sad urdu poetry
  • Save

پسِ منظر:

فیصل آباد آرٹس کونسل کے زیرِ اہتمام منعقد کردہ شاعری مقابلے میں ہمیں مندرجہ بالا مصرعہ بطور ‘طرح مصرعہ’ دیا گیا تھا۔ وقت یہاں بھی دو گھنٹے کا تھا۔ چنانچہ دو گھنٹوں کے دوران ربِ رحمان   کی مرضی سے جن اشعار کا نزول اس ناچیز پر ہوا، وہ سب ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

صیحیح معنوں میں ان اشعار کا مزہ لینے  کیلیے دردِ دل کا ہونا بہت ضروری ہے۔ میرے ایک استادِ محترم فرماتے ہیں کہ  الفاظ لکھتے وقت جو کیفیت آپ پر طاری ہوتی ہے، یہ ہو نہیں سکتا کہ پڑھنے والے اُس کیفیت سے نہ گزریں۔ اللہ کریم پڑھنے والوں پر بھی وہ کیفیت لازمی طاری کر دے گا۔ اور میری دعا ہے کہ  پڑھتے  وقت آپ اُس درد کی کیفیت سے گزریں، جس سے میں گزر ا ہوں تاکہ آپ کو احساس ہو کہ درد کسے کہتے ہیں، احساس کیا ہوتا ہے، کیفیت کس بلا کا نام ہے، غم گساری ، درد مندری ، اور کسلمندی کن چیزوں کا نام ہے اور  قوم کا غم کسے کہا جاتا ہے۔

وہ سُخن عطا کر ، جو امیدوں کی سحر دے
ہر لفظ کے پہلو سے جو خوشبو کی خبر دے

اتر جائے جو ہر دل میں کسی بحر کی مانند
میرے بہکے ہوئے لفظوں کو تسلسل کی لہر دے

میری سوچوں سے ہٹا دے یہ سبھی  قید کے بندھن
اس قفس کے شاہیں کو بھی پروازِ ہنر دے

دشتِ دنیا میرے آگے ہے، مصائب کا سفر ہے
گر دشتِ سفر دے تو وسعت کی نظر دے

دندناتے ہیں میرے شہر میں انصاف کے قاتل
ان سب پہ قہر کر، میرے لوگوں کو صبر دے

قلب خالی ہیں یہاں عالمِ وحشت کے سبب
تو میری قوم کو لوگوں کو ذرا دردِ جگر دے

یا رب یاں سیاہی ہے، اندھیرا ہے، ظلم ہے
ہر قلبِ پریشاں کو اُجالے کی خبر دے

شاعر: محمد اطیب اسلم

مشکل الفاظ کے معانی:

سُخن: آواز
سحر: صبح
بحر: سمندر
تسلسل: روانی
قفس: پنجرہ
دشتِ دنیا: صحرا جیسی دنیا
وسعت: وسیع، پھیلا ہوا، محیط
دندناتے ہیں: پھرتے ہیں
عالمِ وحشت: وحشت کی کیفیت، دیوانے پن کی کیفیت
قلبِ پریشاں: پریشان دل
اجالا: روشنی

غزل: تو پھر ملے گا تو کتنا بدل گیا ہو گا

غزل: درد کاغذ پہ اتر جاتا ہے پانی کی طرح

غزل: دل نے چاہا کہ کوئی رنج اٹھا کر دیکھوں

Latest posts by Muhammad Ateeb Aslam (see all)

اپنا تبصرہ بھیجیں