respect-in-urdu=urdu-essay-urdu-poetry-urdu-article-ادب
  • Save

ادب کا موضوع کسی تعارف کا محتاج نہیں، مسلمان ہونے کے  ناطے ہم  اسلام میں ادبی اقدار کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے  جس کی تصدیق نبی کریم (ﷺ) کے اس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ “جس میں ادب نہیں، اس میں دین نہیں”۔ دیکھا جائے تو اس حدیثِ مبارکہ  اور اسلامی اسلاف و اکابرکی درخشندہ زندگیوں سے یہی پیغام ملتا ہے کہ دین سارا کا سارا ادب ہے۔ خود صحابہ اکرام نے  اپنے عام افعال میں بھی ادب کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا ، یہاں تک کہ رسول اللہﷺ کے وضو کا ایک قطرہ بھی زمین پر  نہ گرنے دیتے۔ مسلم شریف میں روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے چچا حضرت عباس ؒ  سے، جو عمر میں رسول اللہ سے دو سال بڑ ے تھے ، کسی نے سوال کیا کہ آپ بڑے ہیں یا  رسول ﷺ؟ سوال سیدھا سا تھا ، سائل کا مقصد بھی  عُمر کے بارے میں پوچھنا ہی تھا، لیکن حضرت عباسؒ نے ادب کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے فرمایا ، “بڑے رسول ﷺ ہی  ہیں لیکن عمر میری زیادہ ہے۔”

 ایک عرصے تک یہی ادب اسلامی معاشرے کا دستور رہا ، زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب   برِصغیر پاک و ہند میں لوگ بزرگوں کے آگے چلنا، اُن کی بات ٹالنا یا اونچی آواز سے بولنا گستاخی شمار کرتے تھے ۔  گائوں میں کسی کے ہاں فوتگی  ہو جاتی تو ہفتہ  بلکہ مہینوں تک تعظیم کی وجہ سے شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کو ٹال دیا جاتا تھا، ہمسائے خود سے کھانا بنا کر فوتگی والے گھر بھیجتے اور  کئی کئی دِنوں تک محلے میں سوگواری اور اداسی کا عالم چھایا رہتا۔ حافظِ قرآن  اور اساتذہ کا ادب اتنا تھا کہ جس گلی سے یہ گزر رہے ہوتے وہاں آوازیں تک ایسے دب جایا  کرتی تھیں جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔۔۔ کہ مبادا کہیں نادانستگی میں کوئی گستاخی سرزد نہ ہو جائے۔

ادب دراصل خود  کو ناقص اور دوسر ے کو باکمال سمجھنے کا نام ہے ، گویا ادب عاجزی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتِ عثمانیہ کے دور میں ترکوں نے  جب مسجدِ نبوی  کی تعمیرِ نو کا رادہ کیا تو  25 سال کی محنت سے حافظِ قرآن  اور تعمیرات کے فن میں یکتا نوجوانوں کی جماعت تیار کی، ادب کا یہ عالم تھا کہ پتھر، لکڑی اور شیشے کا سامان رکھنے کیلیے  خصوصاً مدینہ سے باہر ایک بستی بسائی تاکہ کام کے دوران شور سے مدینہ کا سکون برباد نہ ہو، اگر مدینہ میں کسی پتھر کی کٹائی کی ضرورت پیش آتی تو اسے واپس بستی لایا جاتا اور ترمیم کے بعد مدینہ لے جایا جاتا، ساتھ ہی ماہرین کیلیے یہ حکم بھی تھا کہ تعمیر کے دوران باوضو رہیں اور درود شریف کی تلاوت کرتے رہیں۔

یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ادب کے معانی نظریات پر منحصر ہیں، اسے کسی مخصوص تعریف میں سمویا نہیں جا سکتا لیکن ہم نے بدقسمتی سے ادب کو چند مخصوص تعظیمی فقرات اور اعمال تک محدود کر دیا ہے۔ ادب  نسبتاً بھی کیا جاتا ہے ۔۔۔ مثلاً قرآنِ پاک کا ادب ضروری ہے کیونکہ کلامِ اللہ ہے، حالانکہ جو ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ تو کاغذوں کا مجموعہ ہے جس کے اوپر سیاہی سے چند نقوش درج ہیں، کلام تو وہ ہے جس کا تکلم کیا جائے ۔۔۔ جو زبان سے ادا ہو، لیکن ان نقوش کی نسبت کیونکہ کلامِ اللہ سے ہے ، چنانچہ ان صفحوں کا ادب بھی ضروری ٹھہرا، پھر جس غلاف میں قرآن کو لپیٹا گیا ، اسکا ادب بھی لازمی ہوا اور جس  جگہ پراسے رکھا گیا وہ جگہ بھی مقدم اور پاک سمجھی گئی۔ ایک عام عمارت کو اگر مسجد کا درجہ دے دیا جائے تو آن کی آن میں مقدم بن جاتی ہے،  مکہ اور مدینہ کا ادب لازم ہے کیونکہ نسبت نبی کریم ﷺ کے ساتھ ہے۔  

 طاغوتی طاقتوں کا اسلام پر سب سے خطرناک وار اسی رستے سے ہو ا ہے جبکہ کچھ لوگ بے حیائی اور فحاشی کو سمجھ رہے ہیں۔ بے حیائی بھی اس انتشار کی ذمہ دار ہے لیکن چونکہ فحاشی اور بے حیائی کا  بُرا ہونا سمجھ میں آتا ہے اس لیے اسکا تدارک کرنا آسان ہے جبکہ ادب کیونکہ  اعمال سے جھلکتا ہے ، اسکے کوئی لگے بندھے اصول نہیں، چنانچہ یہ قدر تیزی سے رُوبہ زوال ہے اور ہماری قوم مغرب کی اندھا دھند تقلید میں اپنی ادبی روایات کو فراموش کرتی جا رہی ہے۔   نام نہاد صاف گوئی اور بے باکی کی تربیت نے اس قدر کے زوال میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا اور پھر جس کا جیسے جی چاہا ، وہ مغربی کلچر اور تہذیب و اطوار کو ویسے  معاشرے میں پھیلانے  میں ذمہ دار ٹھہرا، آپ میڈیا کی مثال ہی لے لیجئے، سارا دن  سیاسی لڑائیاں ، اخلاق سے گری ہوئی جگت بازی اور عاشقی بھرے ڈرامے دکھانے کے علاوہ کسی کام سے مطلب نہیں ، کُجا یہ کہ کوئی ادبی اور معاشرتی اقدار سے متعلق پروگرام کسی چینل پر نظر آجائے۔

 ہمارا فرض بنتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی تنظیمِ نو کیلیے اس ادبی قدر کو پھر سے زندہ کیا جائے اور اسکے لیے ضروری ہے کہ ادب کو مقید کرنے کی بجائے اسکے آفاقی معانی و مطالب سے آشنائی حاصل کی جائے۔آج  معاشرے کے زوال کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اولاد کو والدین کا ادب نہیں  نہ والدین کو اولاد کا، شاگرد کو استاد کا ادب نہیں اور استاد کو شاگرد کانہیں، رہنے والے  اپنی جگہ اور رہائش کا ادب نہیں کرتے ۔ ہر شخص، ہر جگہ، ہر لمحہ، ہر مقام، ہر گائوں، ہر محلہ، ہر شہر، ہر وجود، ہر چہرہ ، ہر سوچ اور ہر خیال ایک خاص قسم کے ادب کا متقاضی ہے۔والدین کے ادب پر ہزاروں کتابیں موجود ہیں، اولاد کا ادب کسی کو معلوم نہیں۔ اولاد کا ادب یہ ہےکہ  انہیں گالی دینے ، مغلظات بکنے سے پرہیز کیا جائے جو کہ ہمارے اکثر گھروں میں عام ہے۔  پاکستان کا ادب یہ ہے کہ اس دھرتی کا ادب کیا جائے، اسکی تعمیر و ترقی کیلیے کوشش کی جائے اور دھرتی کے ادب کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دھرتی میں بسنے والو ں کا ادب کیا جائے، گویا پاکستان سے محبت  کے دعوے داروں کیلیے  ہر پاکستانی کا ادب لازم ہے خواہ وہ کسی بھی صوبے، قوم یا مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔

خموش اے دل!، بھری محفل میں چِلّانا نہیں اچھّا
ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں

موءدب بننے کا بہترین فارمولہ یہ ہے کہ تخلیق اور  مخلوق کو خالق کی نسبت سے دیکھا جائے، ادب خود بخود پیدا ہو جائے گا۔ ہر شخص کے بارے میں اگر  یہ سوچ پروان چڑھائی جائے کہ یہ اللہ کی مخلوق ہے تو خود بخود نسبت کی وجہ سے ادب کرنے کو دِل چاہے گا۔ کچھ لوگ صوبائی ، لسانی اور قومیت پرستی میں دوسری اقوام پر کیچڑ اچھالتے ہیں، اگر یہ یقین پیدا ہو جائے کہ سب کا  پیدا کرنے والا ایک خالق ہے تو یہ سارے معاملات بھی حل ہو جائیں۔ نظارے  اور دنیا کی رعنائیاں اسی خالق کی نشانیاں ہیں، ہر چیز کی نسبت اسکے ساتھ ہے ، دیکھنے والی آنکھ اور  تدبر کرنے والی سوچ چاہیے ،سیرتِ مبارکہﷺ کو پڑھ کر دیکھیں ، دشمن کا ادب بھی نظر آئے گا۔

مزید پڑھیں: کیا خوف اپنا وجود رکھتا ہے؟

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں