرنیٹ کی بدولت اتنی آسان ہو چکی ہے کہ کوئی بھی  کسی معاملے سے نابلد ہونے کا بہانہ استعمال نہیں کر سکتا۔ آپ اگر والدین ہیں ، یا استاد ہیں تو پہلے خود کو دورِ حاضر کے تعلیمی تقاضوں سے بہرہ ور کریں، اپنے بچوں کو کسی احمق  مرشد کو سونپنے سے پہلے خدارا خود کچھ ریسرچ کریں اور پھر بچے کو  اپنی مرضی کے فن میں قدم جمانے کا موقع فرہم کیجئے ، انہیں نمبروں کی ریس میں گھوڑے بنانے کی بجائے معاشرے کا کارآمد شہری بنانے پر زور دیں ، بچہ  اپنا معاشی  اسٹیٹس خود ہی بنا لے گا۔

اردو کہانی کیلئے اور اردو مضامین کیلئےہمارا بلاگ دیکھیں

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں