اردو افسانے
  • Save

میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا ، میرا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے کے ساتھ تھا۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ میں منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا۔ ہوش سنبھالا تو ہر طرف خوشحالی کا دور دورہ دیکھا ، دولت ہمارے آگے پیچھے رقص کرتی تھی اور آسودگی ہم پر اپنے آنچل کا سایہ کیے رکھتی تھی۔ گداگروں اور فقیروں کیلیے ہمارا گھر حاتم طائی کے آستانے سے کم نہ تھا ۔

اس سب کے باوجود ماں جی نے کبھی ہمیں اپنی اوقات نہیں بھولنے دی تھی۔
میرے والد صاحب کا جوتے سینے سے لے کر جوتوں کا کاروبار شروع کرنے کی کہانی ، اپنے بڑوں کی محنتوں کی کہانیاں ، چرخہ کاتنے سے لیکر تپتی گرم دوپہر میں مزدوری کرنے کی کہانیاں ، ماں جی کی سنائی گئی ان تمام کہانیوں نے مل کر ہم میں احساس کی دولت کو پروان چڑھایا اور ہمیں درد کی لذت سے آشنائی دی۔

ماں جی ایک اسکول ٹیچر تھیں چنانچہ اکثر ہمیں اپنے اسکول کی لائبریری سے پڑھنے کیلیے کہانیاں لا دیتیں ۔ اسکا فایدہ یہ ہوا کہ پرائمری سے ہی میری اور میرے دوسرے بہن بھائیوں کی مطالعہ کی عادت پختہ ہوتی چلی گئی۔مڈل تک یہ عالم تھا کہ ماں جی کے اسکول کی لائبریری کے بعد گائوں میں موجود واحد پرائیویٹ لائبریری میں موجود شائد ہی کوئی کتاب ایسی ہو جو میری نظر سے نہ گزری ہو۔ پانچ روپے فی گھنٹہ کرایہ پر ملنے والی کتاب میرے لیے ایک نہایت مناسب سودا تھا اور میں نے اسکا بھرپور فائدہ اٹھایا۔

میری عادات روائتی امیر زادوں کے سراسر الٹ تھیں ، مجال ہے جو آج تک ذرہ بھر بھی دل میں بڑائی یا تکبر کا خیال آیا ہو۔ کہتے ہیں کہ ناول اور افسانے کسی بھی معاشرے میں عام فرد کی زندگی کی عکاسی کرتے ہیں۔لیکن شائد یہ میری کم نصیبی ہے کہ آج تک مجھے کوئی کتاب ، کوئی ناول ، کوئی افسانہ ایسا نہیں مل سکا جس میں میری کہانی بیان ہوئی ہو۔

اردو ادب کی کوئی داستان ، کوئی کہانی ایسی نہیں جو امیر و غریب کرداروں کو بیان کرتی ہو اور جس میں امیر یا خوشحال کو ظالم ،نا انصاف ، طاقتور ، جابر اور معاشرے کا ناسور نہ کہا گیا ہو۔ اردو ادب کے کم و بیش تمام ہی لکھاریوں کے نزدیک امیر ہو جانا ، خوشحال ہو جانا یا ترقی یافتہ ہو جانا شائد ایک ناقابل تلافی جرم ہے جسکا بدلہ وہ اپنی کہانیوں میں کرداروں سے لیا کرتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان کہانیوں کے ذریعے امیر و غریب میں نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کی بجائے محنت کی ترغیب دی جاتی ، مثبت پہلوؤں کو ابھارا جاتا ، حسد کی بجائے رشک کے جذبات کی تعمیر کی جاتی تو شاید میری کہانی اس سے مختلف ہوتی۔

شائد انہی افسانوں کا عکس مجھے اپنی زندگی میں بڑی شدت سے دیکھنے کو ملا۔ ہر غریب کے نزدیک ایک امیر شخص جہنمی، کرپٹ ، ناانصاف اور بدمعاش ہے۔ مجھے نفرتوں ، طعنوں، طنز اور حسد کے شعلوں کا سامنا صرف اس لیے کرنا پڑا کہ میرا تعلق ایک خوشحال گھرانے سے ہے۔ ماں جی کہا کرتی تھیں کہ “غریب سب سے بڑا ظالم ہوتا ہے ” ، مجھے نہیں معلوم کے اردو کے افسانوں میں بیان کیے گئے شکرگزار ، رحمدل اور ہمدرد غریب کہاں ملتے ہیں ، لیکن ماں جی کا کہا گیا یہ فقرہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوا۔

رفتہ رفتہ مجھے اس فقرے کی حقیقت سمجھ آتی گئی ، مجھے سمجھ آگیا کہ غربت کا تعلق معاشی آسودگی سے نہیں ہوتا ، غربت ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں کی غربت میں ماحول اور معاشرہ بھی شامل رہا ہو ،لیکن میں نے اپنی اب تک کی زندگی میں غریبوں کو کم تولتے دیکھا ، میں نے غریبوں کو ملاوٹ کرتے دیکھا ، میں نے غریبوں کو موت بانٹتے دیکھا ، میں نے غریبوں کو کنجوس ، بے رحم اور پتھر دل دیکھا۔ ہر قسم کے نت نئے فراڈ، ملاوٹ کے طریقے اور جلدی امیر ہو جانے کے شارٹ کٹس مجھے غریبوں کی محافل میں نظر آئے۔

میں غریبوں کے خلاف نہیں ، میں غربت کے خلاف ہوں بلکہ میں ذہنی غربت کے خلاف ہوں ۔ مجھے کام چوروں سے نفرت ہے ، میں کم ہمتی کو ناپسند کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ میری کہانی سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو لیکن یہ میری کہانی ہے اور اس میں وہی کچھ بیان ہوا ہے جو مجھ پر بیت چکا ہے۔

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں